رحیم یارخان میں بنکوں کی سیکورٹی کیوں چیک کی جا رہی ہے

رحیم یارخان: تمام بنک اور مالیاتی ادارے اپنے سکیورٹی سسٹم کو ایس او پی کے مطابق فعال رکھیں، سکیورٹی گارڈ اپنی مقررہ جگہوں اور مورچوں میں الرٹ رہیں، الرم درست حالت میں ہونا چاہیے سکیورٹی پر مامور آفیسر سی سی ٹی وی پر نگرانی یقینی بنائے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے سٹی ایریا میں مختلف بنکوں میں جا کر سکیورٹی سسٹم کی چیکنگ کے دوران بنکوں کے افسران سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں  نے کہا کہ کسی بھی ضلع میں معاشی معاملات میں بنک انتہائی اہمیت کے حامل ہیں جس کے زریعے لوگ اپنا سرمایا محفوظ طریقہ سے استعمال میں لاتے ہیں اسی وجہ سے بنک کی سکیورٹی سب سے اہم ہونی چاہیے تاکہ کوئی بھی شر پسند، لٹیرا ریڈٖ کی ہڈی کی حثیت رکھنے والے ان اداروں کو لوٹنے کی جسارت نہ کرے،

انہوں نے بنک افسران سے کہا کہ اپنے سکیورٹی سسٹم کو مروجہ ایس او پی کے مطابق یقینی رکھیں اور اس سلسلہ میں کسی قسم کی سستی، کوتاہی اور لاپرواہی کسی بھی بڑے نقصان کا باعث بن سکتی ہے،

ڈی پی او نے بنک میں قائم مورچے چک کئے، سکیورٹی گارڈز سے ان کے فرائض، اسلحہ کے استعمال اور عمومی صورت حال میں ڈیوٹی کے بارے میں سوالات کئے اور انہیں اس سلسلہ میں مختلف ہدایات دیں،

انہوں نے بنک اہلکاروں سے کہا کہ سکیورٹی گارڈ سے اس کے فرائض سے ہٹ کر کوئی کام نہ لیا جائے، انہیں ان کی ڈیوٹی کی جگہ سے کبھی نہ ہٹایا جائے، جہاں ڈیوٹی وہیں رہیں اور جو مورچہ بند ہے بنک اوقات میں وہ اپنا مورچہ ہرگز نہ چھوڑے، الرم درست حالت میں رکھیں اور کو آفیسر سکیورٹی کے لیے مقرر ہے وہ روزانہ سکیورٹی سسٹم کو چک کرے اور سی سی ٹی اس کی نظر کے سامنے ہو اور وہ پورا وقت بنک میں آنے جانے والوں اور اطرف میں جہاں تک کیمروں کی رسائی ہے ہر قسم کی نقل و حرکت پر نظر رکھے کسی بھی مشکوک صورت حال میں مقامی پولیس سے مدد حاصل کریں تاکہ کسی بھی ناگہانی صورت حال سے محفوظ رہا جا سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Translate »