چارج شیٹ کیے گئے ارشد رحمانی اور عبدالغفور نے منصب سنبھال لیا

Education News Rahim yar khan

لیاقت پور :نہ ہائی کورٹ کا حکم مانا گیا نہ ہی محکمے کو خاطر خواہ لایا گیا، ہائی کورٹ بہاول پور کی رٹ پٹیشنز پنڈنگ ،میل ملاپ کے ذریعے عبدالغفور اعوان دوبارہ ہیڈ کلرک کی سیٹ پر تعینات ،چارج شیٹ بھی کھوہ کھاتے ،سنگین الزامات کرپشن کی نذر ،چارج شیٹ کیے گئے ارشد رحمانی اور عبدالغفور نے بھی اپنے اپنے منصب سنبھال لیے ،تمام کاروائیاں ٹھپ ،انکوائری آفیسران کی جانب سے کی گئی انکوائریاں بھی کھڈے لائن ،حسن رندھاوا نے تمام غلط کام CEO سے مل کر کیے ،تفصیل کے مطابق ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر میل نے ہیڈ کلرک عبدالغفور اعوان کی جانب سے ہائی کورٹ بہاول پور بنچ میں دائر رٹ پٹیشن نمبری 5922/18بعنوان عبدالغفور بنام حکومت پنجاب کا تحریری جواب دیتے ہوئے بتایا کہ میں نے 21-04-2018کو ڈپٹی آفس کا چارج سنبھالا حاضر ہونے کے پہلے دن ہی عبدالغفور ہیڈ کلرک کی سرگرمیاں مشکوک پائی گئیں عبدالغفور ملازمین واساتذہ سے مختلف حیلے بہانے بنا کررشوت لیتا ہے میں نے اس سلسلے میں عبدالغفور سے بازپرس کی تو انہوں نے میرے ساتھ نہایت ہی بد تمیزی کی اور میری حکم عدولی کرتے ہوئے میرے ساتھ جار حانہ رویہ اختیار کرلیا عبدالغفور پیشہ ور بلیک میلر کرپٹ ہے اس نے ہمیشہ ہر آ فیسر ،اہلکاران ،ملازمین کے ساتھ Misbehaveکرتا رہا ہے عبدالغفور نے سرکاری پٹرول کا غلط استعمال کیا اور میرے جعلی دستخطوں سے الصادق پٹرولیم سروس سے اپنی نجی گاڑی نمبر RNV 252میں پٹرول ڈلواتا رہا اور مجھے اندھیرے میں رکھ کر جعلی دستخطوں سے بل پاس کرواتا رہا عبدالغفور کو انہی الزامات کی بابت ملازمت سے سبکدوش کیا جا چکا تھا بعد میں میل ملاپ کرکے بحال ہو گیا ذرائع کے مطابق ہائی کورٹ میں وہ رٹ پٹیشن کا تاحال کوئی فیصلہ نہ ہوا لیکن عبدالغفور نے CEO مختار ملک سے مل کر دوبارہ ڈپٹی آفس ہیڈ کلرک کی سیٹ پر تعینات کردیا اسی طرح ارشد رحمانی نے اکاأنٹس کلرک کی حیثیت سے لاکھوں روپے کے گھپلے کیے آفیسران کو اندھیرے میں رکھ کر بل پر بل بناتا رہا اور رقم سرکاری خزانے سے نکلوا کرہڑپ کرتا رہا ارشد رحمانی کے بارے میں مزید انکشاف سامنے آیا کہ وہ آفیسران کے نام پر ملازمین اور اساتذہ کو بلیک میل کرکے رشوت بٹورتا رہا کوئلے اور برف کے فرضے بل بناتا رہا ٹجنٹی اور TADA کی مد میں اب تک تقریباً 60لاکھ روپے سے زائد کا غبن کرچکا ہے گزشتہ سال آڈٹ رپورٹ بھی انکے خلاف آئی تھی جس میں سنگین الزامات عائد کیے گئے تھے ارشد رحمانی نے آڈٹ آفیسر کو 50ہزار روپے رشوت دیکر راضی کر کے بعد میں الزامات ختم کروائے تھے CEOمختار ملک کی آشیر باد سے دوبارہ اپنی اپنی سیٹیں سنبھال لیں حالانکہ ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر جام محمد عارف نے جتنے بھی سنگین الزامات عائد کیے تھے ان کا آج تک کوئی فیصلہ نہ ہو سکا اور جام عارف آج بھی ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر لیاقت پور میں اپنے فرائض سرانجام دے رہا ہے شہریوں محمد خالد ،ملک صدیق اور ریاض احمد نے کمشنر بہاول پور سے فوری کاروائی کا مطالبہ کیا ہے اس سلسلے میں عبدالغفور، اور ارشد رحمانی نے بتایا کہ تمام انکوائریاں کلیئر ہو چکی ہیں اس وجہ سے ہم تعینات ہیں

Education News Rahim yar khan

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Translate »