fbpx

خون کا نیا ٹیسٹ، جو درد کی پیمائش کرسکتا ہے

انسانی جسم کے کسی بھی حصے میں درد کو ناپنے کے لیے ابتک کوئی آلہ نہیں بنایا جاسکا تاہم اب اس کے لیے خون کا ایک ٹیسٹ ضرور وضع کرلیا گیا ہے۔

انڈیانا یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن کے ماہرین نے ایک ایسا بلڈ ٹیسٹ ایجاد کیا ہے جو مریضوں میں درد کی شدت کی نشاندہی کرسکتا ہے۔ اس کے لیے ماہرین نے مختلف اقسام کے درد میں مبتلا سینکڑوں افراد کے خون کے نمونوں میں ایسے بایو مارکرز (کیمیکلز) دیکھے ہیں جو مخصوص درد کی صورت میں بڑھ جاتے ہیں۔

جامعہ میں نفسیاتی معالجے کے پروفیسر الیگزینڈر نکولیسکو کی رپورٹ اس ہفتے نیچر کے ذیلی جریدے مالیکیولر سائیکائٹری میں شائع ہوئی ہے۔ انہوں نے اپنی نوعیت کے اس پہلے بلڈ ٹیسٹ میں سینکڑوں مریضوں پر تحقیق کی ہے جس سےدرد کو سمجھنے اور اسے کم کرنے میں بہت مدد ملے گی۔

’ ہمارے پاس اب ایسا بلڈ ٹیسٹ آگیا ہے جو معالجین کو واضح انداز میں مریض کے درد سے آگاہ کرسکتا ہے۔ مریض بسا اوقات اپنے درد کو درست انداز میں بیان نہیں کرپاتے لیکن اس ٹیسٹ سے تکلیف کا درست اندازہ کرکے علاج میں مدد ملے گی،‘ ڈاکٹر الیگزینڈر نے کہا۔

امریکا میں لوگ درد دور کرنے کے لیے افیون سے کشید کردہ کم شدت کی دوائیں کھارہے ہیں جس پر حکومت پریشان ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس طرح عوام کا بڑا طبقہ ممنوعہ اشیا کا عادی ہوتا جارہا ہے۔ امید ہے اس ٹیسٹ سے متبادل علاج کی راہیں بھی کھلیں گی۔

پہلے مرحلے میں شدید درد کے شکار افراد کے بایومارکر کا ڈیٹابیس بنایا جائے گا اور ان کی تکلیف کی درجہ بندی کی جائے گی۔ اس کے بعد ہر نئے مریض کے خون میں بایومارکر کا موازنہ ڈیٹا بیس سے کرکے درد کی شدت ناپی جائے گی۔ دوسری جانب دوا کے بعد خون کی کیمیکل میں کمی بیشی سے اس دوا کی تاثیر معلوم کرنے میں بھی مدد ملے گی اور دوا کی درست مقدار دینے میں بھی رہنمائی ملے گی۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Translate »