fbpx

انا کا بت

تحریر: محمد اسمٰعیل بدایونی.

انا کا بت ۔۔۔۔۔

کتنی دیر تک منہ دھونے کے بہانے آنسوؤں کو چھپاتی رہو گی؟
نہیں میں رو تو نہیں رہی امی ! مدرا نے اپنی سر خ ہوتی آنکھوں کو اپنی ہتھیلی سے مسلتے ہوئے کہا 
بات بہت معمولی سی ہی تو تھی میں نے خود بات کو بڑھاوا دیا ۔۔۔۔ مدرا نے خود سوچا اسے اپنی غلطی کا احساس ہو رہا تھا
مدرا اپنے شوہر سے ناراض ہو کر اپنی والدہ کے گھر بیٹھ گئی تھی ۔ایک ماہ ہو چکا تھا ندیم نے پلٹ کر نہیں پوچھا تھا ۔

مدرا ! زندگی برداشت کانام ہے ۔۔۔بعض اوقات ہم سامنے والے کو خواہ مخواہ اپنا دشمن سمجھ لیتے ہیں پھر اس کی ہر بات ہمیں بری لگتی ہے۔۔۔۔۔
یہ جو تمہارے من میں مندر ہے نا اس کو توڑ دو ورنہ مجازی خدا کو کبھی نہیں پا سکو گی ۔
امی ! آپ بھی ! مدرا ایک مرتبہ پر سسک کر رو پڑی 
مدرا کی والدہ نے مدرا کو سینے لگایا اور کہا :میری جان! انا کا بت بڑا ظالم ہو تا ہے جو اس کی پرستش میں لگ گیا نا ! یہ اس کو ساری دنیا میں رسوا کرا تا ہے ۔
سومنات کا بت ریزہ ریزہ ہوا تو بنی نوع انسان کو چین ملا ۔۔۔۔۔لات و ہبل خاک میں ملے تو انسان نے انسان کو سمجھا ۔۔۔۔

اس اندر کے بت کو توڑ دو جسے تم نے انا کا نام دیا ہوا ہے مدرا! اس بت کو پاش پاش کیے بغیر تم خوشیوں کو ہمیشہ ترستی رہو گی ۔۔۔۔۔یہ انا کا بت تم سے تمہاری خوشیوں کی بھینٹ مانگتا رہے گا اور تم چڑھاتی رہو گی۔۔۔۔من کے مندر میں برا جمان یہ انا کا بت بہت سفاک ہے انسان اس کی پرستش میں اپنا سب کچھ قربان کر کےبھی سکون نہیں پاتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مدرا کے سسکنے کی آواز تیز ہو چکی تھی 
مدرا کی والدہ مدرا کے سر کو سہلا رہی تھیں مدرا کچھ دیر میں پر سکون ہو گئی
تم ندیم کو فون کرو اور اس سے اپنی غلطی کی معافی مانگو .

میں فون کروں مدرا نے ہکلاتے ہوئے کہا ۔
ہاں ! کیا تم ابھی بھی انا کے بت پر اپنی خوشیوں کا چڑھاوا چڑھانا چاہتی ہو ؟
نہیں امی ! نہیں بالکل نہیں میں ندیم کو فون کرتی ہوں ۔
ٹرن ٹرن ۔۔۔ٹرن ۔۔فون کی بیل بج رہی تھی 
السلام علیکم ! ندیم ! آپ مجھے معاف کر دیں ،آپ مجھے لینے آجائیں پلیز میں آپ کے بغیر نہیں رہ سکتی ۔۔۔۔نہیں رہ سکتی پلیز آپ مجھے لینے آجائیں ۔مدرا پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی .

کچھ دیر کے بعد ندیم اپنے سسرال میں موجود تھا مدرا کے چہرے پر خوشیوں کی ایک الگ ہی چمک تھی اور کیوں نہ ہوتی کہ آج انا کا بت پاش پاش ہوگیا تھا ۔۔۔۔۔یہ انا ہی کا بت تو ہے جو خوشیوں کو کھا جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔مجازی خدا سے سچا عشق انا کے بت کے ساتھ نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔۔۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Translate »
Close
Close