نواب صادق محمد خان عباسی پنجم کی برسی آج 24مئی کو منائی جا رہی ہے

تحریر ندیم رامے ،نامہ نگار روزنامہ جنگ

 نواب صادق محمد خان عباسی پنجم کی برسی آج 24مئی کو منائی جا رہی ہے

نواب صادق محمد خان 1904 ء میں پیدا ہوئے۔ ان کی پیدائش کے 3 سال بعد ہی 1907 ء میں ان کے والد نواب محمد بہاول خان عباسی انتقال کر گئے اور اس طرح صرف 3 سال کہ عمر میں ہی نواب صادق محمد خان بہاولپور ریاست کے حکمران بنے۔ نواب آف بہاولپور نے ایچیسن کالج سے تعلیم حا صل کی۔ کوئٹہ سے فوجی تربیت حاصل کرنے کے بعد 1922ء میں لیفٹیننٹ کے عہدے پر فائز ہوئے اور بعد میں ترقی کرتے ہوئے 1946ء میں میجر جنرل کے عہدے تک پہنچ ،آپ نے 5 اکتوبر 1947ء میں حکومت پاکستان سے الحاق کا اعلان کرتے ہوئے معاہدے پر دستخط کئے۔

نواب آف بہاولپور صادق محمد خان سادہ لیکن خوددار شخصیت کے مالک تھے۔ اپنے لندن میں قیام کے دوران ایک روز سادہ لباس میں عام شہری کی طرح ٹہلنے نکلے اور اسی دوران دنیا کی معروف ترین کار ساز کمپنی "رولزرائس” کے شوروم پر نظر پڑی۔ شو روم میں کھڑی گاڑیاں بے حد پسند آئیں لیکن جب ان کی قیمت معلوم کرنے کے لئے اندر داخل ہونے لگے تو دروازے پر موجود گارڈ نے ان کو غریب ایشیائی باشندہ سمجھ کران کہا کہ یہ گاڑیاں تمہاری پہنچ سے بہت دور ہیں۔

گارڈ کی اس بدتمیزی کے بعد نواب آف بہاولپور واپس ہوٹل آئے اور اگلے ہی دن پورے شاہی لوازمات کے ساتھ ملازموں کی فوج لے کر شوروم پہنچے اور وہاں موجود چھ کی چھ گاڑیاں خرید لیں اور ملازموں کو حکم دیا کہ فوراً یہ گاڑیاں بہاولپور بھجوا کر میونسپلٹی کے حوالے کر دی جائیں اور ان گاڑیوں سے شہر کو صاف کرنے اور کوڑا اٹھانے کا کام لیا جائے۔ جب بہاولپور میں رولز رائس گاڑیاں کوڑا اٹھانے لگیں تو یہ بات پوری دنیا میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی او ر مارکیٹ میں رولز رائس کی قیمت تیزی سے گرنے لگی۔ دنیا میں رولزرائس کمپنی کی ساکھ کو بری طرح نقصان پہنچا کہیں بھی رولز رائس کا نام لیا جاتا تو لوگ ہنسنے لگتے اور کہتے کہ” وہی رولزرائس جس سے پاکستان کے شہر بہاولپور میں کوڑا اٹھایا جاتا ہے”۔ اس صورتحال سے پریشان ہو کر رولز رائس کمپنی کے مالک نواب صاحب سے معافی مانگنے خود بہاولپور آئے اور تحریری معافی نامہ پیش کیا اور درخواست کی کہ گاڑیوں کو کوڑا اکٹھا کرنے اور صفائی کے کام سے ہٹا دیا جائے۔ نواب صادق محمد خان نے ان کی معافی قبول کرتے ہوئے تمام گاڑیوں کو کوڑے اور صفائی کے کام سے ہٹا دیا۔ رولز رائس کمپنی کے مالک نے نواب آف بہاولپور کو بطور تحفہ چھ نئی گاڑیاں بھی پیش کیں جن میں سے ایک نواب صادق محمد خان نے پاکستان کے دورے پر آئے سعودی عرب کے شاہ کو تحفے میں دے دی جو سعودی عرب کی سرزمین پر چلنے والی پہلی رولزرائس گاڑی تھی۔ رولز رائس اس وقت دنیا کی 10 مہنگی ترین گاڑیوں میں شامل ہوتی ہے۔ محب وطن اور اعلیٰ صفت نواب آف بہاولپورنے 1966ء کو لندن میں وفات پائی بعد ازاں ان کے جسدِ خاکی کو بہاولپور منتقل کر کے ان کے آبائی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Translate »