fbpx

فوجی فر ٹیلائزرسالانہ 37 لاکھ ٹن کھادیں بنا کر کاشتکاروں تک پہنچا رہی ہے

رحیم یارخان:پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور اِس کی معیشت کا اِنحصار زیادہ تر زراعت پر ہے۔ گذشتہ چند سالوں سے اہم فصلات کی پیداوار میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جسکی وجوہات میں جدید پیداواری ٹیکنالوجی کا فقدان، موسمیاتی تبدیلی اور کھادوں کا غیر متوازن اِستعمال شامل ہے۔

فوجی فر ٹیلائزر کمپنی لمیٹڈ 1978میں ملک میں زرعی خودکفالت حاصل کرنے کیلئے قائم ہوئی۔ اب کمپنی سالانہ 37 لاکھ ٹن سے زیادہ معیاری کھادیں بنا کر اپنے 3500 ڈیلروں کے ذریعے کاشتکاروں تک پہنچا رہی ہے تاکہ متوازن کھادوں کے اِستعمال کو فروغ دے کر فی ایکڑ میں اِضافہ کیاجا سکے

اِن خیالات کا اِظہار محمد علی جنجوعہ، ہیڈ آف سینٹر زون نے فارم ایڈوائزری سینٹر رحیمیارخان کے زیرِاہتمام ورلڈ فوڈ ڈے کے موضوع پر منعقدہ آن لائن سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

میاں ذکاء الدین، ہیڈ آف ایگری سروسز نے کہا کہ فوجی فر ٹیلائزر کمپنی لمیٹڈ 1981 ء سے ملک بھر کے کاشتکاروں کو اپنے زرعی خدمات کے شعبے کے ذریعے جدید ٹیکنالوجی فراہم کر رہی ہے۔ تاکہ کاشتکاروں کی زرعی پیداوار میں بالعموم اور آمدنی میں بالخصوص اِضافہ ہو۔ اِس شعبہ کے تحت  13 ریجنل دفاتر اور 5 فارم ایڈوائزری سینٹرز قائم کئے گئے ہیں۔

یہ سینٹر4  سے 5 سال بعد ایک علاقہ میں کام کرنے کے بعد دوسرے علاقہ میں منتقل ہو جاتے ہیں۔ فی الوقت یہ فارم ایڈوائزری سینٹررحیمیار خان، حیدرآباد، ملتان، شیخوپورہ اورسرگودھا میں زرعی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ اِن سینٹرز میں کاشتکاروں کے لئے مُفت زرعی مشوروں کے علاوہ مٹی اور پانی کے تجزیہ کے لئے جدید کمپیوٹرائزڈ لیبارٹریز کی سہولت بھی موجود ہے۔ اِس کے علاوہ ایف ایف سی نے اجزائے کبیرہ کے ساتھ ساتھ اجزائے صغیرہ اور پودوں کے تجزیہ کیلئے بھی ایک علیحدہ لیبارٹری قائم کی ہے۔ اِن لیبارٹریوں میں ہمارے زرعی ماہرین اپنی نگرانی میں مٹی اور پانی کے نمونے لے کر بھجواتے ہیں جہاں ان کا تجزیہ کر کے کھادوں کے متوازن اِستعمال اور زمین کے متعلق دیگر مسائل کے بارے میں سفارشات مرتب کر کے کاشتکاروں کو بہم پہنچائی جاتی ہے۔

تاکہ ملک میں کھادوں کے متوازن اِستعمال کو فروغ مل سکے۔ زراعت سے متعلق جدید معلومات کی منتقلی کے لئے زرعی ماہرین دیہاتوں میں جا کر کاشتکاروں کے اجتماعات منعقد کر کے اور اُن کو اہم فصلوں کے بارے میں فلموں اور تقاریر کی مدد سے جدید زراعت سے روشناس کراتے ہیں۔

کاشتکاروں کے کھیتوں پر علاقے کی اہم فصلوں کے نمائشی پلاٹ لگاکر عملی طور پرجدید زراعت اور متوازن کھادوں کے اِستعمال کے فوائد کو ثابت کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں کاشتکاروں کے کھیتوں پر جا کر زمین اور فصلوں کے بارے موقع پر مسائل کی نشاندہی کر کے اُن کے لئے حل تجویز کرتے ہیں۔

1981 ء سے اب تک فوجی فر ٹیلائزر کمپنی لمیٹڈ کی زرعی سرگرمیوں سے25 لاکھ سے زیادہ کاشتکار اِستفادہ حاصل کر چکے ہیں۔ یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے اور انشاء اللہ بدستور جاری رہے گا۔ اِس کے علاوہ فصلوں کی کاشت کے متعلق معلومات پہنچانے کے لئے ایف ایف سی مختلف قسم کا زرعی لٹریچر، کتابچے، پوسٹرز اور پمفلٹ تیار کرتی ہے جو کہ کاشتکاروں میں مفت تقسیم کئے جاتے ہیں۔

