fbpx

سیاسی جماعت کا کارکن دلشاد رند کرایے کا قاتل نکلا

خان پور (ڈٰیسک)جسٹس ڈیمو کریٹک پارٹی کے رہنما دلشاد رند نے دوران تفتیش بوری بند نعش والے قتل کا اعتراف کر لیا‘ قتل کے دوران دلشاد رندکی ریٹائرڈ ایس پی محمود گجر کے بھائی اور ڈرائیور اسامہ نے گلا گھونٹنے میں مدد کی‘ یہ قتل مبینہ طور پر مقتول کے قریبی رشتہ دار ڈاکٹر آفتاب چوہان کے کہنے پر 7 لاکھ روپے کے عوض کیا گیا‘ ڈاکٹر آفتاب چوہان کو شبہ تھا کہ مقتول کے اس کی پوتی کے ساتھ ناجائز مراسم ہیں۔ پولیس تھانہ صدر نے تمام ملزمان کو حراست میں لے لیا ہے۔ ایس ڈی پی او خان پور جاوید اختر خان جتوئی کے  کوٹلہ پٹھان کے نزدیک کماد کے کھیت سے ایک نامعلوم نوجوان کی بوری بند نعش ملی تھی جسے تھانہ صدر پولیس نے شناخت نہ ہونے کے سبب ضروری کاروائی کے بعد امانتاً مقامی قبرستان میں دفنا دیا تھا۔ بعدازاں سوشل میڈیا سے مقتول کی تصاویر دیکھنے کے بعد ان کے رشتے داروں نے پہچان لیا کہ اس کا نام ناصر چوہان ولد محمد اسلم ہے اور یہ اقبال آباد کا رہائشی ہے۔ مقتول نوجوان ناصر چوہان پچھلے جمعہ کے روز سے لاپتہ تھا مقتول کے نمبر کا ڈیٹا نکلوایا گیا جس سے پتہ چلا کہ مقتول کا آخری روز ظاہر پیر کے رہائشی جسٹس ڈیمو کریٹک پارٹی کے رہنما دلشاد رند کے ڈرائیور اسامہ اور ریٹائرڈ ایس پی محمود الحسن گجر کے بھائی اظہر گجر کے ساتھ رابطہ تھا ۔ پولیس نے دونوں کو حراست میں لے کر تفتیش کی تو انہوں نے بتا دیا کہ بستی قیصر چوہان اقبال آباد کے رہائشی ڈاکٹر آفتاب چوہان کی پوتی اور مقتول کے درمیان مراسم تھے جس کی وجہ سے ڈاکٹر آفتاب چوہان اس کے بیٹوں امجد چوہان اور سہیل چوہان سمیت خاندان کو شبہ تھا کہ ہماری بچی کسی بھی وقت مقتول کے ساتھ جا سکتی ہے۔ جس کا ذکر انہوں نے اپنے قریبی تعلق دار ریٹائرڈ ایس پی چوہدری محمود الحسن گجر کے بھائی چوہدری اظہر گجر کے ساتھ کیا جس نے کہا کہ میں ایک ایسے شخص کو جانتا ہوں جو اس ناصر چوہان کو ”پار“ کروا سکتا ہے۔ لہذا انہوں نے دلشاد رند کی اور ڈاکٹر آفتاب کی ملاقات کرائی جس نے مبینہ طور پر قتل کے عوض دس لاکھ روپے مانگے۔ سات لاکھ روپے طے ہوئے ڈھائی لاکھ روپے ایڈوانس ادا کئے گئے باقی بعد میں دینے کا وعدہ کیا گیا۔ اظہر گجر کے مطابق مقتول کا نمبر دلشاد رند کو دے دیا گیا جس نے رابطہ کر کے اس کے ساتھ تعلقات بڑھائے۔ دلشاد رند مقتول کو دو دن کے لئے کراچی بھی لے گیا اعتماد بڑھانے کے بعد جمعہ کے روز مقتول کو رحیم یار خان بلایا گیا جہاں اسے جوس میں نشہ آور گولی دی گئی جو کہ بے اثر رہی بعدازاں اسے ہم تینوں دلشاد رند کے دیرے پر لے گئے جہاں دلشاد رند اور اس کے ڈرائیور اسامہ نے مل کر اس کے گلے میں مفلر ڈال کر موت کے گھاٹ اتار دیا۔ اظہر گجر نے بتایا کہ جس وقت قتل ہوا میں اس کمرے میں موجود تھا ۔ قتل کرنے کے بعد ہم نے اس کی نعش بوری میں ڈال کر اسے دلشاد رند کی گاڑی میں ڈالا اور اسے خان پور جانے والے روڈ کے نزدیک کماد کی فصل میں ڈال دیا۔جس کا بعد میں پتہ چلا کہ اس جگہ کا نام کوٹلہ پٹھان ہے۔ پولیس نے بتایا کہ تمام ملزمان اپنے اپنے حصے کے کام کا اعتراف کر چکے ہیں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Translate »