پولیسرحیم یارخان

سکول سے سات سالہ طالب علم کا اغواء پولیس نے بچی 24 گھنٹے میں بازیاب کر لیا, ڈی پی او اسد سرفراز

رحیم یارخان : عوام کو تیز ترین انصاف کی فراہم کے لیے ڈی پی او اسد سرفراز نے کھلی کچہری لگا لی، سائلین کو کمپیوٹررائزڈ رسید دینے اور ہر تھانہ کا درخواست ریکارڈ مینٹین کرنے کا حکم۔ تفصیل کے مطابق ڈی پی او اسد سرفراز خان نے عوام الناس کو تیز ترین انصاف کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے ڈی پی او آفس کے احاطہ میں موجود شیڈ میں کھلی کچری کا انعقاد کیا اور کہا کہ یہ کچہری روزانہ کی بنیاد پر لگائی جائے گی، جس میں ہر خاص و عام کی شکایات سنی جائیں گی اور ان کا ازالہ ہرممکن کم سے کم وقت میں کیا جائے گا، کسی بھی شخص کو بے جا دفاتر اور تھانہ کے چکر نہیں لگانے پڑیں گے، اس موقع پر انہوں نے ضلع کے مختلف علاقوں سے آنے والے سائلین کی درخواستیں وصول کیں اور ان سے زبانی احوال  بھی سنا اور اس کی شکایت کے ازالہ کے لیے احکامات جاری کرتے ہوئے، انچارج کمپلینٹ سیل انسپکٹر جام عبدالکریم سے کہا کہ ہر درخواست دھندہ کو کمپیوٹررائزڈ رسید جاری کی جائے تاکہ ریکارڈ مزید محفوظ رہے اور ہر تھانہ سے آنے والی درخواستوں کی تعداد، قسم کے حساب سے ریکارڈ مینٹین کیا جائے۔ انہوں نے اس موقع پر متعدد درخواستوں کے متلعق خود ایس ڈی پی اوز کو فون کر کے مسئلہ فوری حل کرنے کی ہدایت کی اور کچھ درخواستوں کے متعلق کمپلینٹ کلرک کو فون کرنے کی ہدایت کی۔
سکول سے سات سالہ طالب علم کا اغواء پولیس نے بچی 24 گھنٹے میں بازیاب کر لیا، ڈی پی او اسد سرفراز کی اے ایس آئی ذوالفقار کو شاباش ملزمان کی گرفتاری پر انعام دینے کا اعلان، تفصیل کے مطابق ترنڈہ سوائے خان کے علاقہ کے ایک پرائیویٹ سکول سے ایک عورت اور مرد موٹر سائیکل سوار نے سات سالہ طالب علم وصال حسین کو اس کے گھر لے جانے کا جھانسہ دیکر کر اغواء کر لیا تھا جس پر ورثاء نے پولیس کو اطلاع کی تو چوکی انچارج ترنڈہ سوائے خان ذوالفقار علی نے چوبیس گھنٹوں کی عرق ریز محنت کے بعد بچے جو بحفاظت بازیاب کر لیا اور ڈی پی او اسد سرفراز خان کے روبرو پیش کیا جس پر ڈی پی او نے اے ایس آئی ذوالفقار علی کو شاباش دیتے ہوئے کہا کہ کام مکمل کرو ملزمان کی گرفتاری پر وہ اسے انعام اور اسناد سے نوازیں گے۔ اس موقع پر وصال حیسن نے والد نے ڈی پی او اسد سرفراز خان سے کہا کہ پولیس نے اس کا جگر گوشہ بازیاب کر کے اس کے گھر کی خوشیاں لوٹائی ہیں جس پر وہ ان کے شکر گزار ہیں، ڈی پی او نے کہا کہ یہی ہمارا کام ہے جس کے لیے ہم نے یہ وردی پہن رکھی ہے آپ کا بھی شکریہ۔

Asad Sarfaraz Rahim yar khan dpo
Asad Sarfaraz Rahim yar khan dpo

ڈی پی او اسد سرفرازخان نے کہا ہے کہ سکیورٹی گارڈز ہمارے معاشرے میں اہمیت کے حامل ہیں، سکیورٹی گارڈ کو اپنی ذمہ داری کے علاوہ کوئی کام نہیں کرنا چاہیے، ڈی پی او کا چیف انسٹرکٹرز ایلیٹ فورس سید زوار حیسن شاہ بخاری کے ساتھ  کورس کے متعلق سوال جواب۔ ڈی پی او اسد سرفراز خان نے پولیس لائن میں جاری سکیورٹی گارڈ کورس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ ہمارے معاشرے میں خاص اہمیت اختیار کر چکے ہیں اس لیے آپ کو محکمہ پولیس کسی بھی معاوضہ کے بغیر سکیورٹی کمپنیوں کی درخواست پر تربیت فراہم کر رہا ہے اور اس کے لیے ماہر ترین فورس کے قابل انسٹرکٹرز کو ذمہ داری سونپی گئی ہے اس لیے آپ لوگ اپنی تربیت میں دلچسپی لیں اور سیکھے ہوئے طریقہ کار کے مطابق اپنے فرائض سر انجام دیں اور اپنی ذمہ داری کے دوران کوئی دورسرا کام نہ کریں، اس موقع پر انہوں نے چیف انسٹرکٹرز ایلیٹ فورس سید ذوار حسین شاہ بخاری سے تربیت کے متعلق مکمل بریفنگ لی۔

ڈی پی او اسد سرفراز اچانک تھانہ اے ڈویژن پہنچ گئے، حوالات، اسحہ خانہ، بیرکس، تفتیشی رومز، فرنٹ ڈیسک کا جائزہ لیا۔ گزشتہ روز ڈی پی او اسد سرفراز اچانک دفتر سے شہر کے وزٹ کے نکلے تو راستے میں تھانہ اے ڈویژن میں داخل ہوگئے انہوں نے کمرہ ایس ایچ او، محررروم، سی ڈی یو،  حوالات، اسحہ خانہ، بیرکس، تفتیشی رومز، فرنٹ ڈیسک کا جائزہ لیا۔ انہوں نے اس موقع پر تمام عملہ کو ہدایت کی کہ پولیس کے پاس آنے والا ہرشخص برابر ہے نہ کوئی امیر نہ غریب، اخلاق اچھا رکھیں۔برابری کا سلوک کریں، کوئی بھی شخص ناجائز حراست میں نہیں ہونا چاہیے، رزق حلال پر تکیہ کریں اور نیکی کی نیت سے نوکری کریں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button