چولستان تاریخ و تحقیق کے آئینے میں

چولستان کا رقبہ پچیس ہزار چھ سو تیرا مربع کلومیٹر ہے

چولستان پاکستان کا وسیع اور خوبصورت صحرا ہے اس میں بہت سے اضلاع آتے ہیں لیکن صحرا کا سب سے بڑا حصہ سابق ریاست بہاولپور کے تین اضلاع بہاولنگر ،بہاولپور اور رحیم یارخان پر مشتمل ہے ۔

یہ صحرا قدیم وادی ہاکڑہ کا اہم حصہ ہے جس پر مزید تحقیق اور ریسرچ کی ضرورت ہے چولستان کی قدامت بارے ابن حنیف لکھتے ہیں کہ ’’قدیم تہذیبی و تمدنی اثار کے حوالے سے وسیب میں اس لحاظ سے خصوصی اہمیت بہاولپور کے علاقے چولستان کو حاصل ہے کہ وادی سندھ کی تہذیب کے مختلف ادوار ہاکڑہ عہد ، ابتدائی ہڑپائی دور ،عروج یافتہ ہڑپائی دور ، متاخر ہڑپائی دور اور خاکستری سفالی عہد سے تعلق رکھنے والی آبادیوں کے مجموعی طور پر سب سے زیادہ آثار وہیں سے ملے ہیں جبکہ چولستان سے ملنے والے بعد کے ابتدائی تاریخی ،وسطی ( مسلم ) عہد اور بعد کے آثار ان کے علاوہ ہیں ۔

ماہرین آثاریات نے مختلف اوقات میں چولستان کے قدیم آثار تلاش کئے ہیں ، ان میں یہ قابل ذکر ہیں ، سر آرل سٹائن نے 1941ء میں چولستان میں آثار قدیمہ تلاش کئے ، ان کے بعد ڈاکٹر ہنری فیلڈ نے 1955ء ، ڈاکٹر رفیق مغل نے 1974ء سے 1977ء ، محمد صدیق ، محمد حسن نے 1992ء میں چولستان کا دورہ کیا ۔ ان میں سب سے اہم انکشافات سے پُر اور تفصیلی کام ڈاکٹر رفیق مغل کا ہے۔ تحقیقات کے ذریعے جو آثار دریافت ہوئے ان کی تفصیل اس طرح ہے کہ ان میں ہاکڑہ عہد کے 24مقامات ، ابتدائی ہڑپائی عہد کے 9 مقامات ،عروج یافتہ ہڑپائی عہد کے 2 مقامات ، خاکستری سفالی عہد کے 4 مقامات ، وسطی ( مسلم ) عہد کے 6 مقامات شامل ہیں ۔

ماہرین آثاریات کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے عمل کو سنجیدگی کے ساتھ آگے بڑھایا جائے تو اس علاقے سے بہت سے آثار قدیمہ دریافت ہو سکتے ہیں کہ وادی ہاکڑہ کی تہذیب سے ہی ہڑپہ اور موہنجو دڑو جیسی بڑی تہذیبیں پیدا ہوئیں ۔ ڈاکٹر رفیق مغل کی چولستان کے بارے میں تحقیق سب سے زیادہ ہے ۔ وہ اپنے کام کو آگے بڑھا رہے تھے مگر نہ جانے کیوں ان کے کام کو روک دیا گیا ۔ سرائیکی وسیب کا ایک جرم یہ ہے کہ اس کا کوئی وارث نہیں ہے ۔ وسیب سے اسمبلیوں میں جانے والوں کی حیثیت بے زبان جانور سے زیادہ نہیں کہ وہ بولتے ہی نہیں ۔ ان کو علم ہی نہیں آثار قدیمہ کی کیا اہمیت ہوتی ہے ۔ان کے علاوہ ریاست بہاولپور کے فرمانروا اور موجودہ نواب زادگان بھی مجرم ہیں کہ انہوں نے اس خطے سے سب کچھ حاصل کرنے کے باوجود تحقیق کے حوالے سے اس خطے کو کچھ نہیں دیا ۔ جب ہم ڈاکٹر رفیق مغل کی تحقیق کو دیکھتے ہیں تو حیرانگی ہوتی ہے کہ انہوںنے اتنا بڑا کام کر دیا ۔ وہ اس خطے کے نہ ہوتے ہوئے بھی اس خطے کے محسن ہیں ۔ وسیب سے محبت کرنے والے لوگ اور طالب علم ان کو ہمیشہ یاد رکھیں گے ۔ محکمہ آثاریات پاکستان کے سابق ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر رفیق مغل نے چولستان میں دریائے ہاکڑہ کے ساتھ ساتھ چار سو اسی کلومیٹر تک قدیم مقامات کی تلاش کا کام سر انجام دیا ۔ چولستان کا رقبہ پچیس ہزار چھ سو تیرا مربع کلومیٹر ہے ۔ آج کل تویہ صحرائی علاقہ ہے جہاں سالانہ بارش کا اوسط پانچ انچ سے بھی کم ہے اور وہ بھی یقینی نہیں مگر ہزاروں برس قبل چولستان کی آب و ہوا اور طبعی ماحول کی صورتحال بالکل مختلف تھی ۔

