دو بڑے ڈیموں کا افتتاح ہوگیا

مستقل کالم. ارداس تحریر: ریاض الحق بھٹی

پہلی بات تو یہ ہے کہ گذشتہ دو ماہ کے دوران دو بڑے ڈیموں کا افتتاح ہوگیا۔ گذشتہ مہینے 80 کروڑ ڈالرجبکہ 3 جولائی تک 23 کروڑ ڈالر کے قرضے واپس کئے گئے۔جولائی کے مہینے میں طلب سے زیادہ بجلی سسٹم میں موجود ہے۔ملک میں کورونا کیسز میں ریکارڈ کمی آرہی ہے جس کو پوری دنیا کے اخبارات میں پذیرائی مل رہی ہے۔ وزیراعظم عمران خان کے سمارٹ لاک ڈاون کی پالیسی کو دنیا فالو کررہی ہے اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن سمیت کئی ممالک کے اخبارات میں اس کی تعریف ہو رہی ہے۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ختم ہوگیاہے۔ تجارتی خسارے میں 10 ارب ڈالر کی کمی واقع ہوئی۔ اگلے مہینے پاکستان میں 8 ملکی ٹورازم کانفرنس منعقد ہورہی ہے۔ کویت کے ساتھ معاہدہ ہوگیاہے کہ کویت پاکستانی ڈاکٹروں اور نرسز کو نوکریاں دے گا۔ آئی ٹی ایکسپورٹ میں 26 فیصد اضافہ ہوگیاہے۔ فلپائن نے پاکستان سے سیمنٹ امپورٹ کرنے کا فیصلہ کرلیاہے۔ ورلڈ پاسپورٹ انڈیکس کی رینکنگ میں پاکستانی پاسپورٹ کی رینکنگ 6 درجے بہترہوئی ہے۔ ایف بی آر نے ٹیکس ہدف حاصل کرلیاہے۔ پاکستان نے نہ صرف وینٹی لیٹر بنائے ہیں بلکہ اس کو دنیا میں ایکسپورٹ بھی کررہا ہے۔کورونا وبا کے بعد پاکستان اسٹاک مارکیٹ دنیا کی تیسری تیز ترین مارکیٹ بن گئی ہے۔ ٹڈی دل کا کامیابی سے خاتمہ کردیاگیا ہے جو انڈیا نہ کرسکا۔ تمام انکوائری کمیشن کی رپورٹس کو پبلک کردیا گیاہے۔ صدر مملکت نے اپنے بجٹ میں 59 کروڑ روپے جبکہ وزیراعظم نے دس کروڑ روپے کی بچت کرکے واپس خزانے بھجوائے۔ پہلی مرتبہ احساس پروگرام کے ذریعہ غریبوں میں 162 ارب روپے تقسیم کئے گئے۔ ملک میں دو بڑے ہسپتالوں کا افتتاح ہوگیا۔ شرح سود کو 13 فیصد سے کم کرکے 7 فیصد کردیا گیا لیکن پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا خاموش ہے جہاں غلط اور غیر ضروری باتوں پر پوری توانائی ضائع کی جاتی ہے وہاں ملک و ملت کی بہتری اور حوصلہ افزائی کے لئے ایسے زمینی حقائق کی بھرپور تعریف و توصیف بھی ہونا چاہئے۔
