fbpx

قادیانیت , آئین پاکستان اور تعزیرات پاکستان………..

تحریر : بشارت ہندل

قادیانیت , آئین پاکستان اور تعزیرات پاکستان………..بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا
جو چیرہ تو اک قطرہ خون نہ نکلا
“قادیانی اقلیت کمیشن میں شامل”
کل سے اس خبر پر ایک عجیب کیفیت ہے سوشل میڈیا پر
کوئی کلمے پڑھ کر اپنے مسلمان ہونے کا یقین دلا رہا ہے تو کوئی قادیانیوں اور ان کیلئے نرم گوشہ رکھنے والوں پر لعنت بھیج رہا ہے
کوئی حکومت کے اس اقدام کی حمایت میں عمران خان کو قائداعظم محمد علی جناح سے بھی بڑا لیڈر ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے
اور کوئی اس اقدام پر عمران خان کو یہودی ایجنٹ اور کافر ثابت کرنے پر بضد ہے
کوئی اس کی افادیت بتاتے تھک نہیں رہا
اور کوئی اس کے ان گنت نقصانات کی لسٹ پیش کر رہا ہے
بس ہر کوئی اپنی اپنی لیڈر شپ کے کے مفاد کی خاطر اور اپنی کم علمی کی بنیاد پر آخری حدوں کو چھو رہا ہے
پرانی کہاوت ہے کہ
اگر کوئی کہے کہ کتا آپکا کان لے گیا تو بجائے کتے کے پیچھے بھاگنے کے پہلے اپنا کان چیک کر لیں
تو چلیں آئیں اپنا کان چیک کریں اور دیکھیں کہ آخر معاملہ ہے کیا
پہلی بات
وفاقی وزیر مذہبی امور نے اس خبر کی ہی تردید کر دی ہے کہ ابھی تک ایسا کوئی فیصلہ نہیں ہوا اور اگر ایسا کوئی فیصلہ ہوا تو کابینہ اس کی منظوری دے گی
دوسری بات
اگر ایسا کوئی فیصلہ ہوا بھی تو اس میں نئی بات کیا ہو گی اور اسکا فائدہ یا نقصان کیا ہوگا
اب ذرا اس دوسری بات کی چھان بین کرتے ہیں
جیسا کہ پہلی بات میں کہا کہ ابھی تک تو حکومت اس اقدام کی نفی کر رہی ہے لیکن اگر ایسا کیا گیا ہے یا کیا جائے گا تو اس میں اچھنبے والی بات کیا ہوگی اور اس سے کون سا انقلاب آ جائے گا ؟
جواب … چائے کی پیالی میں طوفان
جب 1974 میں دوسری آئینی ترمیم کے تحت قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دے کر ان پر پابندیاں لگائی گئیں تو کیا قادیانیوں نے اس آئینی ترمیم کو تسلیم کیا ؟
جواب… نہیں
کیا جس دن سے آئین پاکستان میں یہ ترمیم کی گئی اس دن سے یہ سہولت قادیانیوں کے پاس موجود نہیں ہے کہ وہ خود کو غیر مسلم تسلیم کر لیں اور اقلیت میں شامل ہو کر اپنے اقلیتی حقوق حاصل کریں اور کیا بھٹو دور میں بھی انہیں بار بار یہ آفر نہیں کی گئی تھی ؟
جواب ….. ہاں
یعنی قادیانیوں نے آئین پاکستان کی اس آئینی ترمیم کو پہلے دن سے تسلیم ہی نہیں کیا اور آئین پاکستان سے انہوں نے غیر اعلانیہ بغاوت کا اعلان کر دیا اور اندرون ملک خود کو ظاہر نہ کرنے کا اصول اپناتے ہوئے خود کو آئین پاکستان کے خلاف مسلمان ہی کہلاتے آئے اور بیرون ملک خود کو احمدیہ مسلم کمیونٹی کے طور پر پیش کر کے اسی بنیاد پر پوری انٹرنیشنل کمیونٹی میں پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کرتے آئے کہ پاکستان میں ہمیں مذہبی آزادی حاصل نہیں
اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکومت کے اس اقدام سے (اگر حکومت نے یہ اقدام اٹھایا تو) کیا فائدہ حاصل ہوگا
یا یوں کہیں کہ کوئی فائدہ حاصل ہوگا بھی یا نہیں
تو جواب بڑا آسان ہے
پچھلے 46 سال میں تو قادیانیوں نے خود کو اقلیت تسلیم کیا نہیں تو وہ اب کیوں کر تسلیم کریں گے جبکہ وہ آج بھی اپنے خلیفے کے پیچھے متحد ہیں اور ہماری کوئی ایجنسی کوئی علماء آج تک انہیں توڑنے میں کامیاب نہ ہو سکے کہ ان کی کسی ٹکڑی کو توڑ کر اقلیت میں شمار کر لیا جائے تاکہ بیرونی دنیا میں انکا یہ واویلا ختم ہو سکے کہ انہیں پاکستان میں مذہبی و معاشرتی آزادی حاصل نہ ہے تو اب یہ کیسے ممکن ہوگا
اور اگر اب ایسا ممکن ہو گیا تو یقین مانیں یہ اس موجودہ حکومت کی بہت بڑی کامیابی ہو گی , کہ اگر قادیانیوں کی کسی ٹکڑی کو توڑ لیا گیا اور ان کے کسی سرکردہ راہنما کو اقلیتی کمیشن میں شامل کر لیا گیا تو قادیانیوں کا بیرونی دنیا میں یہ واویلا از خود اپنی موت آپ مر جائے گا
جس کی امید نہ ہونے کے برابر ہے
