شہری ناصر علی لاپتہ کرنے والے پولیس افسروں اور اہلکاروں پر ایف آئی آر درج کرنے کا حکم

 لاہور ہائیکورٹ بہاولپور بینچ نے صادق آباد کے شہری ناصر علی کی فوری بازیابی اور گرفتار کرکے لاپتہ کرنے والے پولیس افسروں اور اہلکاروں پر ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دے دیا اور کہا ہے کہ اگر سی آئی اے صادق آباد پولیس کے متعلقہ افسران ناصر علی کو پیش نہیں کرتے تو ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے اگلی پیشی پر 27 مئی کو لاپتہ شہری ناصر علی اور اسے اٹھانے والے پولیس افسروں اور پرائیویٹ افراد کو عدالت میں پیش کیا جائے۔ تفصیل کے مطابق لاپتہ شہری ناصر علی کے ورثاء کی رٹ پٹیشن کی سماعت کے دوران بار بار مؤقف تبدیل کرنے والے ایس ایچ او تھانہ سٹی صادق آباد رانا محمد اشرف کی سخت سرزنش کرتے ہوئے ہائیکورٹ کے جج جسٹس ساجد خرم نے ناصر علی کی گرفتاری کی سی سی ٹی وی فوٹیج کے حوالے سے استفسار کیا تو پولیس کے پاس کوئی جواب نہ تھا، پولیس تھانہ سٹی صادق آباد نے ابتدا میں یہ مؤقف اختیار کیا کہ 27 اپریل کو مجاہد کالونی چوک صادق آباد سے گرفتار کرکے لاپتہ کرنے کے الزم میں کوئی صداقت نہیں اور یہ کہ لاپتہ شہری ناصر علی پولیس کے پاس نہیں۔ دوران سماعت جسٹس ساجد خرم نے جب ناصر علی کو گرفتار کرکے لاپتہ کرنے کے واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج اور تصاویر دکھاکر پوچھا کہ شہری کو گرفتار کرکے لاپتہ کرنے والے سی آئی اے پولیس اہلکاروں اور سادہ لباس افراد کی واضح شناخت ہورہی ہے آپ کیسے کہتے ہیں کہ ناصر علی پولیس کے پاس نہیں؟ اس پر ایس ایچ او رانا اشرف لاجواب ہوگئے۔ عدالت عالیہ نے حکم جاری کیا کہ سی آئی اے پولیس کے افسروں، اہلکاروں اور ان کے ساتھی سادہ لباس افراد سے پولیس تھانہ سٹی صادق آباد شہری ناصر علی کو اپنی تحویل میں لے کر عدالت میں پیش کرے اگر رٹ پٹیشن میں فریق بنائے گئے پولیس افسران ناصر علی کو پیش نہیں کرتے تو ان کیخلاف ایف آئی آر درج کرکے اگلی پیشی پر انہیں بھی عدالت میں پیش کیا جائے۔ ایس ایچ او رانا محمد اشرف نے عدالت عالیہ کے حکم کی تعمیل کی یقین دہانی کروائی۔ یاد رہے کہ لاپتہ شہری ناصر علی کی بازیابی کیلئے رٹ پٹیشن ان کی اہلیہ رخسانہ کوثر نے دائر کی تھی جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ سی آئی اے پولیس صادق آباد کے سب انسپکٹر نوید واہلہ، اے ایس آئی محمد اشفاق اور رئیس شہزاد سمیت 4 پولیس اہلکاروں و سادہ لباس افراد نے ان کے شوہر ناصر علی کو بھرے بازار سے دن دیہاڑے اغوا کرکے لاپتہ کردیا ہے۔ رٹ پٹیشن نمبر 3821-H-2019-BWP میں رخسانہ کوثر نے ڈی پی او رحیم یارخان اور اے ایس پی صادق آباد کو بھی فریق بنایا ہے۔ یاد رہے کہ 27 اپریل کو ناصر علی کے ساتھ ایک اور شہری جہانزیب شیخ کو اسی سی آئی اے سٹاف کی پولیس پارٹی اور سادہ لباس افراد نے اغوا کرکے لاپتہ کیا تھا۔ جہانزیب شیخ کی اہلیہ نے بھی عدالت عالیہ میں رٹ پٹیشن دائر کی تھی جس پر لاہور ہائیکورٹ بہاولپور بینچ نے لاپتہ جہانزیب شیخ کو بازیاب کرکے عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا جس کے بعد صادق آباد پولیس جہانزیب شیخ کو ایک من گھڑت مقدمے میں گرفتاری ظاہر کرکے منظر عام پر لے آئی تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Translate »