fbpx

رحیم یارخان میں ضلعی انتظامیہ کا ہنگامی اجلاس

رحیم یار خان ڈپٹی کمشنر علی شہزاد کی زیر صدارت ٹڈی دل(لوکسٹ) کی انسدادی کارروائیوں کا جائزہ لینے کے لئے ہنگامی اجلاس منعقد ہوا۔
ڈیپارٹمنٹ پلانٹ پروٹیکشن، محکمہ زراعت سمیت متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔ڈپٹی کمشنر نے فیلڈ ٹیموں اورمتعلقہ محکموں کے افسران کو کہا کہ وہ از خود سرویلنس اور آپریشنل ٹیموں کی کارکردگی کو مانیٹر کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ متعلقہ محکموں کے مابین مستحکم روابط کا ہونا ناگزیر ہے لہذا تمام محکمے آپسی کوارڈینیشن کو مزید بہتر بنائیں۔ انہوں نے محکمہ زراعت کے افسران کو ذمہ داریاں تفویض کرتے ہوئے ہدایات جاری کیں کہ وہ ضلع بھر میں جاری انسدادی و سرویلنس ٹیموں بارے رپورٹ روزانہ دوپہر 1اور رات میں 7بجے تک فراہم کریں گے جبکہ محکمہ زراعت کی فیلڈ ٹیمیں متحرک نظر آنی چاہیے۔انہوں نے میٹنگ میں بذریعہ ویڈیو لنک شریک اسسٹنٹ کمشنرز صادق آباد، خانپور اور لیاقت پور کو ہدایت کی کہ وہ خود اور اپنی ٹیموں کو فیلڈ میں نکالیں جو محکمہ ذراعت کی سرویلنس جبکہ ڈیپارٹمنٹ پلانٹ پروٹیکشن کی آپریشنل سرگرمیوں کو نہ صرف مانیٹر کریں گی بلکہ مقامی آبادی اور سپرے کی جانے والی جگہوں پر جاکر جائزہ لیں گی کے انسدادی کارروائیاں نتیجہ خیز ہیں یا نہیں۔انہوں نے کہا کہ ضلع میں آپریشنل ٹیموں کی تعداد میںاضافہ کیا جائے اور ضمن میں ٹریکٹر مانٹیڈ سپریر بھی فیلڈ ٹیموں کو فراہم کیا جائے تاکہ زیادہ موثر انداز سے ٹڈی دل کو ختم کیا جا سکے۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ تمام وسائل فراہم کرے گی جبکہ تحصیلوں میں اسسٹنٹ کمشنرز متعلقہ محکموں کے ساتھ رابطہ میں رہیں گے لہذا کسی بھی ضرورت بارے فوری آگاہ کیا جائے۔انہوں نے فضائی سپرے کے لئے فیڈرل ڈیپارٹمنٹ پلانٹ پروٹیکشن کو فوری ائیر کرافٹ فراہم کرنے کے لئے مزید یاددہانی لیٹر ارسال کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ فیڈرل پلانٹ پروٹیکشن کا ائیر کرافٹ سکھر کی بجائے رحیم یار خان میں رہتے ہوئے انسدادی کارروائیوں میں شریک ہو۔ڈپٹی کمشنر کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ گیا کہ ضلع میں آپریشنل ٹیموں کی تعداد5سے بڑھا کر 7کر دی گئی ہے جبکہ نزدیکی آبادی کے لئے ٹریکٹر اور مانٹیڈ سپریر بھی حاصل کیا جا رہا ہے۔زراعت آفیسر منصور عالم نے بتایا کہ ڈپٹی کمشنر کی جانب سے بھجوائی جانے والی ڈیمانڈ پر800لیٹر سپرے جلد ڈائریکٹر جنرل زراعت کی جانب سے فراہم کر دیا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ صادق آباد میں 212/P,203/P,199P، تحصیل خانپور میں127ون ایل، 128ون ایل،129ون ایل جبکہ لیاقت پو رمیں286/1L،267/1Lاور265/1Lمیں انسدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
رحیم یار خان ڈپٹی کمشنر علی شہزاد نے کہا ہے کہ وزیرا علیٰ پنجاب تعلیمی روڈمیپ پروگرام کے تحت مطلوبہ اہداف کے حصول کو یقینی ، تعلیمی اداروں میں بہترین تدریسی و انتظامی ماحول برقرار رکھا جائے، ایجوکیشن اتھارٹی کے افسرا ن تندہی سے فرائض سر انجام دیتے ہوئے تعلیمی اداروں میں معیاری تعلیم کی فراہمی برقرار رکھنے کے لئے تسلسل کے ساتھ نتیجہ خیز وزٹ کریں، غیر حاضر اساتذہ کے خلاف محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے اور اساتذہ کو چھٹی کے لئے کم از کم دو ہفتہ قبل متعلقہ اتھارٹی سے رجوع کرنا ہوگا بصورت دیگر چھٹی فراہم نہیں کی جائےگی۔یہ ہدایات انہوں نے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن ریویو کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کیں۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر(جنرل)شیخ محمد طاہر، سی ای ا وایجوکیشن اتھارٹی رانا محمد اظہر، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر ملک مختار احمد، شہناز چوہدری سمیت تمام تحصیلوں کے ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز بھی اجلاس میں موجود تھے۔