fbpx

صادق آباد سے 70 کلومیٹر دور "قلعہ لیاروکوٹ”

تحریر : زاہد حسین صادق آباد

چولستان اپنے سینے میں تاریج کے انمول خزانے چھپائے ہوئے ہے "قلعہ لیاروکوٹ” ایسا ہی تاریخی خزانہ ہے جس کی تاریخ صدیوں پر محیط ہے زمانہ قدیم کے جاہ وجلال کی اس نشانی کے بارے میں جانتے ہیں زاہدحسین  سے

صادق آباد سے تقریباٙ 70کلو میٹر دور چولستان کے دامن میں واقع "قلعہ لیارو کوٹ” جسے 18ویں صدی میں سبزل خان عباسی نے تعمیر کروایا تھا یہ قلعہ دیائے ہاکڑا کے کنارے تعمیر کیا گیاچوکور نما یہ قلعہ جو شمال سے جنوب کی طرف 121فٹ اور مشرق سے مغرب کی جانب 112فٹ ہے لیارو کوٹ قلعہ کے چاروں کونوں پر برج بنائے گئے گئے تھے جن پر سپاہی پہرا دیتے تھے

ان مورچہ نما برجوں کے اندرسیڑھیاں بھی بنائی گئی تھیں ایک جیسے بنے ان برجوں کا قطر تقریباٙٙ24فٹ اور اونچائی بھی تقریباٙٙاتنی ہی ہوگی تاہم دیواروں کی اونچائی ان سے قدرے کم ہے  ایک برج  مکمل  طور پر مسمار ہو چکا ہے باقی 3 خستہ حالت میں موجود ہیں  مقامی افراد کے مطابق قلعے کے 4بڑے برج اور 2چھوٹے تھے  جوشاید آنے والے وقت میں اپنا  نام ونشان کھو دیں گے  قلعہ بنیادی طور پر کچی مٹی سے بنایاگیا تاہم اس کے کچھ حصے اور دروازہ پکی اینٹوں سے بنائے گیا تھا

لیارو کوٹ کا یہ قلعہ "قدیم تہذیبوں کے عروج وزوال "کا گواہ ہے صحرائے چولستان اپنے تاریخی ورثے کی بربادی پر ماتم کناں ہے صحرا کے حسن کو دیکھنے والے جب بھی چولستان کا سفر کرتے ہیں قلعہ لیارو کوٹ ضرور دیکھنے آتے ہیں مگر حکومتی عدم توجہی اور محکمہ آثارقدیمہ کی غلفت کے باعث تاریخی قلعے کو کھنڈرات میں بدلتا دیکھ کر مایوس ہو جاتے ہیں شدید گرم موسم پانی کا دور دور تک نام ونشان تک نہیں مگر لوگ پھر بھی قلعہ لیاروکوٹ آتے ہیں اور حکومت سے اس "قیمتی ورثہ” کو محفوظ کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں  تاکہ چولستان میں بھی سیاحت کو فروغ دیا جا سکے

یہاں پر آنے والے سیاح قلعہ کی کچی مٹی سے بنے  بلند وبالادیواریں اور دیو ہیکل برج دیکھ حیرت زدہ رہ جاتے ہیں قلعہ کے اندر مٹی کے برتن کی باقیات بھی موجود ہیں

قلعہلیاروکوٹ* کو دریا ئے ہاکڑا کے سیلاب نے شدید متاثر کیا اور آہستہ آہستہ  یہ "قلعہ مسمار” ہو چلا گیا زمانہ قدیم کی یہ نشانی جہاں کبھی جہل پہل ہوا کرتی تھی اب ویرانیوں کے ڈیرے ہیں

چولستان کے بیچ میں واقع لیاروکوٹ کا یہ قدیمی قلعہ جو اپنے اندر تاریخ کی کئی داستانیں چھپائے ہوئے ہے  م۔حکمہ آثار قدیمہ کی عدم توجہی کے باعث زبوں حالی کا شکار ہے حکومت کو چاہیے کہ اس طرح کے قلعوں کو محفوظ کیا جائے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Translate »
Close
Close