کمپنی اِس کے علاوہ سہ ماہی زرعی رپورٹ اُردو اور سندھی میں باقاعدگی سے چھپوا کر نہ صرف مختلف زرعی سرگرمیوں میں تقسیم کر رہی ہے بلکہ کا شتکاروں کو بذریعہ ڈاک اُن کے پتے پر ہر سہ ماہی کے شروع میں ارسال کر رہی ہے۔ محمد زاہد عزیز، مینجر فارم ایڈوائزری سنٹر رحیمیارخان نے کہاکہ گندم پاکستان کی اہم غذائی فصل ہے جو سالانہ سوا دو کروڑ ایکڑ سے زائد رقبہ پر کاشت کی جاتی ہے۔ گندم ہماری معیشت اور فوڈ سیکیورٹی کیلئے نہایت اہم ہے۔پاکستان میں گندم کی فی ایکڑ اوسط پیداوار 30 من ہے جو کہ دیگر ممالک سے کافی کم ہے۔ ہمارے بہت سے ترقی پسند کاشتکار 50من سے زائد پیداوار حاصل کر رہے ہیں جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اگر ہمارے کاشتکار زرعی ماہرین کی سفارشات پر عمل پیرا ہوں تو پیداوار میں اِضافہ ممکن ہے۔

کاشتکار کھادوں کے متوازن استعمال کو اپنا کر گندم کی فی ایکڑ پیداوار بڑھائیں  اِس سے نہ صرف وہ معاشی طور پر خوشحال ہونگے بلکہ پاکستان بھی غذائی خودکفالت حاصل کریگا۔چوہدری تنویر احمد، ڈائریکٹر فارم ٹریننگ اینڈ اڈاپٹو ریسرچ رحیمیار خان نے کہا کہ ہمارے ملک کی مجموعی آمدنی میں زراعت کا حصہ تقریبا 19.5  فیصد ہے جبکہ 42 فیصد افرادی قوت زراعت سے منسلک ہے۔

بڑھتی ہوئی آبادی کی خوراکی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے  فصلات کی فی ایکڑ پیداوار میں اِضافہ ناگزیر ہے۔سید برہان الدین نے گندم میں حملہ آور مختلف بیماریوں پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ بیماریوں کیخلاف قوت مدافعت رکھنے والی اقسام کاشت کریں اور کھیت کا معائنہ کرتے رہیں سازگار موسمی حالات اور بیماری کی علامات ظاہر ہوتے ہی موثر پھپھوندی کُش دوا کا سپرے کریں۔ ڈاکٹر محمد لیاقت نے گندم کی اچھی پیداوار لینے کے لیے مختلف کاشتی امور پر تفصیلی خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ کاشتکارزمین کی تیاری پرخاص توجہ دیں،گندم کی سفارش کردہ اِقسام کا صحت مند بیج بروقت کاشت کریں۔

کھیتوں میں اُگنے والی جڑی بوٹیوں کا مؤثر تدارک کیلئے مؤثر جڑی بوٹی مار زہر پہلے یا دوسرے پانی کے بعد سپرے کریں۔ اہم پیداواری مراحل پر پانی کی کمی نہ آنے دیں۔محمدنعیم چشتی نے گندم کے لیے کھادوں کے متوازن و متناسب استعمال اور اجزائے کبیرہ اور اجزائے صغیرہ کے پودوں میں کردار پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ غذائی اجزا میں سے نائٹروجن،فاسفورس، پوٹاش کی ہماری زمینوں میں کمی واقع ہو چکی ہے۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے ہم کھادیں استعمال کرتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ گندم کی بہتر پیداوار حاصل کرنے کیلئے 2 بوری سونا ڈی اے پی اور 1 بوری ایف ایف سی ایس او پی یا ایم او پی گندم کی بجائی کیوقت استعمال کریں جبکہ یوریا کھاد دو حصوں میں پہلے پانی کے ساتھ اور گوبھ کے وقت ڈالیں۔

اجزائے صغیرہ کی کمی پوری کرنے کیلئے 6 کلو سونا زنک اور 3 کلو سونا بوران بوقت کاشت دیگر کھادوں کے ساتھ ملا کر کاشت کریں۔ڈاکٹر لال حسین اختر، ڈائریکٹر راری بہاولپور نے فوجی فر ٹیلائزر کمپنی لمیٹڈکی زرعی ترقی میں کردار کو سراہا  اور شرکاء کو کہا کہ حکومت کاشتکاروں کے مسائل حل کرنے کیلئے کوشاں ہے۔کاشتکار زیادہ سے زیادہ رقبے پر گندم کاشت کریں اور محکمہ زراعت کی سفارشات پر عمل کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Translate »