fbpx

رحیم یارخان کی تاریخ

Rahim Yar khan
رحیم یارخان کی تاریخ

 اکتوبر 1947 ءکو ریاست بہاولپور کےالحاق پاکستان کادستخط ہوئے, تاہم اس کی علیحدہ شناخت بحال رہی 1953 تک احمد پور شرقیہ ضلع رحیم یارخان کا حصہ رہا تقسیم کے وقت بے شمار مہاجرین ضلع رحیم یارخان میں آئے تو ہندو اس وقت موجود تھے .

ہندوﺅں نے 1948 میں نقل مکانی کی بقول شیخ عظیم اشرف ایڈووکیٹ کہ ضلع رحیم یارخان کی تاریخ شہر میں کسی ہندو کو قتل نہیں کیا گیا ۔

قیام پاکستان سے قبل محرم میں صرف ایک تعزیہ محمود شاہ کا نکلتا تھا مسلمانوں کے ساتھ ہندو بھی سبیلیں لگاتے تھے۔

ان ہندوﺅں کے متروکہ مکان بعدازاں مسلمانوں کو الاٹ ہوئے ۔

شہر میں مسجد نظامت اس وقت کی نظامت کی یادگار موجودہے (جہاں نوشہرہ نظامت کے سارے دفاتر ہوتے تھے ) شہر میں ایک ہی سینما تھا

جسے منڈوا کہتے تھے اس کا نام فرینڈز ٹاکیز تھا جس کا نام بعد میں نشاط سینما رکھا گیا  ۔

امپرومنٹ ٹرسٹ کے تحت بزنس مین کالونی ، زمیندارہ کالونی ، ماڈل ٹاﺅن اور مہاجر کالونی (صادق ٹاﺅن ) کی رہائشی کالونیاں بنائی گئیں ,صادق بازار، شاہی روڈ اور بانو بازار کی کمرشل سکیمیں ڈیزائن کی گئیں ۔ 

انجینئر نور علی حسن ضامنی امپروومنٹ ٹرسٹ کے سربراہ تھے ۔
اس کے ساتھ ساتھ ٹاﺅن ہال ، دفتر بلدیہ ، ڈپٹی کمشنر آفس ، تحصیل آفس
سول عدالت ہائے کے دفاتر تعمیر کروائے ۔

پائلٹ سکول،خواجہ فرید گورنمنٹ کالج تعمیرہوا۔

پرانے بازار صدر بازار، سکول بازار اور پرانا ڈاکخانہ بازار کی مرمت کروائی گئی۔

رحیم یارخان کی تاریخ

ضلع رحیم یار خان

ء1900میں ضلع رحیم یارخان کی آبادی 4475 نفوس پر مشتمل تھی جس میں 2532 مرد اورخواتین کیتعداد 1943 تھی

جبکہ 1972ء کی مردم شماری کےمطابق تحصیل رحیم یارخان کی آبادی میں 4,36,677 اور 1981 ءکی مردم شماری کے مطابق 575,283اور1998ءمیں 9,85,655 تھی جن میں خواتین کی تعداد 4,71,284 اور مردوں کی 5,14,371 تھی ۔

اب تین اعشاریہ ایک کے شرح اضافہ کے مطابق رحیمیارخان تحصیل کی آبادی 12,91,208 ہے ۔جبکہ شہری آبادی 3,27,886ہوگئی ہے

ضلع رحیم یار خان کی موجودہ  ترقی کی تاریخ | رحیم یارخان کی تاریخ 

شیخ زید ائر پورٹضلع رحیم یار خان کے پہلے ہیڈکوارٹر خان پور میں سول ہوائی اڈا 1920میں برٹش انڈیا گورنمنٹ نے تعمیر کیا جبکہ رحیم یار خان میں کا ہوائی اڈا بنایا گیاجو 1957 میں وفاقی حکومت کے حوالے کردیا گیا ۔

کراچی سکھر رحیم یار خان روٹ پرPIA کی ڈکوٹہ سروس یکم فروری تا یکم جولائی 1967  چلائی گئی ۔

90ء کی دہائی میں شیخ زائد ائرپورٹ قائم کیا جو جدید سہولتوں سے مزین ہے اور  جہاں بوئنگ تک اترنے کی سہولت موجود ہے ۔

