fbpx

’ہمیں موت کا سرٹیفیکیٹ آسانی سے مل جاتا ہے تو شادی کا سرٹیفیکیٹ ملنے میں اتنی دیر کیوں لگتی ہے؟‘

مسیحی تہوار ایسٹر سے دو روز پہلے میاں بیوی عمران اور ثمینہ، لاہور کے چرچ آف پاکستان کی عمارت پر کی گئی سجاوٹ اور اس کے احاطے کی صفائی کروانے میں مصروف تھے۔ یہ دونوں اسی چرچ میں پڑھاتے اور رہتے بھی ہیں۔

سنہ 1877 میں بنی اس عمارت کی دیکھ بھال کی ذمہ داری چرچ میں کام کرنے والے سبھی لوگ نبھاتے ہیں، چاہے ان کا تعلق اُس شعبے سے ہو یا نہ ہو۔

لیکن گذشتہ دو سالوں سے چرچ کے کام کاج سے فارغ ہونے کے بعد عمران اور ثمینہ اپنی شادی کے اندراج کے بارے میں پاسٹر شاہد معراج سے ملاقات کرتے ہیں اور اس بارے میں ہونے والی پیشرفت کے بارے میں پادری کو آگاہ کرتے ہیں۔

عمران اور ثمینہ سیمیوئل کی شادی کو دو سال ہونے والے ہیں لیکن اب تک ان کی شادی کا علاقے کی یونین کونسل میں اندراج نہیں ہوا اور نہ ہی نادرا سے انھیں شادی کا سرٹیفیکیٹ جاری ہوا ہے۔

عمران نے کہا کہ ’ہمیں کہا جاتا ہے کہ آپ کا چرچ اور پادری رجسٹرڈ نہیں ہیں۔ پہلے وہ رجسٹر ہوں گے تب ہی آپ کو سرٹیفیکیٹ جاری ہوگا۔ اس کی وجہ سے ہماری شادی کا کہیں کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔‘

ثمینہ نے اپنی شادی کی تصاویر اپنے فون پر دکھاتے ہوئے کہا۔ ’ہماری شادی اسی چرچ میں ہوئی تھی اور مجھے امید بھی نہیں تھی کہ ہمارے چرچ کے بارے میں کوئی سوال اٹھا سکتا ہے۔‘

مسیحی جوڑے چرچ اور حکومت کے بیچ چپقلش میں پھنسے ہوئے ہیں

حال ہی میں اسلام آباد میں ایک مسیحی خاتون صائمہ کے جبری طور پر مذہب تبدیل کروانے کی خبر پورے ملک میں پڑھی اور دیکھی گئی۔

حالانکہ اُس کیس میں حکومت کی طرف سے بنائے گئے انکوائری کمیشن نے ملزمان کو سزا سنائی لیکن کچھ دنوں بعد صائمہ کے خاوند نوید اقبال کے مطابق، ملزمان صائمہ کو اپنی تحویل میں لینے کی درخواست جمع کروا چکے ہیں۔

اس اطلاع کے بعد سے نوید اقبال اپنی شادی کے کاغذات اکٹھا کرنے میں مصروف ہیں۔

ثمینہ نے اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہی خوف ہمیں بھی ہے۔ بہت سے لوگ اس بات کو نہیں سمجھتے اور ہمارا مذاق اڑاتے ہیں کہ شادی کا اندراج بھی کوئی مسئلے کی بات ہے؟ ہاں ہے، اگر آپ مسیحی یا کسی بھی اقلیتی برادری سے تعلق رکھتے ہیں تو بے شک یہ ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔‘

حکومت اور چرچ کے درمیان چپقلش

عمران اور ثمینہ اس وقت چرچ اور حکومت کے بیچ میں ہونے والی چپقلش میں پھنسے ہوئے ہیں۔

ایک طرف پنجاب حکومت صوبے میں موجود تمام چرچ اور ان میں کام کرنے والے پادریوں کو رجسٹر کروانا چاہتی ہے تو دوسری طرف پادری ایسا کرنے سے انکار کرتے ہیں۔

وہ سنہ 1872 میں بنے کرسچیئن میرج ایکٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ انھیں اس قانون کے تحت شادی کروانے کے لیے لائسنسنگ کی ضرورت نہیں ہے۔

مسیحی عمران
لاہور ڈائسس کے پاسٹر شاہد معراج کا کہنا ہے کہ اس وقت معاملہ شادیوں کو رجسٹر کرنے کا ہے نہ کہ پادریوں کی لائسنسنگ کا

پنجاب حکومت کے 2017 کے اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں 35 لاکھ مسیحی افراد ہیں۔ پچھلی کئی دہائیوں سے یہ لوگ شادی کے لیے 1872 میں بنے کرسچیئن میرج ایکٹ پر عمل کرتے آ رہے ہیں جس میں چند موضوعات، جیسے کہ طلاق دینے کے حوالے سے چند نکات پر ترمیم کے علاوہ، شادی کروانے کے عمل میں پادری کے کردار پر کوئی دو رائے نہیں ہیں۔