ڈپٹی کمشنر نے ہدایت کی کہ تمام ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز اپنی تحصیلوں میں کمزور انفراسٹرکچر کی حامل بلڈنگز کی نشاندہی کریں تاکہ انہیں بلڈنگ ڈیپارٹمنٹ سے چیک کرا یا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں کسی قسم کی کوتاہی نہ برتی جائے اور ایک ہفتہ میں بلڈنگز ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ مل کر تمام کمزور انفراسٹرکچر کی حامل بلڈنگز کی فہرستیں تیار کی جائیں۔انہوں نے مسجد مکتب سکولوں کو پرائمری سکولوں میں منتقل کرنے کے حوالہ سے بھی ایجوکیشن اتھارٹی کے افسران کو حکمت عملی مرتب کرنے کے احکامات جاری کئے۔انہوں نے کہا کہ سکولوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کے حوالہ سے ایک جامع رپورٹ تمام تحصیل افسران ڈسٹرکٹ ہیڈ کواٹر کو بھجوائیں تاکہ سہولیات کی فراہمی کے لئے متعلقہ فورم سے بات کی جا سکے۔انہوں نے سکولوں میں دستیاب فنڈز ، مسنگ سہولیات، ایجوکیشن اتھارٹی کی تجاویز بھی ایک ہفتہ میں مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ کلاس فور کی ریکروٹمنٹ کے حوالہ سے بھی عملی اقدامات اٹھائے جائیں گے۔۔اجلاس میں سی ای ا وایجوکیشن اتھارٹی کی جانب سے وزیر اعلیٰ پنجاب تعلیمی روڈ میپ پروگرام کے انڈیکیٹرز بارے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
رحیم یار خان ڈپٹی کمشنر علی شہزاد کی زیر صدارت دیہی شماری2020کے سلسلہ میں اجلاس منعقدہ ہوا جس میں پاکستان ادارہ شماریات کے افسران سمیت ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر(جنرل)شیخ محمد طاہر، اسسٹنٹ کمشنر چوہدری اعتزاز انجم جبکہ دیگر تحصیلوں کے اسسٹنٹ کمشنرز نے بذر یعہ ویڈیو لنک شرکت کی۔ڈپٹی کمشنر نے ہدایت کی کہ تمام تحصیلوں کے اسسٹنٹ کمشنر ز اپنے پٹوار سرکل کے مطابق عملہ کو پاکستان ادارہ شماریات کی جانب سے فراہم کردی تربیتی سیشن میں بھجوائیں تاکہ وہ بہتر انداز سے دیہی شماری میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔اس موقع پر نمائندہ پاکستان ادارہ شماریات نے بتایا کہ ملک بھر میں نویں دیہی شماری2020میں اعداد وشمار اکھٹے کرنے کا کام تین مرحلہ میں مکمل کیا جائے گا پہلے مرحلہ جنوری 2020سے پنجاب اور سندھ میں شروع ہو رہا ہے اور دوسرے مرحلہ میں صوبہ بلوچستان اورخیبر پختونخواہ کے گرم علاقوں میں اعدادو شمار اکھٹے کئے جائیں گے جبکہ تیسرے مرحلہ میں صوبہ بلوچستان اور خیبر پختونخواہ کے سرد علاقے، گلگت بلتستان ، آزاد و جموں کشمیر میں اعداد و شمار اکھٹے کئے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ دیہی شماری میں محکمہ مال کے عملہ کا کلیدی کردار ہے ، محکمہ مال کے عملہ کی باقاعدہ ٹریننگ1جنوری 2020سے شروع ہو جائے گی اور تربیتی عمل کے بعد ہر موضع/دیہہ کے متعلق معلومات حاصل کرنے کے سوالنامے پر کرنے کا کام شروع ہو جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ دیہی شماری کا سارا کام ملک بھر میں پاکستان ادارہ شماریات کی زیر نگرانی ہو رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ اس سے پیشتر پاکستان میں 8دیہی مردم شماری ہر پانچ سال بعد ہو چکی ہیں پہلی1971اور آخری2006میں گئی تھیں اور یہ اپنے سلسلہ کی نویں دیہی شماری ہے جو کہ جنوری2020میں ہو رہی ہے جس میں پاکستان کے تمام دیہی و شہری مواضعات کی فہرست میں آنے والی تبدیلوں کا مشاہدہ کیا جاتا ہے۔اس دیہی شماری سے شہری و دیہی مواضعات سے متعلق بنیادی کے ساتھ ساتھ معاشی و معاشرتی سہولیات سے متعلق معلومات حاصل کی جائیں گی جس سے ان علاقوں میں دستیاب صحت وتعلیم، مال مویشی سمیت دیگر بنیادی سہولیات و ذرائع مواصلات بارے آگہی حاصل ہو گی۔انہوں نے بتایا کہ دیہی شماری کی تمام معلومات تحصیل کی سطح پر ترتیب دی جائیںگی تاکہ ضلعی حکومت، انتظامیہ او رلوکل گورنمنٹ کو اپنے ضلع کی بنیادی سہولیات سے متعلق اصل صورتحال کا علم ہو سکے جس کی بنیاد پر وہ مستقبل میں ترقی کےلئے بہتر لائحہ عمل اور منصوبہ بندی کر سکیں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Translate »
Close
Close