"تبدیلی” کی ہوا پنجاب کی ٹیل پر بھی پہنچ گئی

رحیم یارخان : "تبدیلی” کی ہوا پنجاب کی ٹیل پر بھی پہنچ گئی ، بغل میں چھری ، منہ میں رام رام کی پالیسی پر عمل پیرا پی ٹی آئی ارکان اسمبلی اور ان کے حواریوں نے پہلے بھائیوں ، کزنوں ، بھتیجوں اور بزنس پارٹنرز کو "آگے” کر کے  اپنی ہی حکومت اور انتظامیہ کیخلاف شٹرڈائون ہڑتالیں کروائیں پھر نجی محفلوں میں وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ عثمان بزدار کو نااہل ، ناتجربہ کار اور ناکام حکمران قرار دینا شروع کر دیا ، اب نئی ” تبدیلی ” یہ آئی ہے کہ تین صوبوں کے سنگم  کی "ڈیلٹا فورس” کہلانے والا یہ  "آکٹوپس گروپ”  دیدہ دلیری کی انتہا کرتے ہوئے ایک طرف "بزدار سرکار” کے خلاف  سینہ گزٹ کا "سونامی” لے آیا ہے تو دوسری طرف پرنٹ اور سوشل میڈیا پر صوبائی حکومت ، ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی مکمل ناکامی کے شور وغوغا کا غیر معمولی طوفان برپا کر دیا گیا ہے،
 پی ٹی آئی کے نظریاتی کارکن جب اس صورتحال کے "پیچھے”    دیکھتے ہیں تو اپنے ہی منتخب ارکان اسمبلی  اور ان کے تنخواہ دار ایجنٹوں کو "سرگرم ” پا کر غمزدہ ہو جاتے ہیں  ، گویا
 دیکھا جو تیر کھا کے کمیں گاہ کی طرف
اپنے ہی "دوستوں”  سے ملاقات ہو گئی
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ تین صوبوں کے سنگم کی اس ” ڈیلٹا فورس” نے حالیہ چند ہفتوں کے دوران اپنے گروپ کے خاص خاص لوگوں کو یہ یقین دہانی کروائی ہے کہ ملک میں کسی ممکنہ سیاسی تبدیلی کی صورت میں نیا سیٹ اَپ بھی "اپنے لوگوں” پر ہی مشتمل ہوگا اس حوالے سے مسلم لیگ ق اور مسلم لیگ ن کی بااثر قیادت سے ملاقاتوں اور یقین دہانیوں کا حوالہ بھی دیا جا رہا ہے ، ذرائع کا کہنا ہے کہ بزدار سرکار کی ناکامیوں کے بارے میں ان پی ٹی آئی ارکان اسمبلی اور ان کے حواریوں کی تازہ ترین پروپیگنڈہ مہم کا ایک مقصد مستقبل قریب میں کسی نئی "مہم جوئی” کا حصہ بننے کیلئے "گرائونڈ” ہموار کرنا بھی  ہے ۔
ارب پتی پی ٹی آئی ارکان اسمبلی کی سرکردگی میں قائم تین صوبوں کے سنگم کی "ڈیلٹا فورس” میں شامل 25 کے قریب کروڑ پتی گھرانوں کے وائٹ کالر کرائمز کی فہرست اتنی خوفناک ہے کہ یہ گروپ اپوزیشن میں رہنا افورڈ ہی نہیں کرسکتا ، اس لیئے پچھلے 25 برسوں سے ہر نئی تبدیلی آنے سے پہلے ہی "تبدیل” ہوتا آیا ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس گروپ کے اکثر ارکان کی 1996 سے پہلے کی اور بعد کی "زندگی”  کا موازنہ کرنے پر خود نیب اہلکار بھی ششدر رہ جائیں گے ، 25 ، 30 سال پہلے چپڑاسی ، منشی ، آرڈر ٹیکر ، تہہ بازاری کلرک ، چائے والا جیسے کام کرنے والے یہ "کھلاڑی” 20 برسوں کے اندر ارب پتی کیسے بنے؟ یہ ایک انتہائی سنسنی خیز داستان ہے کہ جو بالی ووڈ کی کسی فلمی کہانی سے کم دلچسپ نہیں ، ڈیلٹا فورس کے ایک "ابا جی” کے بارے میں بتایا جا تا ہے کہ 1996 سے پہلے وہ کئی سال تک 700 روپے ماہانہ تنخواہ پر ایک آڑھتی کے منشی رہے اور بائی سائیکل پر شہر کی مختلف کاٹن فیکٹریوں کے چکر لگا کر کپاس کے بورے گنتے پھرتے تھے ، اور پھر ڈیلٹا فورس کی "برکت” سے  20 سال کے اندر ارب پتی بن گئے ۔
 
 ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈیلٹا کاٹن سے کاٹن کنگ اور رائس کوئین تک کے اس سفر میں ایسے لرزہ خیز واقعات پیش آئے کہ ایک ایک "میگا کرائم”  پر پوراپورا ناول لکھا جاسکتا ہے ، اس دوران کبھی سندھ پنجاب بارڈر کے اُس پار کے ہندو سیٹھ کو "ذبح” کیا گیا تو کبھی سندھ پنجاب بارڈر کے اِس پار کے بہت بڑے بروکر کو اس کی بزنس لائف کے ” مڈوے” میں ہی معاشی و جمسانی "ماورائے عدالے ہلاکت”  سے دوچار کر دیا گیا ، اس گروپ نے اپنا ” بڑا آغاز” چونکہ  ڈیلٹا کاٹن سے کیا تھا اس لیئے "رازدان حلقے ” انہیں ” ڈیلٹافورس” کہتے ہیں ، ڈیلٹا کاٹن سے  شروع ہوکر چناب کمرشل سنٹر تک  نجی اور سرکاری "لوٹ مار” کی  اس لرزہ خیز داستان کے ” لیول ” کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مبینہ طور پر "مڈوے اسکینڈل” میں پولیس کے ذریعے "اغوا برائے تاوان” کر کے 34 کروڑ روپے کی "وصولی” کی گئی جبکہ مختلف سرکاری محکموں کی کم وبیش 30 کروڑ روپے کی  قیمتی سرکاری زمین چناب کمرشل سنٹر میں  "شامل ” کر کے مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف میں شمولیت کی "بھاری قیمت” وصول کی گئی ۔ یہ صرف 2 اسکینڈلز میں کی گئی لوٹ مار کے دل ہلا دینے والے اعداد وشمار ہیں ، آٹے ، گندم اور ایرانی تیل کی اسمگلنگ ، بلیک مارکیٹنگ ، ملاوٹ ، سیلاب متاثرین اور رمضان بازاروں کیلئے آنے والے کروڑوں روپے کے آٹے ، چینی ، گھی ، دالوں کی خورد برد ، محکمہ خوراک کی کروڑوں روپے کی گندم کی خورد برد ، بجلی چوری ، ٹیکس چوری سمیت کوئی بھی اسکینڈل سو پچاس لاکھ کا نہیں ،کہنے کو تو یہ نیا پاکستان ہے لیکن کام سارے پرانے پاکستان والے ہی ہو رہے ہیں ،  پچھلے کئی ماہ سے چینی ، گندم اور آٹے کی افغانستان کو اسمگلنگ کا دھندہ بھی انتہائی  دیدہ دلیری سے جاری ہے اور بعض خفیہ رپورٹوں کے مطابق روزانہ ڈیڑھ سو کے قریب ٹرک کوٹ سبزل کے راستے بلوچستان جا رہے ہیں ۔ اس آکٹوپس  گروپ میں شامل کئی فلور ملز مالکان  کیخلاف گندم اور آٹے کی اسمگلنگ کی بہت سی ایف آئی  آرز بھی درج ہوئیں ، چھاپوں کے دوران آٹے میں چاول کے برادے "نکو” کی ملاوٹ بھی پکڑی گئی ، کئی بار تو تحریری کارروائی اور چالان بھی کیا گیا لیکن "ڈیلٹا فورس” کی ” چمک ” کا کمال یہ ہے کہ تمام ملزم  فلور ملز مالکان اور اُن کی فلور ملز کسی بھی قسم کے احتساب سے بالاتر ہیں اور پہلے سے بھی بڑھ کر یہ ” کالا دھندہ” جاری رکھے ہوئے ہیں ۔۔۔۔۔ ہاں ایک مسئلہ یہ ضرور ہے کہ اپنے ان بھیانک جرائم کی وجہ سے یہ گروپ  اپوزیشن میں رہنا افورڈ نہیں کرسکتا۔ اس لیئے یہ کہا جا رہا ہے کہ "ڈیلٹا فورس” کا کسی بھی ممکنہ تبدیلی کی صورت میں ایک بار پھر ” تبدیل ” ہو جانا ” دیوار پر لکھا ہے ۔
 
ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب کی ٹیل پر  وزیراعلیٰ عثمان بزدار، وفاقی وزیر  نیشنل فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ مخدوم خسرو بختیار اور صوبائی وزیر خزانہ مخدوم ہاشم جواں بخت کی حالیہ  کردار کشی کیلئے مقامی  پی ٹی آئی رہنمائوں اور ارکان اسمبلی کی   نجی محفلوں میں "آف دی ریکارڈ” گفتگو تو کئی ماہ سے جاری تھی لیکن اب "اپنی حکومت” کی نااہلی کے بارے میں "رونا پیٹنا” پرنٹ اینڈ سوشل میڈیا پر بھی شروع کروا دیا گیا ہے ،  دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں ایم پی ایز چوہدری محمد شفیق آف چناب گروپ اور چوہدری آصف مجید  کے جو میڈیا کوآرڈینیٹرز چند ماہ پہلے تک صوبائی وزیرخزانہ مخدوم ہاشم جواں بخت  پر صدقے واری جا رہے تھے انہیں اب اچانک ان میں کیڑے نظر آنے لگے ۔
 دلچسپ بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی ارکان صوبائی اسمبلی چوہدری محمد شفیق آف چناب گروپ اور چوہدری آصف مجید نے اپنی جماعت کے برسراقتدار آنے پر اپنے میڈیا کوآرڈینیٹرز کو ڈسٹرکٹ پریس کلب رحیم یارخان کا صدر اور جنرل سیکرٹری منتخب کروایا تھا، ان کی حلف برداری کیلئے صوبائی وزیرخزانہ مخدوم ہاشم جواں بخت  سے ٹائم مانگا جاتا رہا لیکن ٹائم نہ مل سکا ، جس پر حلف برداری ڈسٹرکٹ پریس کلب کی تاریخ میں پہلئ بار سات آٹھ ماہ لیٹ ہو گئی ، حلف برداری کی تقریب میں خوشامد کی انتہا کرتے ہوئے "نومنتخب” صدر احسان الحق نے اپنے خطاب میں یہاں تک کہہ دیا کہ ” ہم نے تہیہ کر رکھا تھا کہ کہ مخدوم صاحب ہمیں ٹائم دیں گے تو ہم حلف اُٹھائیں گے ۔۔۔۔۔ ایک طرف محبت اور خوشامد کی یہ انتہا اور دوسری طرف اپنے کل 5 دسمبر 2019 کو ایک قومی اخبار کے ملک گیر ایڈیشن میں چھپوائے گئے مضمون میں موصوف نے اسلام آباد اور لاہور میں جنوبی پنجاب کی نمائندگی کرنے والے رحیم یارخان سے تعلق رکھنے والے  وفاقی و صوبائی وزرا کو "ڈرامے باز” اور علاقے کے عوام کی بدقسمتی قرار دیدیا ہے ۔۔۔۔ دوسری طرف کہ پی ٹی آئی ارکان صوبائی اسمبلی چوہدری محمد شفیق آف چناب گروپ اور چوہدری آصف مجید کے 2 دوسرے میڈیا کوآرڈینیٹرز رائو نعمان اسلم اور قیصر غفور چوہدری نے اپنے مقامی اخبارات میں رحیم یارخان کے  جرائم کی دلدل اور کچرے کا ڈھیر بن جانے کے حوالے سے شہ سرخیاں شائع کرنا شروع کر دی ہیں ۔۔۔۔ اس اچانک کایا پلٹ پر اکثر لوگ حیران ہیں لیکن جنہیں ” مرغ باد نما ” کے مطلب کا پتہ ہے وہ بس زیر لب مسکرا رہے ہیں کیونکہ صدیوں پرانا یہ "دیسی آلہ” ہوا کے بدلتے ہوئے رخ کا پتہ دیتا آیا ہے ، کھلاڑیوں اور کپتان کیلئے اپنے ارکان اسمبلی کی یہ لوٹا سیاست بلاشبہ ذہنی صدمے کا باعث ہو گی لیکن ایسا تو ہونا ہی تھا کیونکہ جو لوٹے گھومنے والے ہوں وہ نئے حالات دیکھ کر گھوم ہی جاتے ہیں اور جو تیزی سے گھومنے والے لوٹے ہوں وہ تیزی سے گھوم جاتے ہیں ۔

بغل میں چھری ، منہ میں رام رام کی پالیسی پر عمل پیرا پی ٹی آئی ارکان اسمبلی اور ان کے حواریوں کے ایک "کارنامے” کی رپورٹ ، جب انہوں نے اپنے  بھائیوں ، کزنوں ، بھتیجوں اور بزنس پارٹنرز کو "آگے” کر کے  اپنی ہی حکومت اور انتظامیہ کیخلاف شٹرڈائون ہڑتالیں کروائیں

Show More

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Translate »
Close
Close