اور اب دبئی کی براہ راست پروازیں بھی شروع ہوگئیں ہیں| رحیم یارخان کی تاریخ

٭برصغیر میں ریلوے لائن 1835ء میں بچھائی گئی جبکہ 1880  میں متعدد ریلوے سٹیشن بنائے گئے

٭ضلع رحیم یار خان میں  کے ایل پی  روڈ پہلے کچی تھی پھر پہیوں کی جگہ کیلئے تین فٹ کی سولنگ بچھائی گئی  1956-61 کے درمیان سنگل روڈ پختہ بنائی گئی

  1962-76 میں اسے ڈبل کردیا گیا جبکہ 1995 سے اسی شاہراہ کو موٹروے کی طرز پر دورویہ بنانے کاکام شروع ہوا جو اب پایہ تکمیل کو پہنچ چکا ہے ۔

اور ضلع رحیم یارخان کی خوبصورت سڑک ہے جہاں ٹول پلازہ قائم کیئے گئے ہیں ۔موٹرے وے پولیس تعینات ہیں۔جس سے حادثات میں کئی گناکمی واقع ہوئی ہے ۔اور دیگر واردتیں نہ ہونے کے برابر ہیں ۔

٭ ضلع رحیم یار خان میں سب سے پہلا بنک عباسیہ کواپریٹو بنک لمیٹڈ اپریل 1952  میں کھلا ۔ باقی بنک اس ترتیب سے کھلے ہیں

نیشنل بنک

حبیب بنک لمیٹڈ

مسلم کمرشل بنک

الائیڈ بنک لمیٹڈ

یونائیٹڈ بنک لمیٹڈ

1953

1961

1962

1964

1966

٭ 1952ء سے قبل یہاں بجلی نہ تھی مکینیکل اینڈ الیکٹریکل ڈیپارٹمنٹ ریاست بہاولپور  کی طرف سے ڈیزل کے ذریعے 1952ء  میں 648کلوواٹ کا رحیم یار خان کے لئے بجلی گھر لگایا گیا اور 1953ء میں 225 کلوواٹ کا خانپور میں بجلی گھر لگایا جس سے عوام کو بجلی مہیا کی گئی ۔

  ریاست کے ختم ہونے پر پنجاب پی ڈبلیو ڈی کے شعبہ بجلی نے دونوں بجلی گھروں کو اپنی تحویل میں لے لیا اور 1959  ء میں واپڈا کے قیام کے بعد 1964 ء ان شہروں کو نیشنل گرڈ سٹیشن سے جوڑ دیا گیا ۔

٭  پولیس کا محکمہ کرنل منچن نے 1867ء میں متعارف کرایا اس سے پہلے کوتوال (مساوی ایس پی ) ہوتے تھے اور پوری ریاست میں صرف تین کوتوال ہوتے تھے ان میں سے ایک خان پور میں ہوتا تھا ۔

٭1866-1870 کے درمیان خانپور اور رحیم یارخان میں کل دو لاک اپ تھے اور ایک خان پور جیل تھی جو سیلاب کی نذر ہوگئی ۔

1870ء میں سنٹرل جیل بہاولپور کی تعمیر کی وجہ سے ضلع رحیم یار خان 1949ء تک جیل سے محروم رہا ۔

1949ء میں 250  قیدیوں کے لئے رحیم یار خان میںایک جیل بنائی گئی جس کی اب تک توسیع نہ کی گئی ہے جبکہ اس میں کم و بیش ایک ہزار کے قریب قیدی قید ہیں

٭ ریاست میں لمبرداری یا نمبرداری نظام 1875  اور چوکیدارہ نظام 1876 ء میں متعارف کرایا گیا ۔

 مندرجہ بالا مضمون کے کچھ حوالہ جات  درج ذیل کتب اور مضامین سے براہ راست لئے گئے ہیں جبکہ انہوں نے اس کے حوالے دیگر کتب سے نقل کئے ہیں
۔   سعید احمد سعید کی کتاب ” رحیم یار خان کی سیاسی تاریخ ”
۔  جناب نسیم بلوچ کی زیرادارت  شائع  ہونے والا ”  بانگ سحر” (گورنمنٹ ترقی تعلیم کالج خان پور   رحیم یار خان ) سے اقتباسات

رحیم یارخان کی تاریخ

بشکریہ آج تک پی کے 

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Translate »
Close
Close