fbpx

آبادی کی تاریخ

آبادی پر ایک تاریخی جھلک
ضلع رحیم یار خان سابق ریاست کا اہم خطہ رہا ہے 1900 میں مردم شماری ہوئی اس وقت اس کے بعض علاقوں کی آبادی اس طرح تھی

۔ خانپور 8,611نفوس پرمشتمل تھا                   جن میں سے مردوں کی تعداد 4195 اور عورتوں کی تعدا د 3388 تھی
۔ احمد پورلمہ 5343 نفوس پرمشتمل تھا            جن میں سے مردوں کی تعداد 2839 اور عورتوں کی تعدا د 2504 تھی
۔ گڑھی اختیار خان 4939نفوس پرمشتمل تھا       جن میں سے مردوں کی تعداد 2693 اور عورتوں کی تعدا د 2246 تھی
۔ نوشہرہ 4475نفوس پر مشتمل تھا                  جن میں سے مردوں کی تعداد 2532 اور عورتوں کی تعدا د 1943 تھی
۔ الہ آباد 2868نفوس پر مشتمل تھا                  جن میں سے مردوں کی تعداد 1583 اور عورتوں کی تعدا د 1285 تھی

اس وقت کی زبانوں میں ملتانی بہاولپوری (سرائیکی ) ، مارواڑی یا راجھستانی زبان ، سندھی ، کچھ تعداد میں پشتو اوربلوچی جبکہ اردو بولنے والے معدودے چند تھے

آباد کاری
اس علاقے کی آبادکاری کے لئے مختلف اوقات میں مختلف ترغیبات کے تحت سرکاری اراضی کی کئی ایک سکیموں کا آغاز کیا جاتا رہا ہے اگرچہ ضلع رحیم یار خان میں آبادکاری کا آغاز انیسویں صدی کے آخری تہائی میں کرنل منچن کی اصلاح آب پاشی کے منصوبوں سے ہی ہوگیا تھا تاہم 1900 ء میں پنجاب سے پہلی بار آباد کاروں کی ایک خاصی تعداد کو یہاں لاکر بسایا گیا یہ وہ پہلا دور ہے جس کا دورانیہ 1869 سے شروع ہوکر 1925 ء تک ہے اس دور میں کونسل آف ریجنسی نے انتظام حکومت سنبھالا ہوا تھا ۔ اس دور میں منچن آباد (موجودہ بہاولنگر) اور خانپور (موجودہ رحیم یار خان ) میں ریاست فرید کوٹ ، جالندھر ، ہوشیار پور ، ملتان ، امرتسر ، ڈیرہ غازی خان ، شکارپور، سیالکوٹ راولپنڈی ، جھنگ ، شاہ پور (سرگودھا) سے آبادکاروں کو لایا گیا ۔ اس دور میں ایک لاکھ بیالیس ہزار تین سو بتیس بیگھے زمین الاٹ کی گئی۔
آبادکاری کا دوسرا دور 1926 سے شروع ہوتا ہے ۔ اس زمانے میں اوچ کے مقام دریائے ستلج اور دریائے چناب کے مقام اتصال پر ہیڈ پنجند بنانے کا منصوبہ شروع ہوا عباسیہ اور پنجند نہروں کے تحت آبادکاری کی سکیموں کا اجراء کیا گیا ۔ ان دس سکیموں میں تین لاکھ چورانوے ہزار ایک سو ایکڑ اراضی الاٹ کی گئی ۔ تیسری سکیم میں ڈیڑھ لاکھ ایکڑ سے زائد زمین دوامی زون اور غیر دوامی زون میں تقسیم کی گئی ۔

Back to top button
Translate »
Close
Close