دوسری بات یہ ہے کہ بہادر شاہ ظفر کے سارے شہزادوں کے سر قلم کر کے اسے پیش کئے گئے اور مرنے کے بعد اسے دو گز زمین تک نہ ملی اورآج بھی اس کی نسل کے بچے کھچے لوگ بھیک مانگتے پھرتے ہیں۔ کیوں۔کیونکہ تباہی ایک دن میں نہیں آ جاتی۔صبح تاخیر سے بیدار ہو نے والے افراد غور فرمائیں کہ زمانہ 1850ء کے لگ بھگ کا ہے مقام دلی ہے۔ وقت صبح کے ساڑھے تین بجے کا ہے سول لائن میں بگل بج اٹھا ہے۔ پچاس سالہ کپتان رابرٹ اور اٹھارہ سالہ لیفٹیننٹ ہینری دونوں ڈرل کے لئے جاگ گئے ہیں۔ دو گھنٹے بعد طلوع آفتاب کے وقت انگریز سویلین بھی بیدار ہو کر ورزش کر رہے ہیں۔ انگریز عورتیں گھوڑ سواری کو نکل گئی ہیں۔سات بجے انگریز مجسٹریٹ دفتروں میں اپنی اپنی کرسیوں پر بیٹھ چکے ہیں۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کے سفیر سر تھامس مٹکاف دوپہر تک کام کا اکثر حصہ ختم کر چکا ہے اور کوتوالی سمیت شاہی دربار کے خطوں کا جواب دیا جا چکا ہے۔ بہادر شاہ ظفر کے تازہ ترین حالات کا تجزیہ آگرہ اور کلکتہ بھیج دیا گیا ہے۔ دن کے ایک بجے سر مٹکاف بگھی پر سوار ہو کر وقفہ کرنے کے لئے گھر کی طرف چل پڑا ہے۔ یہ ہے وہ وقت جب لال قلعہ کے شاہی محل میں ”صبح“کی چہل پہل شروع ہو رہی ہے۔ ظل الہٰی کے محل میں صبح صادق کے وقت مشاعرہ ختم ہوا تھا جس کے بعد ظلِ الٰہی اور عمائدین خواب گاہوں کو چلے گئے تھے اور اب کنیزیں نقرئی برتن میں ظلِ الٰہی کا منہ ہاتھ دھلا رہی ہیں اور تولیہ بردار مہ جبینیں چہرہ، پاؤں اور شاہی ناک صاف کر رہی ہیں اور حکیم چمن لال شاہی پائے مبارک کے تلووں پر روغن زیتون مل رہا ہے،،! اس حقیقت کا دستاویزی ثبوت موجود ہے کہ لال قلعہ میں ناشتے کا وقت اور دہلی کے برطانوی حصے میں دوپہر کے لنچ کا وقت ایک ہی تھا۔ دو ہزار سے زائد شہزادوں کا بٹیربازی، مرغ بازی، کبوتر بازی اور مینڈھوں کی لڑائی کا وقت بھی وہی تھا۔
اب ایک سو سال یا ڈیڑھ سو سال پیچھے چلتے ہیں۔برطانیہ سے نوجوان انگریز کلکتہ، ہگلی اور مدراس کی بندرگاہوں پر اترتے ہیں برسات کا موسم ہے مچھر ہیں اور پانی ہے ملیریا سے اوسط دو انگریز روزانہ مرتے ہیں لیکن ایک شخص بھی اس”مرگ آباد“سے واپس نہیں جاتا۔لارڈ کلائیو پہرول گھوڑے کی پیٹھ پر سوار رہتا ہے۔
اب 2018ء میں آتے ہیں۔ پچانوے فیصد سے زیادہ امریکی رات کا کھانا سات بجے تک کھا لیتے ہیں اور آٹھ بجے تک بستر میں ہوتے ہیں اور صبح پانچ بجے سے پہلے بیدار ہو جاتے ہیں۔ بڑے سے بڑا ڈاکٹر چھ بجے صبح ہسپتال میں موجود ہوتا ہے۔ پورے یورپ، امریکہ، جاپان، آسٹریلیا اور سنگاپور میں کوئی دفتر، کارخانہ،ادارہ یاہسپتال ایسا نہیں جہاں اگر ڈیوٹی کا وقت نو بجے ہے تو لوگ ساڑھے نو بجے آئیں!
