fbpx

کرونا وائرس نے رحیم یارخان کے کتنے افراد کو متاثر کیا رپورٹ آگئی

رحیم یار خان : ڈپٹی کمشنر علی شہزاد نے کہا ہے کہ کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے حکومت پنجاب کی ہدایات پر ضلعی انتظامیہ نے پیشگی انتظامات مکمل کر لئے ہیں، کورونامہلک مرض ضرور تاہم احتیاطی تدابیر پر عملدرآمد کرتے ہوئے  اس موذی مرض پر قابو پایا جا سکتا ہے

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈی پی او منتظر مہدی کے ہمراہ ضلعی امن کمیٹی ممبران سے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ ضلع رحیم یا رخان اور اس سے ملحقہ اضلاع میں کورونا وائرس کا کوئی متاثرہ فرد فی الحال سامنے نہیں آیا لہذا عام لوگوں کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں البتہ حفاظتی تدابیر اختیار کی جائیں۔

ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ حکومت کی ہدایات کے مطابق چین، ایران یا دیگر متاثرہ ممالک سے واپس آنے والے افراد کی سکریننگ کی جا رہی ہے اور مشتبہ مریضوں کی تشخیص اور آئسولیشن وارڈکے انتظامات بھی کئے گئے ہیں۔

انہوں نے خصوصی طور پر اہل تشیع برادری کے ذمہ داران کو کہا کہ وہ ضلع رحیم یار خان میں حالیہ دو ہفتوں کے دوران ایران سے واپس آنے والے زائرین کا ڈیٹا ضلعی انتظامیہ کو فراہم کریں اس سلسلہ میں ہر تحصیل اسسٹنٹ کمشنرز کی سربراہی میں کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں جس میں محکمہ صحت اور اہلم تشیع برادری کے نمائندے شامل ہوں گے،

انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے بھی ضلع رحیم یار خان سے تعلق رکھنے والے زائرین کی فہرست فراہم کی گئی ہے۔

ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ کورونا وائرس کی علامات زیادہ سے زیادہ دو ہفتوں میں نمایاں ہو جاتی ہیں جو لوگ زیادہ دنوں سے آئے ہیں اور ان میں علامات ظاہر نہیں ہوئی پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔

انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کا فوکس صرف ایران سے واپس آنے والے زائرین تک محدود نہیں بلکہ اس وائرس نے 45ممالک کو متاثر کیا ہے اور ضلعی انتظام حالیہ دو ہفتوں کے دوران ان ممالک سے آنے والے تمام افراد کی سکریننگ کر رہی ہے تاہم ضلع رحیم یار خان سے زائرین کی ایک بڑی تعداد ایران جاتی ہے جس کے لئے ضروری ہے کہ واپس آنے والے افراد کی سکریننگ کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ حفاظتی ماسک کی ہر شہری کو ضرورت نہیں، ماسک صرف میڈیکل ٹیمیں جنہوں نے مشتبہ افراد کی سکریننگ کرنی ہیں وہ یاممکنہ طور پر کورونا سے متاثرہ مریض سے ملنے والے افراد استعمال کر سکتے ہیں۔

سی ای او ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی ڈاکٹر سخاوت علی رندھاوا نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کورونا کا مرض صرف اس وقت ثابت ہوتا ہے جب قومی ادارہ صحت سے کسی کا ٹیسٹ مثبت آئے بصورت دیگر کسی لیبارٹری میں کورونا وائرس کی تشخیص ممکن نہیں۔

انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس ہوا سے نہیں بلکہ متاثرہ شخص سے براہ راست ملنے سے پھیلتا ہے۔اجلاس میں امن کمیٹی کے ممبران نے اپنے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Translate »
Close
Close