fbpx

ڈہرکی کی دو بہنوں نے اسلام قبول کر لیا خان پور میں شادی کی تقریب ،ورثا کا قومی شاہراہ پر احتجاج

hindu girls accepted islam

رحیم یارخان (ویب ڈیسک ) ڈہرکی سے لاپتہ نو مسلم لڑکیوں نے اسلام قبول کر لیا لڑکیاں اور لڑکے خان پور کٹورا پہنچ گئے مقامی شادی ہال میں شادی کی تقریب بھی منعقد کی گئی 

ڈہرکی کی نو مسلم لڑکیاں خانپور کٹورا پہنچ گئی جہاں دونوں ہندو لڑکیوں نے اسلام قبول کرنے کے بعد آسیہ نے صفدر کوبھر اور شازیہ نے برکت ملک کے ساتھ نکاح کرلیا ہے ۔

نکاح مولوی علامہ قاری بشیر احمد قادری نے پڑھایا جبکہ شادی کی تقریب مقامی شادی ہال میں منعقد کی گئی جس میں بڑی تعداد میں شہریوں نے شرکت کی نومسلم لڑکیاں دو روزسے ڈہرکی سے لاپتہ تھی لڑکیوں کے بھائی نے چھ افراد کے خلاف تھانہ ڈہرکی میں اغوا کا مقدمہ درج کروا رکھا ہے ۔

جبکہ ایک روز قبل لڑکیوں نے سوشل میڈیا پر اپنی پسند اور مرضی سے شادی کا بیان جاری کیا تھا ۔


لڑکیوں نے پولیس سے تحفظ فراہم کرنے کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ  سندھ کے وڈیرے اور سندھ پولیس ہماری جان کی دشمن بن گئ ہے


Turn off for: Urdu
ڈہرکی کے نواحی گاؤں حافظ سلیمان کے رہائشی ہر لعل ھندو مینگھواڑ کی دو بیٹیاں روینا اور ریناکی اسلام قبول کرنے پر  ھندو مینگھواڑ برادری کی طرف سے ڈہرکی بائی پاس قومی شاہراہ کو احتجاج بند کردیا گیا، تین گھنٹے تک ٹریفک معطل رہی اور گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئی،
اس موقع پر لڑکیوں کے والد ہری لال نے الزام عائد کیا کہ مسلح افراد نےاس کی دونوں بیٹیاں روینہ اور رینا کو زبردستی اغوا کیا،پولسیں میں مقدمہ درج ہونے کے باجود میری بیٹیوں کو بازیاب کرانے میں ناکام رہی۔
ڈی ایس پی اوباڑو اظہار لاہوری اور ایس ایچ او ڈہرکی طفیل بھٹو کی طرف سے مظاہرین کے ساتھ تین بار مزکرات کئےجو ناکام ہوئے،
ڈی ایس پی اور ایس ایچ او کی طرف سے 24گھنٹے کے اندر مذکورہ لڑکیوں کو بازیاب کراکے عدالت میں پیش کرنے کی یقین دہانی پر تین گھنٹے بعد دہرنا ختم کیا اور مظاہرین منتشر ہوگئے،
ڈہرکی تھانے پر پولیس نے لڑکیوں کے والد ہری لال کی مدعیت میں تین افراد صفدر کوبھر، برکت ملک اور احمد شاہ کے خلاف مذکورہ لڑکیوں کو اغوا کرنے کا مقدمہ درج ہے۔
پولیس نے مقدمہ میں درج ایک شخص احمد شاہ کو سہولت کاری کے الزام میں گرفتار بھی کررکھا ہے،
رابطہ کرنے پر ایس ایچ او طفیل بھٹو نے بتایا کہ لڑکیوں کے اغوا نہیں بلکہ اپنی مرضی سے گھر سے گئیں ہیں، سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں لڑکیاں خود کہہ رہی ہیں کہ انہوں نے مرضی سے اسلام قبول کیا ہے، لیکن ابھی تک معلوم نہیں ہوسکا ہے کہ لڑکیوں نے کہاں پر اسلام قبول کیا ہے اور کس کے پاس ہیں،  جلد لڑکیوں کو بازیاب کراکے عدالت میں پیش کیا جائے گا، بازیابی کے بعد لڑکیوں کی والدین سے بھی ملاقات کرائی جائے گی، لڑکیوں کے باپ کی فریاد پر تین افراد پر مقدمہ بھی درج کیا ہے، گھروں پر چھاپے بھی مارے گئے ہیں لیکن ملزمان گھر چھوڑ کر فرار ہوگئے ہیں،

hindu girls accepted islam

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Translate »
Close
Close