آج کل چین دنیا کی دوسری بڑی طاقت بن چکا ہے پوری قوم صبح چھ سے سات بجے ناشتہ اور دوپہر ساڑھے گیارہ بجے لنچ اور شام سات بجے تک ڈنر کر چکی ہوتی ہے۔
اللہ کی سنت کسی کے لئے نہیں بدلتی اس کا کوئی رشتہ دار نہیں نہ اس نے کسی کو جنا، نہ کسی نے اس کو جنا جو محنت کرے گا تو وہ کامیاب ہوگا عیسائی ورکر تھامسن میٹکاف سات بجے دفتر پہنچ جائے گا تو دن کے ایک بجے تولیہ بردار کنیزوں سے چہرہ صاف کروانے والا بہادر شاہ ظفر مسلمان بادشاہ ہی کیوں نہ ہووہ ناکام ہی رہے گا۔
بدر میں فرشتے نصرت کے لئے اتارے گئے تھے لیکن اس سے پہلے مسلمان پانی کے چشموں پر قبضہ کر چکے تھے جو آسان کام نہیں تھا اور خدا کے محبوب صلی اللہ علی وآلہ وسلم رات بھر یا تو پالیسی بناتے رہے یا سجدے میں پڑے رہے تھے!
حیرت ہے ان حاطب اللیل دانش وروں پر جو یہ کہہ کر قوم کو مزید افیون کھلا رہے ہیں کہ پاکستان ستائیسویں رمضان کو بنا تھا کوئی اس کا بال بیکا نہیں کرسکتا۔ کیا سلطنتِ خدا داد پاکستان اللہ کی رشتہ دار تھی اور کیا سلطنت خداداد میسور اللہ کی دشمن تھی۔
اسلام آباد مرکزی حکومت کے دفاتر ہیں یا صوبوں کے دفاتر یا  نیم سرکاری ادارے ہر جگہ لال قلعہ کی طرز زندگی کا دور دورہ ہے۔کتنے وزیر کتنے سیکرٹری کتنے انجینئر کتنے ڈاکٹر کتنے پولیس افسر کتنے ڈپٹی کمشنراور کتنے کلرک آٹھ بجے ڈیوٹی پر موجود ہوتے ہیں؟
کیا اس قوم کو تباہ وبرباد ہونے سے دنیا کی کوئی قوم بچا سکتی ہے جس میں کسی کو تو اس لئے مسند پر نہیں بٹھایا جاسکتا کہ وہ دوپہر سے پہلے اٹھتا ہی نہیں اورکوئی اس پر فخر کرتا ہے کہ وہ دوپہر کو اٹھتا ہے لیکن سہ پہر تک ریموٹ کنٹرول کھلونوں سے دل بہلاتا ہے جبکہ کچھ کو اس بات پر فخر ہے کہ وہ دوپہر کے تین بجے اٹھتے ہیں۔
کیا اس معاشرے کی اخلاقی پستی کی کوئی حد باقی ہے؟جو بھی کام آپ دوپہر کو زوال کے وقت شروع کریں گے وہ زوال ہی کی طرف جائے گاکبھی بھی اس میں برکت اور ترقی نہیں ہو گی اور یہ مت سوچا کریں کہ میں صبح صبح اٹھ کر کام پر جاؤں گا تو اس وقت لوگ سو رہے ہوں گے اور میرے پاس گاہک کدھر سے آئے گا۔ گاہک اور رزق اللہ رب العزت بھیجتے ہیں۔
ان باتوں پر محض غور نہیں کرنا بلکہ اصلاح احوال کے لئے ایسے عملی اقدامات اٹھانے ہیں کہ نہ صرف وطن عزیز بلکہ امت مسلمہ مزید تباہی سے ہمکنار ہونے کی بجائے ایک ایسی قوت کے طور پر دنیا میں دوبارہ سربلند ہو جس کا خواب آقا صلی اللہ علی وآلہ وسلم نے دیکھا تھا۔

Exit mobile version