ڈاکٹروں کی غفلت کے باعث میرے بھائی کی حالت خراب ہوئی،ڈاکٹرشرجیل احمد

dr sharjeel ahmed press club

رحیم یارخان:امریکی پلٹ ڈاکٹرشرجیل احمدنے اپنے والدمحمدانوررندھاواکے ہمراہ ڈسٹرکٹ پریس کلب میں کانفرنس کرتے ہوئے بتایاکہ ان کابھائی سہیل انوررندھاواجوکہ رحیم یارخان پولیس میں ملازم ہے اورچندروزقبل ڈیوٹی پرجاتے ہوئے ٹریفک حادثہ میں زخمی ہوا
جس کے سرپرگہری چوٹ آئی اوراسے تین یوم ایمرجنسی وارڈمیں رکھنے کے بعد نیوروسرجیکل وارڈمیں شفٹ کردیاگیااس دوران انہوں نے زخمی بھائی کاسی ٹی سکین کروایا
اس کے بعد اس کے والدانوررندھاوانے متعددبارانچارج نیوروسرجری وارڈڈاکٹرطارق کوروزانہ سی ٹی سکین کرانے پرزوردیالیکن انہوں نے بات نہ مانی اس دوران زخمی سہیل انورکابلڈپریشراچانک ہائی ہوگیا
جسے نارمل اندازسے علاج کرنے کی بجائے سینئرڈاکٹرفاروق کی سرپرستی میں جونیئرڈاکٹرسفیان نے غفلت کامظاہرہ کرتے ہوئے غلط ٹریٹ کیااوراچانک بلڈپریشر240سے 70پرچلاگیااوراب ان کابھائی زندگی اورموت کی کشمکش میں مبتلاہے‘
ڈاکٹرطارق‘ ڈاکٹرسفیان اورڈاکٹرفاروق کی مبینہ غفلت کی وجہ سے ان کے بھائی کی حالت مزیدخراب ہوئی ہے‘ انہوں نے بتایاکہ اس سلسلہ میں وہ ڈی پی او‘ڈپٹی کمشنراورپرنسپل شیخ زیدہسپتال سے بھی ملے جنہوں نے تسلی دی کہ انکوائری کمیٹی بناکرمعاملے کودیکھتے ہیں اورپرنسپل ہسپتال پروفیسرمبارک نے الزام علہیہ ڈاکٹرطارق سے جونیئراورنیوروسرجری کی معلومات نہ رکھنے والے پروفیسرسرجری حسن محمودتبسم‘ ڈاکٹرشبیرعالم اوروزیرعلی خان نیوروفزیشن پرمشتمل کمیٹی بنادی
جنہوں نے گذشتہ سے پیوستہ روزانکوائری کی اوروہ حاضرآئے لیکن ڈاکٹرطارق اورڈاکٹرفاروق کوبلایانہ گیابلکہ جونیئرڈاکٹرسفیان حاضرآیاانکوائری میں پروفیسرحسن محمودتبسم‘ ڈاکٹرشبیرعالم اوروزیرعلی خان نے کہاکہ ہم اپنی مرضی سے انکوائری کافیصلہ کریں گے اورہماری بات سننے کی بجائے انہیں اوران کی رشتہ دارڈاکٹرنازیہ کوبھی حراساں کرنے لگے‘ ڈاکٹرشرجیل احمدنے بتایاکہ نوروسرجری کے ڈاکٹرصہیب نے انہیں انکوائری کی درخواست واپس لینے کاکہااوراس کے بھائی سہیل انورکے علاج معالجہ میں ڈاکٹرزکی غفلت اورغلطی کااعتراف بھی کیا‘ انہوں نے کہاکہ میڈیکل پروٹوکول اورقوانین سے شیخ زیدہسپتال کے ڈاکٹرزناواقف ہیں اورآج ہمارے مریض کے ساتھ ایساہواتوکل کسی اورکے ساتھ بھی ایساہوسکتاہے‘ انہوں نے وزیراعظم پاکستان‘ وزیراعلی پنجاب اورصوبائی وزیرصحت سے مطالبہ کیاہے کہ غفلت کے مرتکب ڈاکٹرزکے خلاف ہیلتھ کیئرقوانین کے مطابق کارروائی کی جائے اورپی ایم ڈی سی انکوائری کمیٹی کے خلاف کارروائی کرے اورہتک آمیزرویہ اختیارکرنے والے ڈاکٹرزکامحاسبہ کریں۔

dr sharjeel ahmed press club

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Translate »