سرائیکی ثقافت کے فروغ کیلئے سرائیکی دانشوروں ،ادیبوں اور سرائیکی تنظیموں کا کردار روز روشن کی طرح عیاں ہے

رپورٹ : مقصود کھوکھر (سیکریٹری جنرل سرائیکی فائونڈیشن )۔

خواجہ فرید روہی امن میلہ جھوک فرید کنڈا پیر فرید چولستان میں گذشتہ 21سالوں سے ہر سال باقاعدگی کے ساتھ ہورہا ہے ۔

اس سال ضلعی انتظامیہ کی سرپرستی میں میلے کو چار چاند لگے ہوئے تھے ۔میلہ کے موقع پر سرائیکی فائونڈیشن گذشتہ تین سالوں سے سرائیکی کلچرل کانفرنس منعقد کروا رہی ہے ۔سابقہ روایت کو برقرار رکھتے ہوئے اس سال بھی سرائیکی فائونڈیشن کے زیراہتمام ’’سرائیکی کلچرل کانفرنس ‘‘اہتمام کے ساتھ منعقد ہوئی ۔

سرائیکی کلچرل کانفرنس کے چار سیشن تھے ۔

پہلے سیشن میں جھومر تاری ،نغارہ ،بین ،شرنا اور ڈھول کی تھاپ پر نوجوانوں نے سرائیکی جھمر کھیلی۔ایک گھنٹہ تک یہ سیشن جاری رہا ۔

کانفرنس کا دوسرا سیشن سرائیکی مشاعرے کا تھا۔

جس میں معروف سرائیکی شاعر امرت جوگی،ظفر منصف ،غلام مرتضیٰ ان کھٹ ،نازک فرید ،عمران اسد ،غلام مصطفی مظہر سمیت مقامی شعراء کرام نے اپنا کلام سنایا۔مشاعرے کی نشست کے دوران آکسفورڈ انٹرنیشنل سکول فیروزہ کے بچوں نے سرائیکی گیت’’ میکوں ایہو تاں ڈسا ‘‘پر بھر پور پرفارمنس دی جس پر پورے پنڈال نے بچوں کی حوصلہ افزئی کی اور تالیاں کی گونج میں ان کے فن کو سراہا ۔

کانفرنس کا تیسرا سیشن موسیقی کا تھا ۔

Cholistan farid mela
Cholistan farid mela

چولستانی لوک فنکار فقیرا بھگت کے صاحبزادے جگ مشہور موہن بھگت نے پورا یک گھنٹہ اسٹیج پر سامعین کو محظوظ کیا اور جب موہن بھگت نے خواجہ فرید کا کلام روہی کے حوالے سے گایا تو روہیلوں کے جذبات دیدنی تھے اور موہن کی کافیوں کے ساتھ جھوم جھوم کر داد دے رہے تھے اور جھمر بھی کھیل رہے تھے۔

کا نفرنس کا چوتھا سیشن گالھ مہاڑ کا تھا ۔گالھ مہاڑ کے سیشن میں میں سرائیکی دانشوروں ،قوم پرستوں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔سرائیکی فائونڈیشن پاکستان کے چیئرمین جام اظہرمراد لاڑ نے اپنے خطاب میں کہاکہ سرائیکی ثقافت کے فروغ کیلئے سرائیکی دانشوروں ،ادیبوں اور سرائیکی تنظیموں کا کردار روز روشن کی طرح عیاں ہے،حکومت سرائیکی وسیب کے اثارقدیمہ کو محفوظ کرکے سرائیکی ثقافت کو بچانے کیلئے کردار ادا کرے۔

Cholistan farid mela
Cholistan farid mela

سرائیکستان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین رانا فراز نون نے اپنے خطاب میں کہاکہ حکومت کے 100روز کی بجائے 200روز گزر چکے ہیں لیکن صوبے کی طرف پیش رفت نہ ہونا حکومتی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

سرائیکی دانشور عاشق خان بزدارسرائیکستان قومی کونسل کے صدر ظہور احمد دھریجہ ،سرائیکستان نیشنل فرنٹ اجالا لنگاہ،سرائیکستان قومی موومنٹ کے صدر سیف اللہ خان بیقرارسوجھل دھرتی واس کے صدر شاہ نواز خان مشوری ،سرائیکی نیشنل پارٹی کے رہنما احمد خان کانجو ،سرائیکی ایکشن کمیٹی کے چیئرمین راشد عزیز بھٹہ،سرائیکی ملت پارٹی کے سربراہ اصغر خان نہر ایڈووکیٹ ،سرائیکی عوامی سنگت کے رہنما مشتاق فریدی،سرائیکسان ورکرز فورم کے رہنما شاہد کوکب نوناری ،سرائیکی فائونڈیشن کے رہنما عالمگیرخان ،مقصود کھوکھر سمیت دیگر سرائیکی رہنمائوں نے خطاب کیا ۔

سرائیکی رہنمائوں نے اپنے خطابات میں کہا کہ سرائیکی صوبے کے قیام کیلئے سرائیکی وسیب میں بھر پور تحریک جاری رکھیں گے ،آج کا اجتماع بہاولپور نہ ملتان صوبہ صرف سرائیکستان پر متفقہ قرار دا د منظور کرتا ہے جس پر لوگوں نے ہاتھ اُٹھا کر سرائیکی صوبے کی قرار داد منظور کی ۔

سرائیکی رہنمائوں کا کہنا تھا کہ بہاولپور کی عوام بہاولپور صوبہ کو مسترد کرتی ہے اور اعلان کرتی ہے کہ بہاولپور کے حامی سرائیکی وسیب کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں ۔

کانفرنس کے اختتام پر سرائیکی فائونڈیشن کی طرف سے ڈاکٹر نواز کاوش،محبوب تابش،امان اللہ ارشد،عارف ملغانی ،آصف دھریجہ،عاشق خان بزدار ،موہن بھگت ،میر اسلم حیات ،ڈاکٹر نخبہ تاج لنگاہ،اکرم گھلو ،سرائیکی سٹوڈنٹ کونسل اسلام کو خدمات کے اعتراف میں ایوارڈ دئیے گے۔

سرائیکی کلچرل کانفرنس سرائیکی ثقافت کے فروغ کیلئے سرائیکی فائونڈیشن کی ایک چھوٹی سی کاوش ہے ۔ہونا تو یہ چاہیے کہ جس طرح باقی زبانوں کے فروغ کیلئے حکومتی سطح پر جس طرح کانفرنسز ،سیمینارز اور باقی سرگرمیوںکا انعقاد کیا جاتا ہے اسی طرح سرائیکی ثقافت اور زبان کے فروغ کیلئے بھی اسی طرح کی حکومتی سطح پر سرگرمیوں کی اشد ضرورت ہے ۔

دیکھنا اب یہ ہوگا کہ حکومت سرائیکی ثقافت اور زبان کے فروغ کیلئے باقی حکومتوں کی طرح سست روی کا شکار ہے یا اس حکومت نے بھی سابقہ روایت کو برقرار رکھا ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Translate »