عاطف مزاری کے بیٹے کے خلاف ظاہر پیر میں اغوا کا مقدمہ درج,مقدمہ سچا یا جھوٹا

رحیم یارخان : چاچڑاں شریف کے رہائشی غلام محمد خالطی نے کہنا ہے کہ وہ 31 مئی کی شام 6 بجے اپنے بیٹے عدنان خالطی کے ساتھ اپنے ڈیرے پر موجود تھا کہ اتنے میں عاطف مزاری کا بیٹا باسط خان میرے ڈیرے پر آیا جو میرے بیٹے کا دوست ہے  اور آتے ہی کھانا کھانے کا کہا میں کھانا بنوانے گھر گیا، واپسی پر دیکھا کہ میرا بیٹا عدنان بمعری 45سال اور میری کار ہنڈا سیوک بلیک کلر نا موجود تھی ،گواہان محمد اکبر ،جام عزیز نے بتایا کہ باسط میرے بیٹے محمد عدنان کو گن پوائنٹ پر اغوا کر کے لے گیا، میری تحریری درخواست پر تھانہ ظاہر پیر پولیس نے زیر دفعہ 365 ت پ کے تحت اغوا کا مقدمہ باسط خان کے خلاف درج کر لیا ،

مقدمہ باسط خان مزاری
مقدمہ باسط خان مزاری

اغوا کی رات سندھ پولیس عمر کوٹ کے علاقہ سے اپنے والد عاطف خان مزاری کے قتل کے جرم میں باسط خان مزاری کو حراست میں لیتی ہے تاہم  گرفتاری کے وقت پولیس نے   مغوی محمد عدنان کی بازیابی کا کوئی ذکر نہیں کیا،

 

محمد عدنان خاطی
محمد عدنان خاطی


ویڈیو میں مغوی اور اغوا کار دونوں پولیس حراست میں ہیں ،

رحیم یارخان کی ظاہر پیر پولیس نے مغوی کا مقدمہ 1 جون2020 کو درج کیا جبکہ باسط خان اپنے درینہ دوست محمد عدنان کو 31 مئی کو کو گھر سے لے کر جاتا ہے اور اسی شام باسط کو پولیس حراست میں لے لیتی ہے ،

باسط مزاری حراست میں
باسط مزاری حراست میں

سوال یہ ہے کہ پولیس باسط خان کے ساتھ آگے کیا کرنے جا رہی ہے ،کیا عدنان خالطی نے پولیس کو بھاری معاوضہ دیکر اپنے ہی مبینہ اغوا کا مقدمہ درج کر وایا ؟ اور عاطف خان مزاری کے قتل کے مقدمہ میں مکھن میں بال کی طرح باہر نکلنے کا پلان بنایا ؟

 

یہ بھی پڑھیں : سردار عاطف حسین خان مزاری کا قتل اور ہم

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Translate »
Close
Close