رحیم یارخان

سانحہ آرمی پبلک سکول پشاور کو 5سال بیت گئے

رحیم یارخان سانحہ آرمی پبلک سکول پشاور کو 5سال بیت گئے ہیں۔ دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے معصوم اور بے گناہ بچوں کے والدین آج بھی اپنے پیاروں کی یادمیں اشک بار ہیں۔
16دسمبر کو ا ن کے زخم ہرے ہوجاتے ہیں۔ قوموں پر مشکل وقت آتے ہیں لیکن پھر ایسی ہی قوم مضبوط اور کامیاب قوم بن کر ابھرتی ہے جو چیلنجز کا دلیری سے سامنا کرے۔
ہم اے پی ایس کے شہید بچوں اور ان والدین کو سلام پیش کرتے ہیں ان خیالات کا اظہار ماہر فریدیات مجاہد اقبال جتوئی نے ڈسٹری بیوٹر ایسوسی ایشن کی جانب سے سانحہ اے پی ایس کی یاد میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
تقریب کا انعقاد ڈسٹری بیوٹر ایسوسی ایشن خان پور نے کیا جس میں تحصیل بھر سے مختلف سکولز کے طلبائ و طالبات اور اساتذہ نے کثیر تعداد میں شرکت کی اور سانحہ اے پی ایس کے شہدائے کو ٹیبلوز کے ذریعے خراج تحسین پیش کیا۔
تقریب میں شہریوں، سول سوسائٹی، وکلائ کمیونٹی اور صحافی برادری نے بھی کثیر تعداد میں شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر بار محمد افضل صادق‘ صدر ڈسٹری بیوٹر شاہد اقبال جتوئی، میڈم نصرت جہاں‘ پروفیسر عطائ محمد قریشی، ساجد فرید بھٹی، سرائیکی ٹیلی فلموں کے اداکار تاج گل خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمیں ہمہ وقت چوکنا رہنا چاہیے۔ تعلیمی اداروں کے معصوم بچوں کی حفاظت کے لیے سخت سے سخت اقدامات بہت ضروری ہیں۔پاکستان کو مستحکم ملک بنانے کے لیے ہمیں اپنا فرض قرض سمجھ کر ادا کرنا چاہیے۔ سانحہ پشاور ایسے سانحات کو روکنے کے لیے والدین اور اساتذہ کو چشمِ بیدار رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ آرمی پبلک سکول پشاور میں 140معصوم بچوں کے جنازے دیکھ کر تو آسمان بھی اشک بار تھا اور آج بھی ہمارے لئے وہی صورتحال ہے سانحہ کی یاد میں پورے ملک میں سوگ کی کیفیت ہے انہوں نے کہا کہ دسمبر کا مہینہ جیسے ہی شروع ہوتا ہے ایسا لگتا ہے جیسے سانحہ اے پی ایس کی یاد میں ملک بھر میں صف ماتم بچھ گیا ہے انہوں نے کہا کہ سنگ دل دہشت گردوں نے انسانیت سوزی کا جو مظاہرہ کیا اس کے سامنے ہلاکو خان اور چنگیز خان کے مظالم بھی مات ہو گئے ہیں۔ پاکستان کی سلامتی اور بقائکا تقاضا ہے کہ ہم اپنا احتساب کریں اور فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی سے گریز کریں۔ تعلیمی ادارے اخلاقی تربیت کی نرسری ہیں۔ معصوم بچوں کو اخلاقی اقدار کی دولت سے مالا مال کرنے کے لیے مسلسل محنت کی ضرورت ہے۔ سخت سردی کے باوجود طالب علموں نے آرمی پبلک سکول کے شہدائ کو نہ صرف یاد کیا بلکہ وطنِ عزیز کی سلامتی کے لیے قربانی دینے کا عزم بھی کیا۔تقریب میں ملی نغموں اور ٹیبلو خاکے پیش کرکے پوزیشن حاصل کرنے والے طلبائ و طالبات میں سرٹیفکٹ اور ٹرافیاں تقسیم کی گئیں ، پہلی پوزیشن رینجرز پبلک سکول کے طلبائ نے حاصل کی جبکہ دوسری پوزیشن سنٹرل پبلک اسکول اور تیسری پوزیشن سپرئیر کالج نے حاصل کی ، تقریب کی نظامت کے فرائض ارسلان شاہد جتوئی نے ادا کئے جبکہ تلاوت کی سعادت معاذ قمر جتوئی نے حاصل کی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button