کپاس کی منا فع بخش پیدا وار کے مو ضو ع پر سیمینار کا انعقادکیا گیا

cotton rahim yar khan news

رحیم یار خان :کپاس کی منا فع بخش پیدا وار کے مو ضو ع پر لیاقت پور میں ایف ایف سی کی طرف سے سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔جس کے مہمان خصو صی چو ہد ری تنویر احمد ڈائریکٹر فارمز ٹریننگ اینڈ اڈیپٹو ریسرچ رحیم یار خان تھے اور محمد یٰسین کا ٹن با ٹنسٹ اینڈ کا ٹن ریسر چ سٹیشن خا نپور نے صدار ت کے فرائض سر انجام دیے پر وگرا م میں راؤ محمد اشفاق احمد ڈپٹی ڈائر یکٹر زراعت تو سیع رحیم یار خان، چو ہدری محسن محمود وڑائچ اسسٹنٹ ڈائر یکڑ زراعت تو سیع لیاقت پور، عاشق حسین سانگھی، اسلم خان اڈیپٹو ریسرچ رحیم یار خان نے خصو صی طور پر شر کت کی سیمینا ر کا مقصد کاشتکاروں میںکپاس کی منافع بخش پیداوار کے حصول سے متعلق آگاہی پیدا کرناتھا۔ اس تقریب میں 100 سے زائد ترقی پسند کاشتکاروں نے شرکت کی کاشتکار وں سے خطاب کرتے ہوئے چو ہد ری تنویر احمدنے کہا کے پاکستا ن اور خصو صاًضلع رحیم یا رخان زرعی وسائل سے مالا مال ہے انہوں نے اپنے ادارہ کی تما م سہو لیا ت کا شتکا روں کو بتا ئیں ۔ مہما نا ن خصو صی نے ایف ایف سی کا خو صو رت پر و گر ام کے انعقا د کو سرا ہا ۔ اس سیمینار کا مقصد یہ ہے کہ کمپنی کے اعلیٰ افسران ، ریسرچ اور توسیع کے اعلیٰ عہدیداران اور کاشت کار بھائی ایک چھت کے نیچے آپس میں مل کر تبادلہ خیال کریں کہ کپاس کی کاشت سے لے کر کپاس کی چُنائی تک ہونے والے تمام مراحل کو مہنگائی کے اس دور میں پانی کے محدود وسائل اور زمین کے خدوخال کو مد نظر رکھتے ہوئے زمین کی تیاری کیسے کی جائے ، بیج کی اقسام اور شرح بیج (علاقے کے حساب سے جو بھی موزوں ہو) اُن کا انتخاب کیسے کیا جائے اور کھادوں پر بلاوجہ اخراجات کر نے کی بجائے کھادوں کا متوازن اور متناسب استعمال کر کے فی ایکڑ پیداوار بڑھا کر فی ایکڑ زیادہ سے زیادہ منافع کیسے کمایا جا ئے ۔ کپاس پاکستان کی اہم نقد آور اورریشہ دار فصل ہے اور ہماری ملکی معیشت میں اس کو بنیادی اہمیت حاصل ہے کپاس نہ صرف ہمارے ملکی کپڑے اور گھی کی صنعت کو خام مال مہیا کرتی ہے بلکی پاکستان کی کل برآمدات کازیادہ تر ا انحصار اس فصل اور اس سے بننے والی اشیاء پر ہے ۔ پاکستان دنیا میں کپاس پیدا کرنے والے ممالک میں چوتھے نمبر پر ہے پنجاب کو اس لحاظ سے خصوصی اہمیت حاصل ہے کیونکہ مجموعی پیداوار کا تقریباً 60 سے 70 فی صد پنجاب میں پیدا ہوتا ہے ان تمام تر امتیازی اعداد و شمار کے باوجود ہماری فی ایکڑ اوسط پیداوار دنیا کے دیگر کپاس پیدا کرنے والے ممالک مثلاً چین ، برازیل ، ترکی ، مصر سے کم ہے ۔ پنجاب میں کپاس کی اوسط پیداوار تقریباً 19من فی ایکڑ ہے جبکہ اگر ہمارے کاشت کار بھائی زمین کی موزوں تیاری ، بہتر بیج کا انتخاب ، شرح بیج ، موزوں وقت کاشت ، جڑی بوٹیوں اور کیڑوں کا انسداد اور کھادوں کے متناسب استعمال کو ملحوظ خاطر رکھ کر فی ایکڑ اوسط پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ کر سکتے ہیں۔ عزیز شرکاء آج کے اس سیمینار میں انہی امور کا احاطہ کیا جائے گا۔ پچھلے چند سالوں میں پاکستا ن میں کپاس کا رقبہ بتدریج کم ہو ا ہے ۔ اور پنجاب میں بھی کم ہونے کے ساتھ ساتھ ضلع رحیم یا رخان میں بھی کا شتکار دوسر ی فصلو ں مثلاً کما د کی طر ف راغب ہو ئے ہیں ۔ کپا س کازیر کا شت رقبہ پنجا ب میں گذشتہ سال 4,812,000 ایکڑ رہا جو سال 2017-18 سے 5% کم تھا ۔ ضلع رحیم یار خان میں تقر یباً 410,000 ایکڑ پر کپا س کی فصل کا شت کی گئی اور اس سال کا ہد ف 455,000 ایکڑ ہے۔ اسی طر ح تحصیل لیاقت پور میں کپا س تقریبا 01 لاکھ ایکڑ رقبہ پر کا شت کی جا تی ہے اوسط پید اوار کے لحاظ سے رحیم یا رخان میں تقر یباً 21 من فی ایکڑ پید اوار حا صل ہو تی ہے ،ضلع رحیم یار خان ان چند اضلاع میں شا مل ہے جہا ں 10 لا کھ سے زیا دہ کپا س کی گا نٹھیں تیا ر ہو تی ہیں۔ فوجی فرٹیلائزر کمپنی سے تعلق رکھنے والے زرعی ماہرین نے کاشتکاروں کو کپاس کی کاشت سے متعلق تمام پہلوئوں سے آگاہ کیا۔ ماہرین نے کاشتکاروں کو بتایا کپاس کی بہتر پیداوار حاصل کرنے کے لئے کھادوں کا متناسب استعمال نہایت ضروری ہے۔ مزید براں ماہرین نے کاشتکاروں پر زور دیا کہ بہتر پیداوار کے حصول کے لئے ضروری ہے کہ کاشتکار اپنی زمین اور پانی کا تجزیہ کروائیں تاکہ فصلوں کی غذائی ضروریات کے ساتھ ساتھ زمین کے دیگر مسائل کا بروقت تعین کیا جاسکے۔ اور کاشتکاروںکے لئے یہ سہولت فوجی فرٹیلائزر کمپنی کی طرف سے بالکل مفت فراہم کی جاتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار فوجی فرٹیلائزر کمپنی کے ریجنل مینیجر جناب راجہ عمر اقبال نے رحیم یا ر خان میںکپاس کے کاشتکاروں کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔ انہوں نے کہا کہ کاشتکاروں کی رہنمائی کے لئے فوجی فرٹیلائزر کمپنی کا شعبہ فارم ایڈوائزری سینٹر کا اب چوک بہادرپور رحیم یار خاں میں قیام بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔ اور یہاں اپنے کاشتکاروں کے ساتھ مسلسل رابطے کی بنیاد پر زرعی سہولیات پہنچانے کے لئے ہمہ وقت کوشاں رہے گا۔