ڈاکٹر رفیق مغل نے چولستان میں چار مختلف مرحلوں میں کام کیا ۔پہلے مرحلے میں وہ نومبر ،دسمبر 1974ء کو چولستان آئے اور 120 مقامات تلاش کئے ۔ پھر 1975ء میں ایک ماہ چولستان میں رہے اور 80 مقامات تلاش کئے ۔ 1976ء میں ڈیڑھ ماہ کے دوران انہوں نے 161مقامات تلاش کئے اور پھر چوتھے اور آخری مرحلے کے دوران 1977ء میں 63 مقامات دریافت کئے ۔اس طرح انہوں نے چولستان میں ان چار مراحل کے دوران کل چار سو چوبیس پرانے مقامات دیکھے اور ریکارڈ کئے ۔ چولستان کے مذکورہ بالا 424 آثار کا تعلق آج سے تقریباً ساڑھے پانچ یا چھ ہزار سال قبل سے لیکر ابتدائی ،تاریخی ، وسطی اور ما بعد عہد تک ہے۔ ان مقامات کے تمدنی و تہذیبی ادوار کے لحاظ سے تقسیم و تعداد اس طرح ہے۔ ہاکڑہ عہد (3800ق م تا 3200 سال ق م کے 99مقامات، ابتدائی ہڑپائی دور (3200ق م تا 2500 ق م ) کے 40 مقامات ، عروج یافتہ ہڑپائی دور ( 2500 ق م سے 1900ق م ) کے 174 مقامات، متاخر ہڑپائی دور (1900ق م سے 1400 ق م ) کے 50مقامات ، رنگین خاکستری سفالی عہد ( 1100ق م تا 500 ق م ) کے 14 مقامات ، ابتدائی تاریخی ، وسطی ( مسلم ) اور ما بعد عہد ( 500 ق م تا مسلم اور متاخر ادوار ) کے 37 مقامات کے ساتھ ناقابل شناخت آثار کے 10 مقامات شامل ہیں ۔ یہ سروے بہت اہم ہے کہ اس دوران چولستان میں وہ قدیم ترین ننانوے آثار بھی ملے جنہیں ڈاکٹر مغل نے ’’ ہاکڑہ تمدن ‘ کا نام دیا اور انہوں نے وادی سندھ کی تہذیب کو ایک اور نام ’’ عظیم تر وادی سندھ کی تہذیب ‘‘ بھی دیا ۔ واضح ہو کہ یہاں وادی سندھ کی اصطلاح موجودہ صوبہ سندھ تک موجود نہیں ۔ چولستان کے حوالے سے ایک اہم بات یہ ہے کہ ڈاکٹر رفیق مغل کو وہاں مختلف ادوار میں ایسے آثار ملے جن سے وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ ’’ وادی سندھ کی تہذیب ‘‘ کا آغاز چولستان کی وادی ہاکڑہ تہذیب سے ہوا۔

ڈاکٹر رفیق مغل کا اہم کارنامہ چولستان میں گنویری والا کی دریافت بھی ہے ۔ عروج یافتہ ہڑپائی تہذیب کا یہ شہر یہ موہنجو دڑو اور ہڑپہ کے ہم عصر ہے اور اس دور کے شہروں کی تعداد پاکستان میں تین ہو گئی ۔ گنویری والا کے آثار قلعہ ڈیراور کے جنوب میں کوئی ستائس کلومیٹر کے فاصلے پر دریائے ہاکڑہ کے سیلابی میدان کے کنارے موجود ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ سمندر سے موہنجو دڑو، موہنجو دڑو سے گنویری والا اور گنویری والا سے ہڑپہ کی مسافت ایک جیسی ہے ۔ ڈاکٹر رفیق مغل کی تحقیق سے پہلے اسے کسی ماہر آثاریات نے دریافت نہیں کیا تھا ، اس لئے ڈاکٹر مغل نے اس کی تحقیق کی کہ موہنجو دڑو اور ہڑپہ کا درمیانی فاصلہ بہت زیادہ ہے ، ان کے درمیان ایک بڑا شہر موجود ہوگا اور ڈاکٹر مغل اس میں کامیاب ہوئے

Tags
Show More

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Translate »
Close
Close