حالات کا رونا چھوڑ کر آگے بڑھنا ہے,ڈی پی او

رحیم یارخان ڈی پی او منتظر مہدی نے کہا ہے کہ تھانہ کی سطح پر انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے۔تھانے شرفاء کے لیے دارالامان اور پناہ گاہ کا کردار ادا کریں گے قانون کو توڑنے والے کسی ہمدردی کے مستحق نہیں۔ پولیس اپنی بنیادی ذمہ داریوں کو پورا کرے گی۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے معمر شہری استاد بشیر احمد سے اپنے آفس میں ہونے ملاقات کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں تاریخ سے سبق سیکھ کر اور حالات کا رونا چھوڑ کر آگے بڑھنا ہے اور اپنے اپنے حصے کی کار خیر سر انجام دینی ہے۔ ان کی پوری کوشش اور توانائی اس بات پر مرکوز ہے کہ  معززین، شرفاء، مظلوم اور نادار طبقہ کے لیے تھانوں کو دارالامان، دارالانصاف اور پناہ گاہ کا کردار ادا کرنے کے لیے پوری طرح ایکٹو ہو جائیں جس کے لیے انہوں نے چارج سنبھالتے ہی کام شروع کر دیا تھا اور کوششوں کے مثبت نتائج برآمد ہو رہے ہیں اور اس پر ان کا فوکس برقرار ہے اور رہے گا انہوں نے لاقانونیت کو اپنا حق سمجھنے والوں کے لیے کہا کہ کم از کم رحیم یارخان میں ایسا نہیں چلے گا قانون شکنوں کے خلاف قانون حرکت میں آئے گا اور انہیں ہر صورت کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ اسی سے معاشرہ میں قانون کی بالادستی اور عام عوام میں احساس تحفظ پیدا ہو گا جو کہ پولیس کے ذمہ ہے۔ قبل ازیں استاد بشیر احمد مغل نے ڈی پی او منتظر مہدی سے کہا کہ انہیں کوئی سردست کام تو نہیں تھا لیکن انہوں نے حالات و واقعات سے اخذ کیا کہ ڈی پی او ایک غیر روائتی پولیس آفیسر ہے جسے ملا جائے تو ملنے چلے آئے مل کر خوشی بھی ہوئی اور امید بھی جاگی کہ آپ جیسے پولیس افسران وقت کی اشد ضرورت ہیں اور میں خوش قسمتی سمجھتا ہوں آپ رحیم یارخان میں تعینات ہیں۔ ڈی پی او نے ان کی دفتر آمد پر شکریہ ادا کیا اور ان سے کہا کہ آپ آتے رہا کریں اور ہمیں دعاؤں میں یاد رکھیں کہ ہم اپنے منصب کی ذمہ دارایاں احس طریقہ سے نبھانے میں کامیاب رہیں۔

رحیم یار خان ایس پی انوسٹی گیشن فراز احمد نے ضلع بھر کے پولیس افسران کو تین دن میں نامکمل چالان مکمل کرنے کی وارننگ دے دی۔ میٹنگ میں محرران کو ہدایات تین دن بعد رپورٹ پیش کرنے کا حکم۔

ایس پی انوسٹی گیشن فراز احمد نے چالان کلرک کے ہمراہ سٹی سرکل سے تعلق رکھنے والے محرران سے میٹنگ کرتے ہوئے نامکمل چالان مقدمات سال 2018/19 کی رپورٹ طلب کی اور اس پیڈنسی پر ضلع بھر کے پولیس افسران کو تین دن میں چالان مکمل کر کے عدالتوں میں پیش کرنے اور ان کی رسید کے ساتھ رپورٹ پیش کرنے کی وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اس سلسلہ میں کسی قسم کی کوتاہی یا غفلت کا مظاہرہ کرنے والے اہلکاروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے چالان کلرک سے کہا کہ وہ خود روزانہ کی بنیاد پر ڈائری مرتب کرے اور مانیٹرنگ کر کے چالانات کی تکیمیل یقینی بنائی جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Translate »