fbpx

وزیراعظم عمران خان سے قوم کو بہت امیدیں وابستہ تھیں

 سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کےقریبی ساتھی ،فل برائٹ سکالر اور سرکردہ دانشور پروفیسر ڈاکٹر محمد اسلم خان نارو نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان سے قوم کو بہت امیدیں وابستہ تھیں لیکن افسوس کہ وہ اپنے پہلے ہی ’’اوور‘‘ میں اتنی ’’نوبالز‘‘ اور ’’لوز بالز‘‘پھینک چکے ہیں کہ اب  میچ ان کے ہاتھ سے نکلتا دکھائی دے رہا ہے۔ اس لیئے میں ایک بار پھر کہتا ہوں کہ نیا پاکستان بنانا تو درکنار کپتان صاحب ’’بھٹو دور‘‘ کا گمشدہ پاکستان ہی واپس لے آئیں تو ان کی بڑی کامیابی ہو گی ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے خانپور، دھریجہ نگر،ظاہرپیر، آباد پور، راجن پور کلاں ، کوٹ سبزل اور بھونگ سمیت ضلع رحیم یارخان کے مختلف علاقوں سے اپنی رہائش گاہ پر  عید ملنے کیلئے  آنے والے سینئر سیاسی کارکنوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا، ڈاکٹر اسلم نارو کا کہنا تھا کہ سیاست میں پہیہ کبھی اُلٹا نہیں گھومتا ، جو وقت گذر گیا ہے  نہ وہ اب واپس آ سکتا  نہ وزیراعظم عمران خان کی حکومت کو اپنا ہنی مون پیریڈ دوبارہ واپس مل سکتا ہے ، ڈاکٹر اسلم ناروکا کہنا تھا کہ  پی ٹی آئی حکومت میں شامل مختلف مافیاز اور کارٹلز کے ’’سہولت کاروں‘‘ نے وزیراعظم بننے کے بعد  عمران خان کو   پہلے سات آٹھ مہینوں میں صرف غریبوں کو ’’نچوڑنے‘‘ پر لگا دیا حالانکہ کپتان کی حکومت کو مینڈیٹ تو امیروں کو ’’نچوڑنے‘‘ کے انتخابی نعرے پر ملا تھا، ڈاکٹر اسلم نارو نے کہا  کہ صرف پاکستان نہیں بلکہ پوری دنیا ’’تبدیلی‘‘ کے دوراہے پر کھڑی ہے اور مغربی استعمار اپنے غاصبانہ عالمی  تسلط کو بچانے کیلئے آخری جنگ لڑنے پر تلا دکھائی دیتا ہے اس لیئے وزیراعظم عمران خان کے پاس موجودہ گومگو پالیسی پر ہی چلتے رہنے کا زیادہ وقت نہیں رہا، انہیں اب یہ فیصلہ کرنا پڑے گا کہ اُن کی آنے والے سوا چار سال کی پالیسیاں آئی ایم ایف اور پی ٹی آئی کی ’’اے ٹی ایم مشینوں‘‘ کے ہاتھوں یرغمال رہیں گی یا وہ ملک کو کرپشن فری اور منصفانہ بنیادوں پر چلانے کیلئے کارٹلز اور مافیاز سے لوٹی دولت وصول کرنے کیلئے ایسے سخت فیصلے بھی  کریں جن کی امید میں انہیں برسر اقتدار لایا گیا ہے اور جو حقیقی عوامی امنگوں کے ترجمان بھی ہیں ۔ ڈاکٹر اسلم نارو نے وزیراعظم عمران خان کو مشورہ دیا ہے کہ اب بھی وقت ہے کہ تبدیلی سرکار اپنی ترجیحات بدلے اور  تعلیم ، صحت ، روزگار، رہائش، لباس پانچ چیزوں کیلئے بجٹ اور سبسڈیز  بڑھائیں کیونکہ کسی قوم کی ترقی کے  یہی پانچ بنیادی ستون ہیں انہوں نے کہا کہ اگر نیا روڈ میپ نہ بنایا گیا تو پرانی حکومتوں اور تبدیلی سرکار میں کوئی فرق نہیں رہے گا ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Translate »
Close
Close