fbpx

حافظ سعید کی گرفتاری کا عمران حکومت کو کیا نقصان ہونے والا ہے ؟

رحیم یارخان (ویب ڈیسک) عمران خان کے امریکہ پہنچنے سے پہلے پاکستان میں جماعت الدعوہ کے سربراہ حافظ سعید اور ان کے کئی ساتھیوں کو گرفتار کیا جا چکا تھا۔حافظ صاحب کی گرفتاری پر تو صدر ٹرمپ نے خوشی سے بغلیں بھی بجا ڈالی تھیں۔لیکن سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو جس طرح نیب نے دبوچا،

نامور کالم نگار مجیب الرحمان شامی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔اس پر عمران خان صاحب کو بھی تاسف کا اظہار کرنا چاہیے۔الجھے ہوئے سوالات کے کھرے اور سیدھے جوابات حاصل کرنے کے باوجود پاکستان کے ایک دیانتدار اور پاکباز سیاست دان کی شہرت رکھنے والے شخص کو گرفتار کر کے مشکلات کھڑی کر لی گئی ہیں۔ایل این جی کی درآمد اور ٹرمینل کی تعمیر میں حیران کن کامیابی پر پٹرولیم وزیر کے طور پر شاہد خاقان عباسی کو ایوارڈ ملنا چاہیے تھا، لیکن کم صلاحیت تفتیش کاروں نے اسے ایک مسئلہ بنا کر رکھ دیا۔پاکستان کے نظام عدل کے لیے بھی یہ گرفتاری ایک چیلنج ثابت ہو گی، اور پاکستانی سیاست کے لیے بھی۔ اُجلے سیاست دان قوم کی متاعِ عزیز ہوتے ہیں، ان کو داغدار کرنے کی بے جا کوششیں قومی نفسیات اور وقار کو مجروح کرنے کے مترادف ہی سمجھی جائیں گی،اور تاریخ ان کو اسی حوالے سے یاد رکھے گی۔ افغانستان میں قیام امن امریکہ کی اولین ترجیح ہے،پاکستان کے لیے بھی اس کی افادیت سے انکار ممکن نہیں۔عمران خان کے ساتھ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ بھی امریکہ میں ہوں گے،گویا طاقت اور سیاست کے قدم ملے ہوئے ہوں گے۔پاکستان اور امریکہ دونوں کو ماضی سے بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے، ہمیں اپنی ضرورت سے غافل نہیں ہونا چاہئے۔ وزیراعظم عمران خان نے اس دورے کے دوران سادگی اور کفایت کی جو روایات قائم کی ہیں،اس سے پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان، اور پہلے فوجی صدر فیلڈ مارشل ایوب خان کے دوروں کی یادیں تازہ ہوئی ہیں۔ توقع کی جانی چاہیے کہ وزیراعظم عمران خان جب واپس آئیں گے،تو ایک مدبر رہنما کے طور پر بھی ان کا تعارف ہو چکا ہو گا۔انتظار کرنے والی تالیوں کو مایوسی نہیں ہو گی۔(rahim yar khan)

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Translate »