fbpx

مذہب کے نام پر ہماری بیٹیوں کو اغوا نہ کریں، ان کا ریپ نہ کریں‘

پاکستان میں ہندو لڑکیوں کے اغوا کے واقعات میں ایک بار پھر اضافہ ہوا ہے اور اقلیتی اراکین نے صوبائی اور قومی اسمبلی پر حکومتوں کو توجہ دلانے کی کوشش کی ہے۔

سندھ اسمبلی نے ہندو لڑکیوں کے مبینہ اغوا اور جبری مذہبی تبدیلی کے خلاف قرار داد منظور کرلی ہے جبکہ قومی اسمبلی میں سپیکر نے وزیر مذہبی امور کو فوری پارلیمانی کمیٹی بنانے کی ہدایت کی ہے۔

واضح رہے کہ اس حوالے سے سندھ اسمبلی پہلے بھی ایک قانون منظور کر چکی ہے تاہم جب وہ بل توثیق کے لیے گورنر سندھ کو بھیجا گیا تو انھوں نے اس میں کچھ ترامیم تجویز کر کے اسمبلی کو واپس بھجوا دیا تھا۔ اس کے بعد یہ قانون تو اسمبلی میں پیش نہ ہوسکا تاہم ایوان نے آج یہ قرارداد منظور کر لی ہے۔

سندھ اسمبلی میں قرار داد مسلم لیگ فنکنشل کے اقلیتی رکن اسمبلی نند کمار گوکلانی نے پیش کی جس کو ترمیم کے بعد منظور کیا گیا۔ ترمیم میں قرارداد کے متن میں ’ہندو لڑکیوں‘ کی جگہ صرف لڑکیوں کا لفظ استعمال کیا گیا۔

نندکمار گوکلانی کا کہنا تھا کہ ہم اقلیتی قیام پاکستان سے لے کر محب وطن ہیں جس طرح ہمارے مسلمان بھائی۔ ’ہم کبھی اضافی حقوق کی بات نہیں کرتے ہمیں اقلیتی کوٹہ بشمول اسمبلی میں نشستیں نہیں چاہیں ہم صرف اتنا چاہتے ہیں کہ ہمیں زندہ رہنے دیں مذہب کے نام پر ہماری بیٹیوں کو اغوا نہ کریں ان کا ریپ نہ کریں۔‘

نندکمار گوکلانی نے رواں سال کے سات ماہ میں مبینہ طور پر اغوا کی گئی 41 لڑکیوں کی تفصیلات ایوان میں پیش کیں جو ان کے مطابق کراچی اور حیدرآباد ،ٹنڈو الہ یار، ٹنڈو محمد خان، جام پتافی، بدین، میرپور خاص، سانگھڑ، سکھر، شہداکوٹ، گھوٹکی ، ٹھٹہ، خیرپور، دادو اور جام شورو اضلاع سے اغوا کی گئیں۔

پاکستان میں سنہ 2017 کی قومی مردم شماری کے مطابق ملک کی مجموعی آبادی 20 کروڑ 76 لاکھ سے زائد نفوس پر مشتمل ہے جس میں 96.47 فیصد مسلمان اور 3.53 مذہبی اقلیتیں ہیں۔ سنہ 1998 کی مردم شماری کے مطابق مسلم آبادی 96.28 فیصد جبکہ مذہبی اقلیتیں 3.72 فیصد تھیں، اس طرح دو مردم شماریوں کے دوران مذہبی اقلیتوں کی تعداد میں 0.19 فیصد کمی آئی ہے۔

ادھر ایم کیو ایم کی رکن اسمبلی منگلا شرما کا کہنا تھا کہ ’ہندؤں میں عدم تحفظ ہے کیونکہ ان کی بیٹیاں اغوا ہو رہی ہیں انہیں ورغلا کر ان کا مذہب تبدیل کیا جارہا ہے، سوال یہ ہے کہ ساری لڑکیاں صرف سندھی مسلمانوں کے ساتھ ہی کیوں جارہی ہیں اگر رضا خوشی سے جانے کی بات ہے تو کیا دوسرے مذاہب کی لڑکیوں کی رضا خوشی نہیں ہوتی؟‘

جبری تبدیلیِ مذہب کے قانون میں کیا تھا؟

سندھ اسمبلی نے نومبر سنہ 2016 میں کثرت رائے سے ‘مائنارٹیز پروٹکشن بل’ یعنی اقلیت کے تحفظ کا بل منظور کیا تھا، جس کے تحت جبری طور پر مذہب کی تبدیلی اور اس میں معاونت پر تین سے پانچ سال قید کی سزا اور مقدمات کی سماعت کے لیے خصوصی عدالتیں قائم کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔

یہ بل مسلم لیگ فنکشنل کے اقلیتی رکن نند کمار گوکلانی نے ہی پیش کیا تھا۔ اس بل کے ابتدائیے میں کہا گیا ہے کہ مذہب کی جبری تبدیلی ایک مکروہ جرم ہے، جو پورے سندھ میں نظر آتا ہے اور جس کی روک تھام ضروری ہے۔
اس بل میں جبری مذہب کی تبدیلی میں سہولت کاری کو بھی جرم قرار دیا گیا ہے، جس کے مطابق اگر کوئی شخص جس کو معلوم ہے کہ ایک فریق یا دونوں فریقین کا مذہب جبری تبدیل کیا گیا ہے اور وہ شادی میں معاونت یا سہولت فراہم کرتا ہے تو وہ بھی سزا کا مستحق ہوگا۔

اس کو تین سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی جائے گی۔ اس کے علاوہ شادی کا انتظام کرنے، مولوی اور دیگر سہولتیں فراہم کرنے والوں کو بھی شریک جرم تصور کیا جائے گا۔

اس بل کے مطابق اگر کوئی مائنر (کم سن) یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس نے مذہب تبدیل کرلیا ہے تو اس کے دعوے کو قبول نہیں کیا جائے گا تاہم صغیر کے والدین یا کفیل اپنے خاندان سمیت مذہب تبدیل کرنے کا فیصلہ کرسکتے ہیں۔ مذہب کی جبری تبدیلی مختلف حوالوں سے ہو سکتی اس کو صرف جبری شادی یا جبری مشقت تک محدود نہیں سمجھا جائے گا۔

اس بل میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی پر جبری مذہب تبدیل کرنے کا الزام ثابت ہوجاتا ہے تو ملزم کو پانچ سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی جائے گی اور یہ جرمانہ متاثرہ فریق کو دیا جائے گا۔

اس بل میں بتایا گیا ہے کہ زبردستی مذہب کی تبدیلی کے مقدمے میں سندھ چائلڈ میریج ایکٹ، پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 498، 375، 376، 365 اور 361 کو بھی شامل رکھا جائے گا اس کے علاوہ جبری مشقت کے خاتمے کے قانون کی شقیں بھی اس قانون میں شامل ہوں گی۔

عدالت اور پولیس کو شکایت ممکن

بل میں شکایت کا نظام بھی واضح کیا گیا ہے جس کے تحت متاثرہ فرد یا باخبر شخص عدالت میں درخواست دے سکتا ہے، عدالت یہ درخواست موصول ہونے کے سات روز کے اندر تاریخ مقرر کرے گی اور ملزم کو طلب کرکے جواب طلبی کرے گی اور یہ مقدمہ 90 روز کے اندر نمٹایا جائے گا۔

جبری مذہب کی شکایت عدالت کے علاوہ پولیس کے پاس بھی درج کی جاسکتی ہے۔ کوئی بھی پولیس افسر جس کو یہ شکایت موصول ہوئی ہے کہ کسی فرد کا مذہب جبری طور پر تبدیل کیا گیا ہے تو وہ اس شخص کو تحویل میں لینے کے 24 گھنٹے کے اندر عدالت میں پیش کرے گا۔

کسی نابالغ فرد کی صورت میں حتمی فیصلہ عدالت کرے گی کہ وہ نابالغ ہے یا بالغ۔ عدالت مطمئن ہونے کے بعد اسے والدین کے سپرد کرے گی۔ اس وقت تک اس فرد کو تحفظ فراہم کرنے والے ادارے کے حوالے کیا جائے گا۔

بل میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر مذہب کسی بالغ شخص سے شادی کی وجہ سے تبدیل ہوا ہے تو اس متاثرہ فرد کو عدالت کے فیصلے تک شیلٹر ہوم میں رکھا جائے گا۔ جبکہ متاثر شخص رضاکارانہ طور پر بیان دے کر اپنے والدین، سرپرست، شوہر یا شادی کے خواہشمند شخص سے ملاقات کرسکتا ہے۔ لیکن یہ ملاقات چائلڈ پروٹکشن محکمے کے حکام یا عدالت کی موجودگی میں ہوگی۔

