fbpx

حکومت کی ناکام پالیسی نے2لاکھ سکولز‘ 2کروڑ بچوں اور15لاکھ اسٹاف کا مستقبل داؤ پر لگا دیا ہے

حکومت کی ناکام پالیسی نے2لاکھ سکولز‘ 2کروڑ بچوں اور15لاکھ اسٹاف کا مستقبل داؤ پر لگا دیا ہے

رحیم یار خان: تعلیم حکومتی ترجیحات میں کبھی بھی شامل نہیں رہی جس کے نتائج ہمارے ملک کی ترقی کے حوالے سے ہر شعبہ میں نظر آرہے ہیں چاہے وہ سائنس کا ہو‘معیشت یا انفراسڑکچر کا ہو‘

حکومت کی ناکام پالیسی نے2لاکھ سکولز‘ 2کروڑ بچوں اور15لاکھ اسٹاف کا مستقبل داؤ پر لگا دیا ہے‘یکم جون سے تمام تعلیمی ادارے کھولے جائیں‘بچوں کا مزید تعلیمی نقصان نہ کیاجائے۔

ان خیالات کا اظہارمحمد یاسین رامے صدر پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن رحیم یار خان نے احتجاج کے موقع پر کیا۔انہوں نے مزید کہاکہ پچھلے کئی ماہ سے نجی تعلیمی اداروں کی بندش سے تعلیمی اداروں کا معاشی قتل کیا جارہا ہے بلکہ بچوں کا تعلیمی نقصان بھی ہو رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہاکہ حکومت پنجاب کی طرف سے جو آن لائن تعلیم دینے کا ڈھونگ رچایا جارہا ہے کیا اسکا کوئی فائدہ ہورہا ہے؟80%بچوں کے پاس آن لائن تعلیم کی سرے سے سہولت ہی میسر نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہاکہ نجی تعلیمی اداروں کی بندش سے 50%سکولز بند ہوجائیں گے کیونکہ کرایہ کی بلڈنگز کا کرایہ2 ماہ سے ادا نہیں کیا جاسکا اور نہ ہی اسٹاف کو ایک ماہ سے تنخواہ دی جاسکی ہے۔ایک طرف تو گورنمنٹ نے20%ریلیف کیلئے کہا اور ساتھ یہ بھی اعلان کردیا کہ فیس مت جمع کروائیں۔

انہوں نے مزید کہاکہ حکومت کی طرف سے باقی تمام اداروں کو ریلیف اور کھولنے کے احکامات جاری کئے جارہے ہیں ماسوائے تعلیمی اداروں کے۔انہوں نے پی ایس اے رحیم یار خان کے پلیٹ فارم سے حکومت سے مطالبہ کیا کہ یکم جون سے تعلیمی اداروں کوایس او پیزکے تحت کھولنے کے احکامات جاری کئے جائیں تاکہ بچوں کا مزید تعلیمی نقصان نہ ہو۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Translate »
Close
Close