ہیلتھ اور تعلیم

صحت ، امراض اور صحت کی سہولیات

ضلع رحیم یار خان میں شرح اموات کا باقاعدہ ریکارڈ رکھا جاتا تھا ۔رپورٹ روزنامہ صادق الاخبار میں ہر ماہ شائع کی جاتی تھی ۔ اسی دور میں ضلع رحیم یار خان میں اسکروی میں مبتلا افراد کی تعداد زیادہ تھی اس کی بڑی وجہ پانی میں نمکیات کی کمی تھی ۔ اس مرض میں کندھے سوج کر خراب ہوجاتے تھے ۔ ستلج ویلی پراجیکٹ کے آنے سے اس مرض کا خاتمہ ہوا ۔ چیچک کا مرض بھی عام تھا ۔ وقتاً فوقتاً طاعون اور ہیضہ جیسے وبائیں بھی پھوٹتی رہی ہیں ۔ خانپور میں ڈسپنسری 1868 میں قائم ہوئی ایلوپیتھک علاج ہوتا تھا ۔ جبکہ نوشہرہ (موجودہ رحیم یار خان ) میں 1892 میں ڈسپنسری بنی ۔ 1903 میں خانپور اور رحیم یار خان میں ڈسپنسریوں کی بجائے ہسپتالوں کا ذکر ملتا ہے 19 جولائی 1906ء کو مشیر مال نے صادق آباد کا دورہ کیا تو یہاں کے پرانے کوٹ قلعہ کو منہدم کراکے اسی مٹی سے ہسپتال صادق آباد اور ڈاکٹروں کی رہائش گاہیں تعمیر کروائیں ۔ 1906 میں اللہ آباد ہسپتال کا بھی ذکر ملتا ہے ان تمام مذکورہ ہسپتالوں میں ان ڈور کی سہولیات ملتی تھیں یہاں ہڈیوں ، پیٹ اور موتیا بند وغیرہ کے آپریشن کی سہولیات بھی میسر تھیں ۔

تعلیم

بہاولپور کا خطہ شروع سے ہی علم و ادب کا گہوارہ رہا ہے ۔ اوچ میں قائم مدرسہ ء فیروزیہ برصغیر پاک و ہند کے لئے یونیورسٹی کی حیثیت رکھتا تھا ۔ضلع رحیم یار خان میں بھی بعد ازاں انہی اسلاف کی برکت سے علمی و دینی مراکز کا قیام عمل میں آیاجہاں قرآن حدیث اور فقہ کی تعلیم دی جاتی تھی 1866 میں انگریزی تعلیم کے ادارے بھی قائم ہونا شروع ہوئے ۔ 1883 ء میں خانپور کے مدرسہ میں فارسی عربی اور حساب وغیرہ کی تعلیم ساتویں جماعت تک دی جاتی تھی ۔ جسے بعدا زاں آٹھویں جماعت تک کا درجہ دے دیا گیا ۔ ان تمام باتوں کے باوجود دینی مدارس اپنی جگہ پر قائم رہی ۔ جس کا اندازہ بستی مولویاں کے قدیم مدرسے سے لگایا جاسکتا ہے جو دیوبند سے بھی قدیم ہے ۔ انیسویں صدی کے آخر تک رحیم یار خان کو اگرچہ شہر کی حیثیت حاصل تھی لیکن تعلیمی میدان میں خانپور کی برتری مسلمہ تھی ۔ خان پور کا قصبہ دین پور 1917 کی ریشمی رومال تحریک کا اہم مرکز بنا ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Translate »
Close
Close