رواں سال جنوری میں سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے تین رکن بنچ پر مشتمل سماعت کے دوران یونین کونسل کو پابند کیا تھا کہ وہ مسیحی شادیوں کے اندراج کو یقینی بنائیں۔

انھوں نے نادرا کو بھی حکم جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ رجسٹریشن کی بنیاد پر مسیحی جوڑوں کو سرٹیفیکیٹ جاری کریں جو ان کی شادی کے ایک پختہ ثبوت کے علاوہ شناختی کارڈ میں تبدیلی اور بچوں کے ب فارم بنوانے میں رکاوٹیں دور کر سکے۔

مسیحی برادری کے مطابق اس فیصلے پر اب تک عمل نہیں کہا جا رہا ہے۔ عمران کا کہنا تھا ’بلکہ اب ہم سے یونین کونسل کی سطح پر پیسے طلب کیے جاتے ہیں تاکہ معاملات آگے بڑھیں۔‘

سپریم کورٹ میں سماعت چرچ آف پاکستان، لاہور ڈائسس کے پاسٹر شاہد معراج کی درخواست پر کی گئی تھی۔

بی بی سی سے بات کرتے ہویے شاہد معراج نے کہا کہ اس وقت معاملہ شادیوں کو رجسٹر کرنے کا ہے نہ کہ پادریوں کی لائسنسنگ کا۔

’پنجاب اسمبلی کے ہوتے ہوئے ہم نے سپریم کورٹ میں جون 2018 میں استدعا کی اور انھوں نے ہمیں سنا۔ کرسچن میرج ایکٹ 1872 کا سیکشن پانچ ہمیں اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ ہم قانونی طور پر نکاح پڑھائیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’سیاسی طور پر اکثر ایسے ہتھکنڈے استعمال کیے جاتے ہیں جس سے ہم بخوبی واقف ہیں۔ اب یہ معاملہ بلدیاتی حکومت اور انسانی حقوق کی وزارت کے ذریعے ہی حل ہوسکتا ہے۔‘

مسیحی عمران
تمام گرجا گھروں کے پادریوں کے پاس تھیولوجی کی تعلیم ہونا ضروری ہے، جس کے تحت یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ آیا ان کو بحیثیت نکاح خواں رجسٹر کرنا چاہیے یا نہیں

وزارت برائے انسانی حقوق اور اقلیتی امور پنجاب کے اعجاز عالم آگسٹین نے بی بی سی کو مسیحی شادیوں کی رجسٹریشن کے بارے میں بتایا کہ ’جتنے مین لائن گرجا گھر ہیں ان کو ایک دھارے میں لانا بہت ضروری تھا۔ اس وقت محکمہِ داخلہ کے ذریعے ہمارے پاس 2890 چرچ رجسٹرڈ ہیں لیکن یہ چرچ اور یہاں کام کرنے والے پادری شادی کروانے کے حوالے سے رجسٹر نہیں ہیں۔ اور یہ رجسٹریشن ضروری ہے۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا محکمہ داخلہ کے تحت رجسٹریشن ہونا کافی نہیں ہے، تو اعجاز عالم نے کہا کہ ’محکمہ داخلہ کے پاس اندراج ہونا حفاظتی اقدامات کے تحت ضروری تھا لیکن وہ ایک الگ معاملہ ہے۔‘

ان کے مطابق ان گرجا گھروں میں شادی ہونے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں تھی اور نہ ہے۔ ان تمام گرجا گھروں کے پادریوں کے پاس تھیولوجی کی تعلیم ہونا ضروری ہے، جس کے تحت یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ آیا ان کو بحیثیت نکاح خواں رجسٹر کرنا چاہیے یا نہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’کچھ ایسے مقدمات سامنے آئے ہیں جہاں لڑکیوں کی شادی نام نہاد پادریوں نے کروائی جس کے نتیجے میں مسیحی برادری کو نقصان اٹھانا پڑا۔ اب ہم یہ چاہتے ہیں کہ جتنے بھی ایسے لوگ ہیں ان کو اندراج کے عمل کے ذریعے باہر نکالا جائے۔‘

اعجاز عالم آگسٹین نے کہا کہ اس پورے عمل میں ایک ماہ لگ سکتا ہے جبکہ شاہد معراج کہتے ہیں کہ حکومت کو یہ بات کہتے ہوئے تین سال ہو چکے ہیں۔

’اس پورے معاملے کو آسان بنانے کی ضرورت ہے۔ ہمیں دفتروں کے چکر لگوانے اور میٹنگ بھگتانے میں لگا دیا ہے۔ یونین کونسل بنوانے کا مقصد لوگوں کو گھر میں سہولت پہنچانا تھا نہ کہ ان کو تنگ کرنا۔ ہمیں موت کا سرٹیفیکیٹ آسانی سے مل جاتا ہے تو شادی کا سرٹیفیکیٹ ملنے میں اتنی دیر کیوں لگتی ہے؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Translate »