fbpx

محکمہ تعلیم کے کرپٹ کلرکوں کے خلاف کاروائی نہ ہو سکی

لیاقت پور :محکمہ تعلیم کے کرپٹ کلرکس عبدالغفور اعوان ،ارشد رحمانی ،ملک شاہد نائچ کا ایکا ، 18سکیل کے ایجوکیشن آفیسران کی رپورٹیں کھڈے لائن لگادی گئیں ،رحیم یار خان ایجوکیشن آفیسران نے کلرکوں کے آگے گھٹنے ٹیک دئیے ،جرم ثابت ہونے کے باوجود کاروائیاں ٹھپ ،فائلیں چھپا دی گئیں ،گزٹڈآفیسران کے شواہد نظر انداز ،سرکاری پٹرول کا اپنی گاڑی میں بے دریغ استعمال ،ڈپٹی ڈسٹرکٹ آفیسر لیاقت پور نے پوچھا تو عبدالغفور اعوان نے انہیں بھی یرغمال بنا لیا ،
رحیم یار خان آفس کی پابندیاں ارشد رحمانی ،ملک شاہد نائچ، عبدالغفور نے جوتی کی نوک پر رکھ کے واپس لیا قت پور میں آکر اپنی اپنی سیٹیں سنبھال لیں ،114صفحات پر مشتمل دستاویزی شواہد کو CEOایجوکیشن مختار ملک نے چند ٹکوں کے عوض یکسر مسترد کردیا ،آفیسران میں خوف ہراس ، ڈرکی وجہ سے مافیا کے تمام غلط آنکھیں بند کرکے کیے جارہے ہیں چیف سیکریٹری پنجاب اور سیکریٹری محکمہ تعلیم سے فوری کاروائی کا مطالبہ، CEOمختار احمد ،عزیز قریشی اور حسن رندھاوا نے بتایا کہ کلرکوں کے خلاف انکوائریاں زیر سماعت ہیں ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں ہوا تفصیل کے مطابق شہریوں ملک فیاض احمد ،محمد صدیق ،ظفر،محمد طاہر ،ولید احمد ،ساجد محمود ،محمد افضل واساتذہ اور آفیسران نے تحریری دستاویزی شواہد کے ساتھ صحافیوں کو بتایا کہ ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفس لیاقت پور میں تعینات ہیڈ کلرک عبدالغفور اعوان،اکاؤنٹس کلرک محمد ارشد رحمانی اور ملک شاہد نائچ نے ایک بار پھر آفیسران کے آرڈروں اور انکے دستاویزی شواہد کو جوتی کی نوک پر رکھتے ہوئے واپس اپنی سیٹوں پر براجمان ہو گئے سابق ڈپٹی ڈسٹر کٹ ایجوکیشن آفیسر سید محمود الحسن شاہ نے عبدالغفور اعوان کے خلاف سنگین الزامات لگا کر دفتر رحیم یار خان بھیج دیا تھا عبدالغفور اعوان نے اپنے اثر رسوخ استعمال کرتے ہوئے اور ضلع کے ایجوکیشن آفیسران کو یرغمال بناتے ہوئے محمود الحسن شاہ کا تبادلہ کراکے خود انکوائری سے کلیئر ہوئے بغیر واپس لیاقت پور آپہنچا اور زبردستی اپنی سیٹ سنبھال لی نئے آنے والے ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر جام محمد عارف نے عبدالغفوراعوان ،ارشد رحمانی اور ملک شاہد نائچ کی بلیک میلنگ اور کرپشن سے تنگ آکر چیف ایگزیکٹو آفیسر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو114صفحات پر مشتمل تحریری دستاویزی شواہد فرام کرتے ہوئے انکو سرنڈر کردیا تھا لیکن مافیا نے حسب سابق ایجوکیشن آفیسران کو یرغمال اور بلیک میل کرکے خود ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر جام عارف کا ٹرانسفر کرادیا جبکہ خود بغیر انکوائری کلیئر کیے دوبارہ لیاقت پور میں آکے اپنی اپنی سیٹیں سنبھال لیں تمام انکوائریاں آج بھی رحیم یار خان میں موجود ہیں محمد ارشد رحمانی ،ملک شاہد نائچ اور عبدالغفور اعوان نے CEOایجوکیشن مختار ملک ،ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر عزیز قریشی اورکلرک بادشاہ حسن محمود رندھاوا کو اپنا ہمنوا بنایا ہوا ہے کیونکہ ان آفیسران کے تمام کالے کرتوتوں کی مکمل فائلیں ان کے پاس ہیں جنکی وجہ سے یہ آفیسران بلیک میلنگ کا شکار ہو کرمافیا کے آگے گھٹنے ٹیک رکھے ہیں شہریوں ملک فیاض احمد ،محمد صدیق ،ظفر،محمد طاہر ،ولید احمد ،ساجد محمود ،محمد افضل واساتذہ اور آفیسران نے چیف سیکریٹری پنجاب اور سیکریٹری ایجوکیشن پنجاب سے مطالبہ کیا کہ محمد ارشد رحمانی ،ملک شاہد نائچ اور عبدالغفور کے خلاف چلنے والی تمام انکوائریاں منظر عام پر لائی جائیں اور کسی دوسرے ڈویژن میں انکے خلاف تحقیقات شروع کرائی جائے جبکہ محمد ارشد رحمانی ،ملک شاہد نائچ اور عبدالغفور نے صحافیوں کو بتایا کہ ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز محمود الحسن شاہ اور جام عارف خود کرپٹ تھے لاکھوں روپے کی کرپشن کی ہم نے کرپشن نہ کرنے کے لیے آواز اٹھائی تو ہمارے خلاف بوگس کاروائی کردی تمام انکوائریوں میں ہم بے گناہ ہو چکے ہیں۔جبکہ CEOمختار احمد ،عزیز قریشی اور حسن رندھاوا نے مؤقف بتایا کہ کلرکوں کے خلاف انکوائریاں زیر سماعت ہیں ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں ہوا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Translate »