بل میں واضح کیا گیا ہے کہ کسی بالغ شخص کے مذہب تبدیل کرنے کے بارے میں فیصلے سے قبل عدالت فریق کو 21 روز کی مہلت دے گی تاکہ وہ فیصلے پر نظر ثانی کرسکے اور اس کو مذہب کے مطالعے کا بھی موقع فراہم کیا جائے گا۔ اگر کسی ملزم پر یہ الزام ثابت ہوجاتا ہے کہ شادی کے ذریعے مذہب تبدیل کیا گیا ہے تو فوری طلاق ہو جائے گی۔

کمیشن اور خصوصی عدالتوں کا قیام

اس قانون پر عملدرآمد اور نگرانی کے لیے حکومت خاص کمیشن یا کمیٹی قائم کرے گی، جس کے لیے اضافی بجٹ، انفراسٹرکچر، وسائل اور عملہ فراہم کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ جب تک کہ قانون کے تحت مجاز عدالتیں اور کمیشن کا نوٹیفیشکن جاری نہیں کیا جاتا اس وقت تک خصوصی عدالتیں جبری مذہب کی تبدیلی کے مقدمات کی سماعت کرنے کی پابند ہوں گی۔

تحفظِ اقلیت کے بل پر رد عمل

تحفظِ اقلیت بل کی منظوری پر جمعیت علما اسلام، جمیعت علما پاکستان، جماعت اسلامی، جماعۃ الدعوۃ سمیت تمام مذہبی اور مسلکی جماعتوں نے ناراضگی کا اظہار کیا، کراچی اور حیدرآباد میں اس کے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی کیے گئے اور وزیر اعلیٰ ہاؤس کے سامنے دھرنے کی دھمکی بھی دی گئی۔

اسلامی نظریاتی کونسل نے بھی اس قانون کو آئین کی بعض شقوں کے متصادم قرار دیا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور روشن خیال حلقوں کی جانب سے اس بل کی تعریف کی گئی اور اسے اقلیتوں کے حقوق کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا گیا تھا۔

تحفظِ اقلیت بل کی اسمبلی کو واپسی

پاکستان کی صوبائی اسمبلیوں سے منظور کیا گیا ہر قانون وفاق کے نمائندے گورنر کو بھیجا جاتا ہے جو اس کی تائید یا ترمیم کرتا ہے، یہ صوبائی اسمبلی کا استحقاق ہے کہ وہ بل میں ترمیم کرے یا ان کے بغیر منظور کرلے جو 15 روز میں ایکٹ کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔

سندھ کے سابق گورنر جسٹس سعید الزمان صدیقی نے دسمبر سنہ 2016 میں اقلیتی تحفظ کے بل کو ترمیم کے لیے واپس اسمبلی کو بھیج دیا، اپنے ترمیمی نوٹ میں انھوں نے اسلامی نظریاتی کونسل کی مخالفت اور مذہبی جماعتوں کے احتجاج کا بھی حوالہ دیا تھا۔

پاکستان پیپلز پارٹی ترمیم کے لیے راضی

پاکستان پیپلزپارٹی کی سابقہ حکومت نے تحفظِ اقلیت کے بل میں ترمیم کرنے کا اعلان کیا تھا، اس وقت کے سینیئر صوبائی وزیر نثار کھوڑو کا کہنا تھا کہ اسلام اور قرآن جبری مذہب کی تبدیلی میں یقین نہیں رکھتے۔ ‘اس قانون کی وجہ سے کچھ غلط فہمی پیدا ہوئی ہے، یہاں شادی کے لیے عمر کم از کم 18 سال مقرر ہے جو قانون میں پہلے سے موجود ہے۔’ تبدیلی مذہب کی کوئی عمر نہیں ہوتی یہ بل نو عمر شادی کی روک تھام کے لیے تھا۔
سندھ کے اقلیتی امور کے سابق مشیر کھٹو مل جیون نے بل دوبارہ اسمبلی میں پیش کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن اس پر عمل درآمد نہ ہوسکا، موجودہ صوبائی وزیر ہری رام کشوری لال بھی یہ ہی موقف دہراتے ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت بھی قومی اسمبلی سے یہ بل منظور کرائے۔ اس بل کو پیش کرنے والے رکن نند کمار کا کہنا ہے کہ وہ کئی بار یاد دہانی کروا چکے ہیں لیکن اس کے باوجود یہ بل دوبارہ پیش نہیں کیا جا سکا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Translate »