fbpx

ضلع رحیم یارخان ترقی کی تاریخ | 1835

ضلع رحیم یارخان کی ترقی کی تاریخ  

ضلع رحیم یارخان کے پہلے ہیڈکوارٹر خان پور میں سول ہوائی اڈا 1920میں برٹش انڈیا گورنمنٹ نے تعمیر کیا جبکہ رحیم یار خان میں کا ہوائی اڈا بنایا گیاجو 1957 میں وفاقی حکومت کے حوالے کردیا گیا ۔ کراچی سکھر رحیم یار خان روٹ پرPIA کی ڈکوٹہ سروس یکم فروری تا یکم جولائی 1967  چلائی گئی ۔ 90ء کی دہائی میں شیخ زائد ائرپورٹ قائم کیا جو جدید سہولتوں سے مزین ہے اور  جہاں بوئنگ تک اترنے کی سہولت موجود ہے ۔اور اب دبئی کی براہ راست پروازیں بھی شروع ہوگئیں ہیں.


٭برصغیر میں ریلوے لائن 1835ء میں بچھائی گئی جبکہ 1880  میں متعدد ریلوے سٹیشن بنائے گئے
٭ ضلع رحیم یارخان میں  کے ایل پی  روڈ پہلے کچی تھی پھر پہیوں کی جگہ کیلئے تین فٹ کی سولنگ بچھائی گئی  1956-61 کے درمیان سنگل روڈ پختہ بنائی گئی  1962-76 میں اسے ڈبل کردیا گیا جبکہ 1995 سے اسی شاہراہ کو موٹروے کی طرز پر دورویہ بنانے کاکام شروع ہوا جو اب پایہ تکمیل کو پہنچ چکا ہے ۔اور ضلع رحیم یارخان کی خوبصورت سڑک ہے جہاں ٹول پلازہ قائم کیئے گئے ہیں ۔موٹرے وے پولیس تعینات ہیں۔جس سے حادثات میں کئی گناکمی واقع ہوئی ہے ۔اور دیگر واردتیں نہ ہونے کے برابر ہیں ۔

٭      ضلع رحیم یارخان میں سب سے پہلا بنک عباسیہ کواپریٹو بنک لمیٹڈ اپریل 1952  میں کھلا ۔ باقی بنک اس ترتیب سے کھلے ہیں

نیشنل بنک

حبیب بنک لمیٹڈ مسلم کمرشل بنک الائیڈ بنک لمیٹڈ یونائیٹڈ بنک لمیٹڈ
1953 1961 1962 1964 1966

٭         1952ء سے قبل یہاں بجلی نہ تھی مکینیکل اینڈ الیکٹریکل ڈیپارٹمنٹ ریاست بہاولپور  کی طرف سے ڈیزل کے ذریعے 1952ء  میں 648کلوواٹ کا ضلع رحیم یارخان کے لئے بجلی گھر لگایا گیا اور 1953ء میں 225 کلوواٹ کا خانپور میں بجلی گھر لگایا جس سے عوام کو بجلی مہیا کی گئی ۔  ریاست کے ختم ہونے پر پنجاب پی ڈبلیو ڈی کے شعبہ بجلی نے دونوں بجلی گھروں کو اپنی تحویل میں لے لیا اور 1959  ء میں واپڈا کے قیام کے بعد 1964 ء ان شہروں کو نیشنل گرڈ سٹیشن سے جوڑ دیا گیا ۔

٭         پولیس کا محکمہ کرنل منچن نے 1867ء میں متعارف کرایا اس سے پہلے کوتوال (مساوی ایس پی ) ہوتے تھے اور پوری ریاست میں صرف تین کوتوال ہوتے تھے ان میں سے ایک خان پور میں ہوتا تھا ۔

٭         1866-1870 کے درمیان خانپور اور رحیم یارخان میں کل دو لاک اپ تھے اور ایک خان پور جیل تھی جو سیلاب کی نذر ہوگئی ۔ 1870ء میں سنٹرل جیل بہاولپور کی تعمیر کی وجہ سے ضلع رحیم یارخان 1949ء تک جیل سے محروم رہا ۔ 1949ء میں   250  قیدیوں کے لئے رحیم یار خان میںایک جیل بنائی گئی جس کی اب تک توسیع نہ کی گئی ہے جبکہ اس میں کم و بیش ایک ہزار کے قریب قیدی قید ہیں

٭ ریاست میں لمبرداری یا نمبرداری نظام 1875  اور چوکیدارہ نظام 1876 ء میں متعارف کرایا گیا ۔

 مندرجہ بالا مضمون  کے   کچھ حوالہ جات  درج ذیل کتب اور مضامین سے براہ راست لئے گئے ہیں جبکہ انہوں نے اس کے حوالے دیگر کتب سے نقل کئے ہیں
۔   سعید احمد سعید کی کتاب ” رحیم یار خان کی سیاسی تاریخ ”
۔ جناب نسیم بلوچ کی زیرادارت  شائع  ہونے والا ”  بانگ سحر” (گورنمنٹ ترقی تعلیم کالج خان پور  ضلع رحیم یارخان ) سے اقتباسات

1952ء سے قبل یہاں بجلی نہ تھی مکینیکل اینڈ الیکٹریکل ڈیپارٹمنٹ ریاست بہاولپور  کی طرف سے ڈیزل کے ذریعے 1952ء  میں 648کلوواٹ کا رحیم یار خان کے لئے بجلی گھر لگایا گیا اور 1953ء میں 225 کلوواٹ کا خانپور میں بجلی گھر لگایا جس سے عوام کو بجلی مہیا کی گئی ۔  ریاست کے ختم ہونے پر پنجاب پی ڈبلیو ڈی کے شعبہ بجلی نے دونوں بجلی گھروں کو اپنی تحویل میں لے لیا اور 1959  ء میں واپڈا کے قیام کے بعد 1964 ء ان شہروں کو نیشنل گرڈ سٹیشن سے جوڑ دیا گیا ۔

٭ پولیس کا محکمہ کرنل منچن نے 1867ء میں متعارف کرایا اس سے پہلے کوتوال (مساوی ایس پی ) ہوتے تھے اور پوری ریاست میں صرف تین کوتوال ہوتے تھے ان میں سے ایک خان پور میں ہوتا تھا ۔

٭ 1866-1870 کے درمیان خانپور اور رحیم یارخان میں کل دو لاک اپ تھے اور ایک خان پور جیل تھی جو سیلاب کی نذر ہوگئی ۔ 1870ء میں سنٹرل جیل بہاولپور کی تعمیر کی وجہ سے ضلع رحیم یار خان 1949ء تک جیل سے محروم رہا ۔ 1949ء میں   250  قیدیوں کے لئے رحیم یار خان میںایک جیل بنائی گئی جس کی اب تک توسیع نہ کی گئی ہے جبکہ اس میں کم و بیش ایک ہزار کے قریب قیدی قید ہیں

شکایات کی صورت میں ای میل کریں ،[email protected]

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Translate »
Close
Close