ہیڈ فارم ایڈ وائزر ی سینٹر جنا ب عبد الحمید لو دھی نے سینڑ پر مو جو د تما م سہو لیات سے کا شتکا روں کو آگا ہ کیا انہوں نے کپاس کے پیدا واری اعدا د و شما ر بھی پیش کیے انہو ں نے بتا یا کے فارم ایڈ وائزر ی سینٹر سے نما ئشی پلا ٹ یو م کا شتکا راں اجلاس کا شتکا راں اجتما عی مبا حثے ٹریننگ پر و گر ام اور فارم وزٹ کے ذریعے جدید ٹیکنا لو جی کا شتکا روں کو فر اہم کی جا رہی ہے اُنھوں نے مزید کہا کہ فوجی فرٹیلائزر کمپنی (FFC) کاشتکاروں کی فلاح وبہبود، کھادوں کی یقینی اور بر وقت فراہمی کے لئے ہمہ وقت کوشاں ہیں ۔محمد یٰسین کا ٹن با ٹنسٹ اینڈکا ٹن ریسر چ سٹیشن خا نپور نے زرعی عوامل یعنی آبپاشی، تحفظ نباتات، زمین کی تیاری، وقت کاشت کی نشا ند ہی کے سا تھ سا تھ سفا رش کر دہ اقسام پر تفصیل سے لیکچر دیا ۔سینئر ایگزیکٹیوشفیق الرحمن نے کہا کہ کھادوں کا صحیح اور متناسب استعمال فصلوں کی پیداوار میں 25% تک اضافہ کر سکتا ہے۔ مزید براں کپاس میں آبپاشی کی اہمیت اور کھادوں کا طریقہ کار کے بارے میں کاشتکاروں کو آگاہ کیا، ایف ایف سی کے زرعی ماہرنیاز احمد نے اس موقع پر کہا کہ کاشتکار فوجی فرٹیلائزر کمپنی کی مٹی اور پانی کے تجزیے کی مفت سہولت سے ضرور فائدہ اٹھائیں، نیز ایف ایف سی کے زرعی ماہر جنا ب نیاز احمد نے کاشتکاروں پر زور دیا کہ وہ جدید زرعی ٹیکنالوجی سے بھرپور فائدہ اُٹھائیں اور ملک و قوم کی خدمت کریں۔ ۔ انہوں نے بتا یا کہ گلابی سنڈی ہماری برآمدات کا بہت سارہ حصہ ضائع کر دیتی ہے جس سے عالمی منڈیوں میں کپاس کی مناسب قیمت نہیں ملتی ، رحیم یار خاں کے کسانوں کو گلابی سنڈی کے کنڑول پر بھر پور توجہ دینی چاہئے کیونکہ سی پیک کے افتتاح کے بعد کپاس کی غیر ملکی منڈیوں تک رسائی نہایت آسان اور تیز ہو جائے گی ۔ پروگرام کے مہمانِ اعزاز رائو محمد اشفاق احمد ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت توسیع رحیم یار خاں نے کاشتکاروں پر زور دیا کہ ایف ایف سی کے بتائے مشوروں پر عمل کر کے نا صرف اپنے منافع بلکے ملکی زرمبادلہ میں خاظر خواہ اضافہ کریں۔کپاس کی کاشت میں سب سے اہم مرحلہ متوازن کھادوں کا استعمال ہے جس کے لئے ڈیڑھ بوری سونا ڈی اے پی ، ڈیڑھ بوری ایف ایف سی ایس او پی، تین بوری سونا یوریا، تین کلو گرام سونا بوران اور چھ کلو گرام سونا زنک فی ایکڑدیں کیونکہ پودہ پودے کی چھتری کے نیچے چھٹہ دے ۔ کیونکہ پیداوار کا دارومدار ان کھادوں کے متوازن استعمال میں پوشیدہ ہے۔تقریب کے دوران کاشتکاروں کپاس کی کاشت سے متعلق ایف ایف سی کے کتابچے بھی تقسیم کیے گئے۔ تقریب کے اختتام پر زرعی ماہرین نے کاشتکاروں کے فصلوں کی کاشت سے متعلق دیگر سوالات کے جواب بھی دیئے۔ اور اُن کے نام تجزیہ اراضی کے لئے لکھے گئے۔پروگرام میں معروف این گی او ۔ رورل ایجوکیشن اینڈ اکنامک ڈویلپمیٹ کے عہدیداران نے بھی خصوصی شرکت کی۔

cotton rahim yar khan news

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Translate »