fbpx

وکلاء کے لئے دیا جانے والا دس کروڑ روپے کا چیک بوگس نکلا

رحیم یارخان :حکومت وکلاء کو ریلیف فراہم کرنے کے لئے بھاری فنڈز فراہم کرے،پنجاب بھر کی عدالتوں کے وکلاء کے لئے دیا جانے والا دس کروڑ روپے کا چیک بوگس ثابت ہوا ہے،

سفید پوش وکلاء لاک ڈاؤن کی وجہ سے شدید معاشی بحران میں مبتلا ہیں،

حکومت کی جانب سے صرف دس ہزار روپے فی کس دینے کا فیصلہ ناقابل قبول ہے۔ ان خیالات کا اظہار سٹی کونسل فار ویلفیئر کے جنرل سیکرٹری ساجد رفیقی ایڈووکیٹ اور رائٹس کونسل فار ویلفیئر کے جنرل سیکرٹری احمد سجاد بلالی ایڈووکیٹ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ چند روز قبل پنجاب حکومت کی جانب سے رحیم یارخان سمیت صوبہ بھر کی عدالتوں کے سفید پوش وکلاء کے لئے مالی امداد کی مد میں دس کروڑ روپے کا چیک دیا گیا تھا جو کہ باؤنس ہو چکا ہے

جبکہ مذکورہ رقم کے حساب سے فی قانون دان دس ہزار روپے فراہم کئے جانے تھے جو کہ اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کورونا وباء کی وجہ سے کئے جانے والے لاک ڈاؤن کے نتیجہ میں جہاں دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد معاشی طور پر تنگدستی کا شکار ہوئے ہیں وہیں سفید پوش وکلاء بھی شدید مالی بحران میں مبتلا ہیں جن کی بحالی ریاست کی ذمہ داری ہے،

وکلاء برادری سے تعلق رکھنے والے سفید پوش افراد کے لئے خاطر خواہ فنڈز فراہم کئے جائیں تاکہ ضرورت مند اور سفید پوش وکلاء اپنے کنبے کی کفالت کر سکیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ چیف جسٹس آف پاکستان وکلاء برادری کو لاک ڈاؤن کے دوران معاشی تنگدستی سے بچانے کے لئے حکومت کو احکامات جاری کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Translate »