یعنی بظاہر ایک بلاوجہ کا نیا کٹہ کھولا گیا ہے شاید دیگر مسائل سے توجہ ہٹانے کیلئے یا پھر حکومت مخالفوں کی جانب سے حکومت کی دیگر مسائل کی جانب سے توجہ ہٹانے کیلئے یہ حرکت کی گئی
خیر وجہ کوئی بھی ہو نتائج وہی ہیں جو اوپر ڈسکس ہو چکے
اب آتے ہیں دوسری جانب کہ دوسری آئینی ترمیم کے بعد آئین پاکستان کیا کہتا ہے اور قانون کیا کہتا ہے
سوشل میڈیا پر شور واویلا کرنے والے اکثر افراد شاید اس دوسری آئینی ترمیم اور اسکے بعد ضیاء الحق کے دور میں سال 1984 میں جاری ہونے والے 20ویں آرڈیننس اور اس آرڈیننس کی رو سے تعزیرات پاکستان میں شامل ہونے والی دفعات 298 بی اور 298 سی سے یکسر نا واقفیت کی بنیاد پر وہی حرکت کر رہے ہیں جو ان قوانین کی خلاف ورزی کر کے قادیانی کر رہے ہیں
یعنی آئین پاکستان سے انکاری ہو کر اپنی ذاتی خواہش کی بنیاد پر آئین و قانون سے بھی آگے کے فتوے جاری کرنا
تو چلیں آئیں پہلے اس دوسری آئینی ترمیم اور تعزیرات پاکستان کی دفعات کے بارے اس کی تحریر سے کچھ علم حاصل کر لیں
آئین پاکستان میں دوسری آئینی ترمیم
7 ستمبر 1974 کو دوسری آئینی ترمیم کی رو سے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا جو یہ تھی
“ہر ایسا شخص جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم نبوت کی حتمی حیثیت پر ایمان نہ رکھتا ہو , انہیں نبیوں میں آخری نبی تسلیم نہ کرتا ہو , کسی بھی سوچ کے تحت الفاظ یا شناخت کی صورت چاہئے وہ کچھ بھی ہو , محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی بھی نبوت کے دعویدار یا مذہب میں تبدیلی کرنے والے کو راہنما مانتا ہو , وہ آئین پاکستان کی رو سے مسلمان نہیں ہے “
یہ ہے وہ آئینی ترمیم جو اب آئین پاکستان کا حصہ ہے اور چاہے کسی کو تسلیم ہو یا نہ ہو , چاہے کوئی اس سے اتفاق کرتا ہو یا نہ ہو , ہر پاکستانی پر اس کی اطاعت فرض عین ہے
اب آتے ہیں ضیاء الحق کی جانب
1984 میں آرڈیننس 20 کے ذریعے تعزیرات پاکستان میں 298 بی اور 298 سی شامل کی گئیں جس کی قانونی حیثیت پر بات ضرور ہونی چاہئے کیونکہ اس وقت نہ کوئی پارلیمان تھی نہ عوامی نمائندگی اس لئے یہ قوانین جب اسے کسی عوامی پارلیمان سے توثیق نہ ملے پر سوالیہ نشان موجود رہے گا اور یہ بین الاقوامی طور پر زیر بحث آتا رہے گا لیکن پاکستان میں چونکہ آمرانہ دور کے بنے ایسے قوانین شجر ممنوعہ بن چکے ہیں ان پر بات کرنے کی چاہے اس کی توثیق کیلئے ہی کیوں نہ ہو شاید کسی کی جرآت نہ تو ہے اور نہ ہی ہو گی
1984 کا آرڈیننس 20
ضیاءالحق کے دور میں یہ آرڈیننس جاری کیا گیا جس کی رو سے قادیانیوں کا اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرنا جرم قرار دیا گیا ہے۔ ان کے لیے اپنے آپ کو مسلمان کہنا، اسلامی طریق پر سلام کرنا، متعدد اسلامی اصطلاحات کا استعمال ممنوع قرار پائے ہیں۔
اس قانون کے ذریعہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 298 میں دو حصوں کا اضافہ کیا گیا ہے
298 بی
جس کی رو سے قادیانی یا لاہوری گروپ سے تعلق رکھنے والے احمدیوں کو خلفاء صحابہ اکرام کے علاوہ کسی کو امیرالمومنین،خلیفہء المسلمین، صحابی یا رضی اللہ عنہ‘ کہنے،اُمّ المومنین ؓ کے سوا کسی کو یہ القاب دینے ،اہل بیت کے سوا کسی اور کو اہل بیت کہنے اور اپنی عبادت گاہوں کو مسجد کہنے ، اور انہیں اپنی عبادت گاہ میں عبادت کیلئے بلاوے کو اذان قرار دینے کو جرم قرار دیدیا گیا جسکی سزاء تین سال قید اور جرمانہ مقرر کر دی گئی۔ دفعہ 298 سی
کی رو سے احمدیوں کو اپنے آپ کو مسلمان ، اپنے عقیدے کو اسلام کہنے اور اپنے عقیدے میں آنے کی دعوت دینے کی سزاء تین سال قید اور جرمانہ مقرر کی گئی
اب جو حضرات اقلیت سے بھی آگے کا القابات دے رہے ہیں یا تو وہ آئین میں مزید ترمیم کا مطالبہ کریں یا پھر وہ بھی خود کو آئین پاکستان کا مخالف و باغی سمجھیں.
امید ہے سب قاریوں کو اندازہ ہو گیا ہوگا کہ
کتا کان کہیں نہیں لے گیا , کان اپنی جگہ ہی موجود ہے جیسے تھا
اللہ ہم سب کو ہدایت دے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Translate »