fbpx

حکومت نے موجودہ بجٹ میں کاشتکاروں کو مکمل نظر انداز کیا ہے,چوہدری محمد جعفر اقبال

رحیم یارخان : سینئرمرکزی رہنما پاکستان مسلم لیگ (ن)سابق ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی وسنیٹر چوہدری محمد جعفر اقبال نے بجٹ 21-2020 پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے موجودہ بجٹ میں کاشتکاروں کو مکمل نظر انداز کیا ہے،
اس وقت ملک کی 70 فیصد آبادی کا انحصار زراعت پر ہے۔
زرعی ترقیاتی بنک جسے کاشتکاروں کے لیے ریلیف کا ذریعہ ہونا چاہیے تھا اسے بھی کمائی کا ذریعہ بنا کر رکھ دیا گیا ہے انتہائی سخت شرائط پر قرض کی فراہمی کاشتکاروں کو ریلیف کے بجائے مشکلات کا شکار کر دیتی ہے۔
اس وقت کسانوں اور کاشتکاروں کے لیے شرح سود جو کہ 14 فیصد کو مکمل ختم یا 2 فیصد کر دی جاتی تاکہ زراعت کا شعبہ پروان چڑھتا اور کسان بھی خوشحال ہوتا۔
سینئرمرکزی رہنما مسلم لیگ(ن)چوہدری محمد جعفر اقبال نے مزید کہا کہ کپاس جس پر ٹیکسٹائل کی صنعت کا مکمل انحصار ہے ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہی تھی اور اس کی ایکسپورٹ سے وسیع زرمبادلہ کمایا جاتا تھامگر یہ بھی حکومت کی ناقص پالیسیوں کے باعث زبوں حالی کا شکار ہے
جبکہ گندم ہمارے ملک میں و افر کاشت اور ایکسپورٹ کی جاتی ہے مگر حکومت کی غلط پالیسیوں اور زراعت کے شعبے پر توجہ نہ دینے کی وجہ سے آج گندم بھی امپورٹ ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ کپاس،کماد اور گندم کے ریٹ بڑھائے جائیں اورکسانوں کو آسان شرائط پر قرضے فراہم کیے جائیں،
بجلی کی مفت یا سستی فراہمی کو یقینی بنایا جائے اس سے جہاں کاشتکار اور کسان خوشحال ہو گا وہاں ملک بھی زراعت کے شعبے میں خود کفیل ہو سکے گا۔ کئی ممالک ایسے ہیں جن میں کسانوں کو مفت بجلی فراہم کرنے سے اس شعبے کو تقویت مل رہی ہے۔
اس وقت پوری دنیا میں کرونا کی وجہ سے جو حالات بنے ہوئے ہیں اور ہمارا ملک اس وبا کی وجہ سے جس نازک صورتحال کا شکار ہے اس میں واحد شعبہ زراعت کا ہے جس پر توجہ دے کر ملکی معیشت میں استحکام لایا جا سکتا ہے کیونکہ زراعت کو ہماری معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے۔
انہوں نے کہا کہ جو حکومت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی اور اس کی ترسیل کو ممکن نہ بنا سکی وہ حکومت اور اس کے نااہل مشیر /وزیر قومی نوعیت کی حکمت عملی کیسے مرتب کر سکتے ہیں ۔انہوں نے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ نہ کرنے پر بھی اپنی تشویش کا اظہار کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Translate »