fbpx

لالہ ارشد حبیب کے خلاف اینٹی کرپشن میں درج مقدمہ کی بارگیننگ

 لیاقت پور:میونسپل کمیٹی لیاقت پور کے کرپٹ ہیڈ کلرک لالہ ارشد کی ریٹائر منٹ کی پروازیں شروع، لالہ ارشد حبیب کے خلاف اینٹی کرپشن رحیم یار خان میں درج مقدمہ کی بارگیننگ مبیبنہ طور پر5لاکھ روپے میں معاملات طے،،اینٹی کرپشن کے حکم پر 57ہزار روپے سرکاری خزانے میں جمع،ارشد حبیب کی جون میں ریٹائر منٹ کے لیے بھاگ دوڑ شروع، شہری مسعود حسین شاہ نے سپیشل جج اینٹی کرپشن رجوع کرلیا۔سپیشل جج نے 11جون کی پیشی مقرر کرلی،بوگس طریقے سے NOCلینے کی کوششیں،چیف آفیسر اور آڈٹ آفیسر میونسپل کمیٹی لیاقت پور ملوث، جس آفیسر نے لالہ ارشد حبیب کو ریٹائرمنٹ اور واجبات دئیے تو اس کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے گی مسعود حسین شاہ،رشوت کا الزام غلط ہے ایوب بخاری تفصیل کے مطابق مقامی شہری عبدالغفار نے سال 2014میں میونسپل کمیٹی لیاقت پور کے کرپٹ ہیڈ کلرک ارشد حبیب کے خلاف اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ میں گزاری۔سال 2015میں سکروٹنی کا عمل شروع ہوا بعد سکروٹنی سال 2016میں ریگولر انکوائری نمبر 696/16الاٹ کیا گیا ریگولر انکوائری ہونے کے 3سال بعد مکمل تحقیق اور تفتیش کے مراحل سے گزر کر مقدمہ نمبر 28/18تھانہ اینٹی کرپشن رحیم یار خان میں درج کیا گیا مقدمہ میں دیگر سرکردہ عناصر میونسپل کمیٹی کے آفیسران کو ذاتی مفاد کے عوض بچا لیا گیا  ارشد حبیب کو میونسپل کمیٹی لیاقت پور میں مورخہ 15-07-84 سیزنل چونگی محرر بھرتی کیا گیا ارشد حبیب نے 29-07-84 کو ڈیوٹی جوائن کی  مورخہ 1986 31/05/ ڈپٹی کمشنر رحیم یار خان کے مراسلہ نمبر LBA-11806مورخہ 09/09/1985کی روشنی میں مورخہ 29/5/86قرارداد برطرفی چونگی محرران منظور کی گئی ارشد حبیب کورانامحمد اسلم،محمد ابراہیم،منشا علی چونگی محرران اور خلیل احمد وسیر چپڑاسی چونگی کے ہمراہ ملازمت سے فارغ کردیا قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے ارشد حبیب کو عارضی ملازمت سے فارغ کرنے سے قبل نوٹس بھی کیا گیا جس پر ارشد حبیب نے دستخط بھی کیے بعدازاں ارشد حبیب کی خالی کردہ سیٹ پر دوسرے شخص کو بھرتی کرلیا گیا برطرف شدہ ملازمین نے ارشد حبیب کی سربراہی میں ملازمت بارے سول کورٹ لیاقت پور میں مورخہ 5-6-86دعویٰ نمبر 253دائر کیا گیا دعویٰ عرصہ تقریباً 5سال زیر سماعت رہا جسے عدالت نے مورخہ 10-03-91معہ خرچہ خارج کردیا عدالتی دعوے اور بیان میں سبکدوشی یعنی برطرف کیا جانا ظاہر کیا گیاارشد حبیب نے چیف آفیسر