چیف جسٹس صاحب پولیس سٹیٹ بنانے کا مصمم ارادہ رکھتے ہیں

ہندل نامہ
حضور سنتے ہو
انتہائی ادب سے گزارش ہے 
یہ چیف جسٹس صاحب لگتا ہے اس ملک کو 80/90 کی دہائی کی طرح واپس پولیس سٹیٹ بنانے کا مصمم ارادہ رکھتے ہیں 
یعنی 
پولیس کسی پر جھوٹا مقدمہ دائر کرے ( جو کہ پاکستان میں لگ بھگ 50 فیصد ہوتے ہیں ) تو وہ اپنی عبوری ضمانت بھی نہ کروا سکے
کبھی 22 اے ختم تو کبھی 498 ضابطہ فوجداری ختم کرنے کی سوچ
آخر چاہتے کیا ہو چیف جسٹس صاحب
اپنا کام کریں کیسوں کے فیصلے کریں قانون بنانا اور ختم کرنا قانون ساز اسمبلی کا کام ہے آپکا نہیں
اگر ایسی ہی حرکتیں رہیں تو کل کو اگر آپ کا گریبان کسی آمر نے پکڑا تو یقین مانیں وکلاء کبھی آپ کے دفاع میں کھڑے نہیں ہونگے
اور اگر
چیف جسٹس صاحب لگتا ہے اس ملک کو 80/90 کی دہائی کی طرح واپس پولیس سٹیٹ بنانے کا مصمم ارادہ رکھتے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Translate »