fbpx

خشکی پر موجود تاریخی بحری جہاز (سندھ شہزادی)انڈس کوئین کا ڈھانچہ،دیکھنے والوں کو ماضی کی یاد دلانے لگا

تحریر: میاں فیصل

رحیم یارخان :خشکی پر موجود تاریخی بحری جہاز (سندھ شہزادی)انڈس کوئین کا ڈھانچہ،دیکھنے والوں کو ماضی کی یاد دلانے لگا

لگ بھگ ڈیڑھ سو سال پہلے دریائے سندھ کے بڑے معاون دریا ستلُج میں ایک بڑی کشتی دریا پر راج کرتی تھی۔ یہ کشتی ریاست بہاولپور کے نواب صادق پنجم کی ملکیت تھی اور اس کا نام ’ستلج کوئین‘ رکھا گیا تھا۔ یہ کشتی سنہ 1867 میں بنائی گئی تھی۔

indus queen rajan pur
indus queen rajan pur

کشتی ستلج کوئین نواب بہاولپور کے ذاتی استعمال میں رہتی اور اس وقت جب انگریز افسران اپنی بیگمات کے ساتھ اس علاقے میں آتے یا نواب بہاولپور کے دیگر مہمان آتے تو یہ انھیں دریا عبور کرنے میں مدد فراہم کرتی تھی۔
اس کشتی کے تین حصے تھے۔ نیچے والے حصے میں انجن، جنریٹر اور ملازمین کے کمرے تھے۔ درمیانی حصہ مسافروں کے بیٹھنے کے لیے تھا، ایک حصہ عورتوں اور ایک مردوں کے لیے مختص تھا۔ ایک ریستوران بھی تھا جس سے بیک وقت 400 مسافروں کو کھانا پیش کیا جاتا تھا۔

مجاہد جتوئی
Mujahid Jatoi

اس بڑی کشتی پر سفر کرنے والے خانپور کٹورہ کے رہائشی مجاہد جتوئی کا کہنا ہے کہ یہ جہاز اپنے وقت کا لگژی جہاز تھا ،اعلی معیار کی لکڑی اس میں لگی ہوئی تھی

انڈس کوئین کوٹ مٹھن
انڈس کوئین کوٹ مٹھن

1960میں قیامِ پاکستان کے بعد پاکستان اور انڈیا کے درمیان سندھ طاس معاہدے پر دستخط کیے گئے جس کے تحت تین دریا ستلج، بیاس اور راوی انڈیا کے حوالے کر دیے گئے۔ اس کے بعد دریائے ستلج ویران ہو گیا اور کشتی دریائے سندھ میں منتقل کر دی گئی جہاں اس کا نام انڈس کوئین رکھ دیا گیا تھا۔دریائے سندھ میں پانی کی مقدار کم ہونے کی وجہ سے اس کو دریا سندھ کے کنارے کھڑا کر دیا گیا

انڈس کوئین کے اندرونی مناظر
انڈس کوئین کے اندرونی مناظر

اور سنہ 1996 میں اچانک اس میں آگ لگ گئی اور ہائی وے ڈیپارٹمنٹ حکومت پنجاب کی عدم توجہی کا شکار ہو کر چلنے کے قابل نہ رہی اور تب سے لے کر اب تک دریائے سندھ کے کناروں سے بھی دور میدانوں میں پڑی ہے۔

یہ کشتی نواب بہاولپور نے خواجہ غلام فرید کی درگاہ کو تحفے میں دے دی تھی جہاں یہ چاچڑاں اور کوٹ مٹھن کے درمیان پوری شان و شوکت سے دریائے سندھ میں چلتی تھی۔ یہاں زیادہ تر خواجہ غلام فرید کے عقیدت مند اور دیگر مسافر اس پر سفر کرتے رہے۔ خواجہ غلام فرید کے عرس کے موقع پر زائرین کی بڑی تعداد کوٹ مٹھن جانے کے لیے اسی پر سفر کرتے تھے۔

اس کشتی کے تین حصے تھے۔ نیچے والے حصے میں انجن، جنریٹر اور ملازمین کے کمرے تھے۔ درمیانی حصہ مسافروں کے بیٹھنے کے لیے تھا، ایک حصہ عورتوں اور ایک مردوں کے لیے مختص تھا۔ اس میں ایک چھوٹی سی مسجد بھی تھی اس کے علاوہ ایک ریستوران بھی تھا جس سے بیک وقت 400 مسافروں کو کھانا پیش کیا جاتا تھا۔

indus queen driver allah ditta
indus queen driver allah ditta

بحری جہاز کے ڈرائیور اللہ دتہ نے رحیم یارخان ڈاٹ نیٹ کی ٹیم کو بتایا کہ انڈس کوئین پر 30سال تک مقامی اللہ دتہ بطور ڈرائیور کا کام کرتے رہے۔ انھوں نے بتایا کہ 41روپے تنخواہ پر میں یہ بحری جہاز چلاتا تھا یہ کوٹ مٹھن سے چاچڑاں شریف مسافروں کو لے کر جاتا تھا اچانک اس میں آگ لگی اور سب کچھ ختم ہو گیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Translate »