مقدمات کے اخراج کی لائینیں لگ گئیں،

لیاقت پور :انسداد رشوت ستانی کا ادارہ اینٹی کرپشن خود رشوت اور کرپشن پر لگ گیا،میونسپل کمیٹی لیاقت پور کے خلاف درج ہو نے والا مقدمہ نمبر 17/17  ۔ 5لاکھ روپے میں خارج،کرپٹ ریڈر ناظم چانڈیہ کے ذریعے سرکل آفیسر راناکلیم کو رام کیا گیا،رانا کلیم نے ہی مکمل چھان بین کے بعد مقدمہ 17/17درج کیاگیا تھا،سرکل آفیسر رحیم یار خان کا چارج سنبھالتے ہی مقدمات اخراج کی لائینیں لگ گئیں، مقدمہ ہذا میں ایک روپے کی بھی ریکوری نہ کرائی گئی،ناظم اور رانا کلیم کی جانب سے مدعی کو بھی رام کرنے کی کوشش لیکن مدعی نے آفر ٹھکرادی،مقامی شہری سید مسعود حسین شاہ نے سپیشل جج اینٹی کرپشن بہاول پور کو تحریری آگاہ کردیا جس پر سپیشل جج نے 11جون کو رحیم یار خان کیمپ میں پیشی مقرر کرلی،اینٹی کرپشن رحیم یار خان میں انکوائریوں کے ساتھ ساتھ مقدمات ختم کرنے کی بھی سیلیں لگ گئی ہیں،مک مکا کے بعد مقدمہ یا انکوائری خارج یا ڈیپارٹمنٹل،ڈی جی اینٹی کرپشن نوٹس لیں،مقدمات کا تما ریکارڈ طلب کر کے ری اوپن کریں سید مسعود حسین شاہ،5لاکھ کا الزام غلط ہے رانا کلیم۔تفصیل کے مطابق مقامی شہری نے سال 2014میں اینٹی کرپشن میں درخواست گزاری تھی اینٹی کرپشن بہاول پور میں سکروٹنی کمیٹی کی تحقیقات کے بعدسال 2015میں ریگولر انکوائری 1050/15الاٹ کیا گیا پہلے رحیم یار خان سرکل میں تفتیش ہوتی رہی بعدازاں سرکل بہاول پور میں سرکل آفیسر راناکلیم نے اڑھائی سال کی تحقیقات کرنے بعد جرم ثابت ہونے پر مقدمہ 17/17درج رجسٹر کیا گیادرخواست مقدمہ کے متن اور اس میں درج الزامات کے تحت میونسپل کمیٹی کے دیگر آفیسران کو مقدمہ سے بچا لیا گیا ملک عبدالطیف کی تعیناتی سکیل نمبر 5میں 16-09-1991کو انگلش کلرک کی پوسٹ پر ہوئی جبکہ مذکورہ ملازم میٹرک پاس ہے انگلش میں لیٹر تک نہ لکھ سکتا ہے سروس رولز کو گھر کی لونڈی سمجھتے ہوئے مورخہ 16-09-1993 اہلمد ملازم تعینات تبدیل کردیا اور آفیسران سے میل ملاپ کرکے بغیر ڈپلومہ 16-06-1999کو سینٹری انسپکٹر کے عہدے پر سکیل نمبر 8پر براجمان ہو گیا  آڈٹ آفیسران ہی کرپشن،بدعنوانی،غیرقانونی کیڈر تبدیل شدہ ملوث آفیسران کی پشت پناہی کرتے آرہے ہیں سینٹری انسپکٹر ملک عبدالطیف نے سنیٹری ورکروں میں اپنے بھائی اور رشتہ دار ودیگر دوست بھرتی کرکے انکی تنخواہ جاری کرادی موقع پر کوئی کام نہ کیا گیا اور ہی ان لوگوں کو آج تک فیلڈ میں دیکھا گیا ہے ملک عبدالطیف نے آئے روز کسیاں،بالٹیاں،تار،بانس ودیگر مدات میں رقوم نکلواتا رہا اور فرضی بل پر بل بنائے جاتے رہے ایک ہی رائٹنگ سے درخواست بغیر دستخطوں کے لکھی جاتی ہے اس رائٹنگ سے مختلف دکانات کے بل بنائے جاتے ہیں اور رقوم خود ہڑپ کی جارہی ہے  ملک عبدالطیف کی سینٹری انسپکٹر کے عہدے پر تعیناتی کو تمام ڈیپارٹمنٹ اور اینٹی کرپشن کے آفیسران نے قانونی تعیناتی تحریر کرتے ہوئے سائل کو جھوٹا قرار دیتے رہے اب ملک عبدالطیف نے ترقی حاصل کرنے کے لیے سینٹری انسپکٹر کی سیٹ کو چھوڑ کر انگلش کلرک کی سیٹ پرتعینات ہو کے سکیل 14بھی حاصل کرلیا مفاد کی خاظر کیڈر تبدیلی کوئی جرم نہ بنایا گیا اب ذاتی مفاد حاصل کرنے کے لیے سائل کے تحریر کردہ الزامات کی سچائی ثابت ہوگئی لیکن اینٹی کرپشن آفیسرانے ذاتی مفاد حاصل کر کے ملک عبدالطیف،شبیر احمد سٹور کیپر ودیگر کو بچالیا TO(F) طاہر محمود بٹ اور اصغر جاویدجو کرپٹ ٹولے کی سرپرستی کر کے ان سے ذاتی لاکھوں روپے کا مفاد حاصل کرتا آرہا ہے آنکھیں بند کر کے فرضی بنائے گئے بلوں پر دستخط کر دیتا ہے آج تک کوئی چھان بین نہیں کی کہ آئے روز یہ سامان کہاں جارہا ہے  بمطابق