fbpx

رحیم یارخان قرنطینہ سینٹر سے کتنے افراد گھروں کو روانہ رپورٹ آگئی

رحیم یارخان شیخ خلیفہ قرنطینہ سینٹر میں کرونا وائرس کے زیر علا ج مریضوں 8 افرادمزید صحت یاب، تعداد 25ہو گئی،
صحت یاب ہونے والے مریضوں کا  شیخ خلیفہ قرنطینہ سینٹرمیں ناقص انتظامات کی ڈپٹی کمشنر سے ملاقات کرتے ہوئے شکایات درج کروانے کا مطالبہ،
چیف ایگزیکٹو آفیسرہیلتھ ڈاکٹر سخاوت رندھاوانے ڈپٹی کمشنر کو مریضوں سے ملاقات کروائے بغیر سب اچھے کی رپورٹ دے کر ماموں بنا دیا،
ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر کے واپس جاتے ہی قرنطینہ سینٹر سے صحت یاب افراد کو گھروں کیلیے روانہ کرنے پر باہر نکالا گیا،
سینٹر میں موجود افراد انتظامیہ پرپھٹ پڑے،میڈیا نمائندگان کے سامنے،ناقص انتظامات، سی او ہیلتھ سمیت عملہ کی بدسلوکیاں کا اظہار،
موقع پر موجود ڈاکٹر زنے زبردستی قرنطینہ سینٹر کے باہر موجود افراد جس میں خواتین اور مرد شامل تھے اُنہیں فوری واپس اندر بھیجوا کر گیٹ بند کروادیا اور تھانہ بی ڈویژن کی پولیس کو موقع پر بلا لیا گیا۔
شیخ خلیفہ قرنطینہ سینٹر میں کرونا وائرس کے زیر علا ج مریضوں 8 افرادمزید صحت یاب ہونے پر انہیں واپس گھر بھیج دیا گیا،
اب تک کرونا وائرس سے صحت یاب ہونے والے مریضوں کی تعداد  25ہو گئی۔
شیخ خلیفہ قرنطینہ سینٹر میں موجود افراد نے میڈیا کو بتایا کہ انہیں کرونا وائرس کے پیش نظر دو ماہ سے قرنطینہ سینٹر میں رکھا گیا تھا،
جن میں مرد خواتین شامل ہیں جن کیساتھ محکمہ ہیلتھ کے چیف ایگزیکٹو آفیسرہیلتھ سخاوت رندھاوا اور عملہ بدسلوکی سے پیش آتا تھااور قرنطینہ سینٹر میں انتظامات بھی ناقص اور نہ ہونے کے برابر ہیں ایسے حالات میں جانوروں کو بھی نہیں رکھا جاتا ہم تو پھر بھی انسان ہیں،
جب بھی کوئی وزیر یا آفیسر موقع پر آئے ہیں سی او ہیلتھ نے ہم سے انہیں دور رکھا تاکہ ان قرنطینہ سینٹر میں ہونے والے ظلم و ستم کی خبر نہ مل سکے۔
گذشتہ روزبھی ڈپٹی کمشنر کی آمد کی اطلاعات موصول ہونے پر قرنطینہ سینٹر میں موجود شخص نے چیف ایگزیکٹو آفیسرہیلتھ ڈاکٹر سخاوت رندھاوا اور عملہ سمیت ناقص انتظامات کی شکائیت درج کروانے کا مطالبہ کیا جس پر چیف ایگزیکٹو آفیسرہیلتھ ڈاکٹر سخاوت رندھاواوزٹ پر آئے ہوئے ڈپٹی کمشنر علی شہزاد اور اسسٹنٹ کمشنر ریاست علی کو صحت یاب ہونے والے مریضوں سے یہ کہتے ہوئے ملاقات نہ کرنے دی کہ قرنطینہ سینٹر کے تمام افراد کہتے ہم نے جانا ہے جس پر مسئلہ بن جائے گا
آپ واپس چلیں، چیف ایگزیکٹو آفیسرہیلتھ ڈاکٹر سخاوت رندھاوانے ڈپٹی کمشنر کو مریضوں سے ملاقات کروائے بغیر سب اچھے کی رپورٹ دے کر ماموں بنا دیا واپس بھیجوا دیا۔
ڈپٹی کمشنر علی شہزاد کے واپس جاتے ہی د و منٹ بعد ہی قرنطینہ سینٹر میں موجود افراد کو باہر نکال کر گھروں کیلیے روانہ کیاجا رہاتھا،
کرونا وائرس سے صحت یاب ہونے والے افراد کا میڈیا سے گفتگو کرتے دیکھ کر موقع پر موجود ڈاکٹر زنے زبردستی قرنطینہ سینٹر کے باہر موجود افراد جس میں خواتین اور مرد شامل تھے اُنہیں فوری واپس اندر بھیجوا کر گیٹ بند کروادیا اور تھانہ بی ڈویژن کی پولیس کو موقع پر بلا لیا گیا۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Translate »