اور توقیر عالم داؤد اکاؤنٹینٹ بلدیہ سے ملی بھگت کرکے برطرفی کو غیر قانونی طور پرمعطلی میں تبدیل کراتے ہوئے مورخہ 30-11-92جعلی وفرضی قرار داد نمبر 11/147کے ذریعے از عارضی تعیناتی مورخہ 15-07-84تعینات وایڈ جسٹ کردیاجس میں قرار دیا کہ عرصہ فراغت ساڑھے 6سال رخصت بلاتنخواہ تصور ہو گا ارشد حبیب نے چیف آفیسر واکاؤنٹینٹ توقیر عالم داؤدسے ملی بھگت کرتے ہوئے آسامی چونگی محرر سکیل 5کو اخبار اشتہارمیں شائع کیے بغیر جدید سیٹ پر دوبارہ تعیناتی کرالی اکاؤنٹینٹ بلدیہ توقیر عالم داؤدنے اپنی رپورٹ مورخہ 03-04-93میں تحریر کیا کہ نامعلوم وجوہ کی بنا ء پر ملازمت سے فارغ /جسے قلمزد کرکے معطل کردیا گیا تھا تحریر کیا کہ ارشد حبیب اپنی خالی کردہ آسامی پر بحال نہ ہو سکتا تھا کیونکہ اس پر بھرتی ہو چکی تھی بجٹ سال 92-93کی جدید آسامی پر بغرض حق رسی بحال کیا گیا ہے ارشد حبیب کو عرصہ 11سال بعد TMOچوہدری غلام حسین اور TOFمظہر رشیدکی رپورٹ پر مورخہ 16-12-03بذریعہ چیک نمبری 11260993مبلغ 57450/=روپے غیر قانونی طریقے سے عرصہ فراغت ساڑھے 6سال کی تنخواہ بقایاجات،گزارا الاؤنس وغیرہ کے نام پر دئیے گئے ارشد حبیب کی عرصہ 6سال برطرفی کی صورت میں سالانہ انکریمنٹ متواتر بڑھتی رہی سالانہ ترقیاں ملتی رہیں ارشد حبیب کو برطرفی کے دوران سماعت دعویٰ سول کورٹ مورخہ 28-05-89سکیل نمبر 7بھی دے دیا گیا جبکہ دعویٰ کی شہادت کی پیشی 01-02-89مقرر تھی ارشد حبیب نے اپنی اصل سروس بک خود چھپا دی کیونکہ اس میں سبکدوشی برطرفی کے تمام معاملات تحریر تھے جبکہ ارشد حبیب تمام ملازمین کی سروس بکوں کا کسٹوڈین تھا بقیہ کسی ملازم کی سروس بک گم نہ ہوئی صرف اسی کی سروس بک گم ہو ئی ارشد حبیب نے دوران تعیناتی کرپشن کی انتہا کردی اپنے ذاتی اکاؤنٹ میں روزانہ لاکھوں روپے کی ٹرانزیکشن ہوتی رہی پٹرول پمپ ودیگر کروڑوں روپے کی جائیدادیں بنائی ارشد حبیب نے غلام حسین TMOکے دور تعیناتی میں شبیر احمد سٹور کیپر کی بھر پور معاونت سے المدینہ اور گلوبل ٹریڈرز کے نام کنسٹریکشن کمپنیاں بناکر ترقیاتی منصوبہ جات کے ذریعہ قومی خزانے کو خوب لوٹاارشد حبیب کے تنخواہ اکاؤنٹ نمبر 1646پنجاب بینک لیاقت پور میں جمع کرائی گئی اور نکلوائی گئی رقم و مختلف ناموں پر خریدی گئی جائیداد ہے مزید تفصیل درج ذیل ہے ارشد حبیب کے تنخواہ اکاؤنٹ نمبر 1646پنجاب بینک لیاقت پورمیں مورخہ 31/03/05مبلغ 204342/95=روپے جمع تھے مذکورہ ملازم نے ایک ہی دن مورخہ 19/04/05مبلغ 100000/=روپے اور 69000/=روپے اور مورخہ 28/05/05مبلغ 220000/=روپے اور مبلغ 6000/=روپے جمع کرائے جو کہ قابل تحقیق ہے کہ سکیل نمبر5کے ملازم کے تنخواہ اکاؤنٹ میں یہ رقم مبلغ 593342/95روپے کن اشخاص کے اکاؤنٹ سے اورکن ذرائع سے جمع ہوئی۔ ارشد حبیب نے اپنے تنخواہ اکاؤنٹ سے مورخہ 01/04/05چیک نمبری07789342کے ذریعہ مبلغ 20000/=مورخہ 04/04/05چیک نمبر07789343کے ذریعہ مبلغ 50000/=روپے مورخہ 21/04/05چیک نمبری 07789345کے ذریعہ مبلغ 40000/=روپے مورخہ 02/05/05چیک نمبری 07789346کے ذریعہ مبلغ 50000/=روپے مورخہ 20/05/05چیک نمبری 07789347کے ذریعہ مبلغ 38200/=روپے مورخہ 21/05/05چیک نمبری 07789344کے ذریعہ مبلغ 120000/=روپے مورخہ 27/05/05چیک نمبری  07789348کے ذریعہ مبلغ 10000/=روپے مورخہ 16/06/05چیک نمبری07789349کے ذریعہ مبلغ 22000/=روپے مورخہ 29/07/05چیک نمبری 29204301کے ذریعہ مبلغ 10000/=روپے مورخہ 04/08/05چیک نمبری 20204302کے ذریعہ مبلغ 10000/=روپے مورخہ 15/08/05چیک نمبری 29204303کے ذریعہ مبلغ 222100/=روپے مورخہ 26/08/05چیک نمبری 29204304کے ذریعہ مبلغ 50000/=روپے سمیت دیگر لاکھوں روپے جمع کرائے اور نکلوائے جوکہ قابل تحقیق ہیں کہ سکیل 5کے ملازم کے تنخواہ اکاؤنٹ سے یہ کلیہ رقم 642300/=روپے کن کن اشخاص کو کس مد میں ادا کی گئی بینک سٹیٹمنٹ کے مطابق مزید کافی رقم جمع ہوتی اور نکلتی رہی اکاؤنٹ کی تمام تفصیل طلب کی جائے تو مزید کرپشن کی رقم سامنے آسکتی ہے ذرائع کے مطابق اینٹی کرپشن رحیم یار خان میں موجود سٹینو رانا ذیشان کے ذریعے ڈپٹی ڈائریکٹر ایوب بخاری سے مقدمہ ختم کرنے کے لیے 5لاکھ روپے کے معاملات طے ہو چکے ہیں جس کے نتیجے میں لالہ ارشد حبیب نے 57ہزار روپے واپس میونسپل کمیٹی کے سرکاری خزانے میں جمع کرادئیے ہیں لالہ ارشد 30جون کو ریٹائر منٹ لے رہا ہے جس کے نتیجے میں وہ اینٹی کرپشن اور اپنے ڈیپارٹمنٹ سے جعلی NOCحاصل کرکے تمام واجبات حاصل کرنا چاہتا ہے جس پر مقامی شہری سید مسعود حسین شاہ نے سپیشل جج اینٹی کرپشن کی عدالت میں رجوع کیا تو سپیشل جج نے 11جون کی پیشی مقرر کرلی شہریوں نے مزید بتایا کہ اینٹی کرپشن آفیسران بھاری ذاتی مفاد کے عوض دستاویزی شواہد کو نظر انداز کرتے ہوئے مقدمہ نمبر 28/18خارج کرنے کے درپے ہیں اگر درخواست صیح نہیں تھی تو مقدمہ درج کیوں کیا گیا؟؟3 سال کی تحقیق وتفتیش کس لیے تھی؟؟بغیر ریکارڈ قبضے میں لیے مقدمہ کیسے اور کن وجوہات پر ڈراپ کیا جارہا ہے؟شہریوں نے اینٹی کرپشن رحیم یار خان کے کرپٹ آفیسران کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Translate »
Close
Close