قانون پرانا ناقص سامان سٹور میں جمع کرانا ہوتا ہے لیکن اس وقت سٹور میں کوئی پرانا سامان جمع نہ ہے  شبیر احمد سٹور کیپر کے ساتھ ملک عبدالطیف کی پارٹنر شپ چل رہی ہے جسکی وجہ سے وہ ایک دوسرے کے دفاع میں ہر وقت کمر کس کے رکھتے ہیں سٹور میں اس وقت بلدیہ کاقیمتی سامان بھی موجود نہ ہے سٹور میں جمع کرایا گیا پرانا سامان شعبہ صفائی،بل دکانداران برائے ادائیگی خرید سامان صفائی،فہرست تقابلی کوٹیشن،فہرست کوٹیشن نوٹس بنام دکانداران،فہرست سپلائی آرڈر/ورک آرڈراور کنٹیجینٹ بلوں کا تمام ریکارڈ طلب کرکے دیکھا جاسکتا ہے میونسپل کمیٹی میں تقریباً22چیک ایسے بنے جن کے اصل ووچر موجود نہ ہیں چند آفیسران نے اپنے اپنے ناموں کے ایشو کراکے پیسے خود ہڑپ کرلیے جبکہ ریکارڈ کا پیٹ بھرنے کے لیے جنرل کیش بک میں درج کردیا گیا اس فراڈ میں کئی آفیسران کے نام شامل ہیں لیکن TOFطاہر محمود بٹ نے اپنے آپ کو اور سینئر آفیسران کو بچاتے ہوئے 5ملازمین امتیاز احمد ہاشمی،اصغر جاوید،ایاز احمد،ناصر بدر اور حاجی منظور کو قصوروار بناتے ہوئے تھانہ سٹی لیاقت پور میں اندراج مقدمہ کے لیے تحریری درخواست بھجوائی مگر ملازمین کے خلاف کاروائی نہ ہونے دی تحصیل آفیسر فنانس لیاقت پور طاہر محمود بٹ کے جاری کردہ لیٹر نمبری 1440-1443مورخہ 25-6-16میں واضع تحریر میں امتیاز احمد ہاشمی،اصغر جاوید وغیرہ کو قصور وار بنانے پر مقدمہ نمبر 17/17درج رجسٹر کیا گیاچیک نمبر64350256,۔مالیاتی رقم 15893۔مورخہ =2.07.08چیک نمبر64350057۔مالیاتی رقم12583۔مورخہ16.07.08چیک نمبر64350061۔مالیاتی رقم12472۔مورخہ=15.07.09چیک نمبر2002099714۔مالیاتی رقم2o265۔مورخہ21.08.08چیک نمبر64350279۔مالیاتی رقم19707۔مورخہ=10.07.08چیک نمبر54350068۔مالیاتی رقم19320۔مورخہ11.07.08چیک نمبر64350065۔مالیاتی رقم 20096۔مورخہ =22.06.08چیک نمبر64350065۔چیک نمبر2002099721۔مالیاتی رقم02543۔مورخہ=18.08.08چیک نمبر64350598۔مالیاتی رقم23064۔مورخہ3.07.08چیک نمبر64350067۔مالیاتی رقم13909۔مورخہ=17.07.08چیک نمبر64350058۔مالیاتی رقم18623۔مورخہ5.07.08چیک نمبر64350069۔مالیاتی رقم20000۔مورخہ=2.08.08چیک نمبر64350201۔مالیاتی رقم23064۔مورخہ3.07.08چیک نمبر64350092۔مالیاتی رقم9663۔مورخہ=12.08.08چیک نمبر64350014۔مالیاتی رقم19803۔مورخہ11.08.08چیک نمبر2002098717۔مالیاتی رقم23600۔مورخہ=21.08.08چیک نمبر2002099118۔مالیاتی رقم34800۔مورخہ18.08.08چیک نمبر200209913۔مالیاتی رقم19300۔مورخہ=21.08.08چیک نمبر67525995۔مالیاتی رقم121590۔مورخہ26.06.09چیک نمبر68186752۔مالیاتی رقم18252۔مورخہ=13.11.09چیک نمبر68186752۔مالیاتی رقم17316۔مورخہ13.11.09 کے ووچر اصل فائلیں موجود نہ ہیں طاہر بٹ MOFنے آفیسران کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے اور اپنے آپ کو بچانے کے لیے اکاؤنٹس برانچ کے کچھ ملازمین کے خلاف تھانہ سٹی لیاقت پور میں مقدمہ درج کرانے کا ڈرامہ بھی رچایا تھا اینٹی کرپشن آفیسران بھاری ذاتی مفاد کے عوض دستاویزی شواہد کو نظر انداز کرتے ہوئے مقدمہ نمبر 17/17خارج کردیا ہے  اگر درخواست صیح نہیں تھی تو رانا کلیم نے مقدمہ درج کیوں کیا گیا؟اڑاھائی سال کی تحقیق وتفتیش کس لیے تھی؟بغیر ریکارڈ قبضے میں لیے مقدمہ کیسے اور کن وجوہات پر ڈراپ کیا جارہا ہے؟سید مسعود حسین شاہ نے ڈی جی اینٹی کرپشن پنجاب سے مطالبہ کیا کہ خارج ہونے والے تمام مقدمات طلب کرکے خود دیکھیں اور ری اوپن کر کے ملوث قاصرین کو سزادیں اور رانا کلیم جیسے کرپٹ سرکل آفیسر کو واپس اپنے محکمے میں بھیجا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Translate »