fbpx
رحیم یارخانضلعی انتظامیہ

رحیم یارخان میں مہنگا آٹا فروخت کرنے پر 2دکاندار گرفتار

ضلع بھر میں 66 فلور ملز آٹا کی پسائی کر رہی ہیں

رحیم یار خان :حکومت پنجاب کے احکامات پر عوام کو آٹے کی مقرر کردہ نرخوں پر دستیابی یقینی بنانے کیلئے ڈپٹی کمشنر علی شہزادمارکیٹ پہنچ گئے،

مختلف مارکیٹ، دکانوں، آٹا چکیوں، تندورو ہوٹلز کا دورہ،مہنگا آٹا فروخت کرنے پر 2دکاندار گرفتار،

ڈپٹی کمشنر علی شہزاد نے وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی ہدایت پر ضلع میں آٹا کی سپلائی اور ڈیمانڈ کا جائزہ لینے کے لئے مختلف مارکیٹس کا وزٹ کیا۔انہوں نے انتظامیہ کی جانب سے قائم سستے آٹا کے پوائنٹس پر آٹا کی دستیابی، معیار اور مقدار کا جائزہ لیا جبکہ خریداری کے لئے آئے شہریوں سے بھی آٹا کی دستیابی و معیار بارے معلومات حاصل کیں۔

ڈپٹی کمشنر نے شہریوں کی شکایات پر ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر کو آٹا کی کوالٹی مزید بہتر کرنے کی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ خوراک کا عملہ ضلع بھر میں سرکاری گندم کی پسائی کرنے والی فلور ملز میں گندم کی سپلائی، آٹا کی پسائی، معیار اور مقدار کی نہ صرف کڑی مانیٹرنگ کریں بلکہ تمام مراحل کا مکمل ریکارڈ رکھا جائے۔

انہوں نے ہدایت کی کہ تمام فلور ملز کا سرپرائز وزٹ کرتے ہوئے مارکیٹ میں سپلائی کئے جانے والے آٹا کا سیمپل لیکر لیبارٹری بھجوائے جائیں۔

آٹا کے معیار و مقدار پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا، ناقص آٹا فراہم کرنے والی فلور ملز مالکان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔انہوں نے ڈی ایف سی کو ہدایت کی کہ فکسڈ و موبائل پوائنٹس پر آٹا کی قلت نہیں ہونی چاہیے۔

ڈپٹی کمشنر نے مختلف دکانوں اور آٹا چکیوں پر دستیاب آٹا کے نرخ اور کوالٹی کا جائزہ لیا جبکہ مہنگے داموں آٹا فروخت کرنے پر دو دکاندار کو موقع سے گرفتار کروا دیا۔

ڈپٹی کمشنر نے تندور و ہوٹلز مالکان سے بھی آٹا کی دستیابی اور معیار بارے معلومات حاصل کی جبکہ انہوں نے فلورملز کا دورہ کرتے ہوئے گندم کی پسائی اور دستیاب آٹا کے ریکارڈ کا جائزہ لیا۔

انہوں نے محکمہ فوڈ کے افسران کو ہدایت کی کہ فلور ملز کو گندم کی فراہمی سے آٹا کی مارکیٹ میں ترسیل تک کا تمام ریکارڈ رکھا جائے۔اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر علی شہزاد نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان اور وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار اٹا کی طلب و رسد کو مانیٹر کرر ہے ہیں۔ضلع میں آٹے کا کوئی بحران نہیں، محکمہ خوراک کے پاس گندم کے اطمینان بخش ذخائر موجود ہیں۔
ضلع بھر میں 66 فلور ملز آٹا کی پسائی کر رہی ہیں جبکہ ضلع بھر میں سستے آٹا کے 915فکسڈ اور32موبائل پوائنٹس بنائے گئے ہیں جہاں پر عوام کوسستا و معیاری آٹا20کلو گرام805اور10کلوگرام402روپے میں دستیاب ہے۔

انہوں نے کہا کہ اشیاء روزم مرہ کی قیمتوں کو عوامی دسترس میں رکھنے کے لئے ضلعی انتظامیہ کے30پرائس کنٹرول مجسٹریٹس ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں، گراں  فروشی، ناپ تول میں کمی اور غیر معیاری اشیاء روز مرہ فروخت کرنے والوں سے ضلعی انتظامیہ آہنی ہاتھوں سے نمٹے کی۔


ڈپٹی کمشنر علی شہزاد نے کہا ہے کہ قدرتی آفات ہو یا کسی بھی نوعیت کے حادثات ریسکیو اداروں نے ہمیشہ برقت موقع پر پہنچ کر ریسکیو اینڈ ریلیف سرگرمیوں کا آغاز کرکے قیمتی انسانی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا، بڑھتے ہوئے حادثات کی شرح کو روکنے اور ریسکیو1122کی استعداد کار میں اضافہ کے لئے میں ذاتی حیثیت میں اپنا بھر پور کردار ادا کروں گا، بلا شبہ اتنے بڑے  ضلع میں ایمرجنسی سروسز کی فراہمی کیلئے ریسکیو کے پاس دستیاب وسائل ناکافی ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹر منیجمنٹ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ڈپٹی کمشنر نے تمام تحصیلوں کے اسسٹنٹ کمشنرز کوہدایت کی کہ وہ اپنی تحصیلوں میں موجود ریسکیو اسٹیشن کی وسعت و اضافہ کیلئے اقدامت کریں  جبکہ چوک بہادرپور، ترنڈہ محمد پناہ اور نواں کوٹ کیلئے تجویز کئے گئے ریسکیو اسٹیشنز کے لئے بنیادی اقدامات مکمل کریں۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ اجلاس میں حادثات کی روک تھام کے لئے جو اقدامات اٹھانے کی سفارش کی گئی ہے انہیں ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے گا۔قبل ازیں ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ریسکیو1122ڈاکٹر عبدالستار نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ دوسری مرتبہ مقامی فرٹیلائزر کمپنی کے اشتراک سے موک ایکسرسائز کا اہتمام کیا گیا تھا جس میں امونیہ گیس کے اخراج کی صورت میں مقامی آبادی کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے کا عملی مظاہرہ کیا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ فرضی مشقوں کے ذریعے ضلعی
 انتظامیہ کے تحت کام کرنے والے اداروں کی مشترکہ طور پر سانحات سے نمٹنے کی تربیت کرائی گئی ہے۔انیوں نے کہا کہ ریسکیو1122سروس کا آغاز12سال قبل ہوا تھا آبادی کے تناسب سے وسائل کی کمی کا سامنا ہے  وسائل و افرادی قوت کی فراہمی کے ساتھ ساتھ نئے ریسکیو اسٹیشنز کا قیام ناگزیر ہے جبکہ ضلع کی تمام تحصیلوں کے اہم مقامات پر آگ بجھانے کیلئے فائر ہائیڈرینٹ ہونے چاہیے جبکہ پہلے سے موجود ریسکیو اسٹیشن کی توسیع ضروری ہے۔علاوہ ازیں انہوں نے مختلف امور بارے بریفنگ دی۔اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر(ریونیو)ڈاکٹر جہانزیب حسین لابر، ڈپٹی ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ چوہدری طالب حسین رندھاوا، سیکرٹری ڈی ڈی ایم اے و ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ڈاکٹر عبدالستار، سیکرٹری آر ٹی اے ریاست علی سمیت محکمہ صحت، تعلیم میونسپل آفیسر و دیگر متعلقہ اداروں کے افسران موجو دتھے۔

 

Tags

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Translate »
Close
Close