fbpx

تعارف

تعارف
شہر رحیم یار خان خوبصورت اور جدید ترین سہولتوں سے مزین نئی آبادیوں کے درمیان گھرا ہوا ہے۔ پرانا شہر اپنی قدامت کا منہ بولتا ثبوت ہے، اب کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا کہ دریائے سندھ کے پانیوں نے اس کی فصیلو ں کو چھوا ہوگا۔ صدیوں پر محیط سفر کے دوران دریائے سندھ اس شہر سے دور ہٹتا چلاگیا ۔ دریائے سندھ ساڑھے پانچ ہزار سال تک مسلسل رحیم یار خان ، پتن منارہ اوراس کے اردگرد رواں دواں رہا ہے مسلم دور حکومت میں جغرافیائی عوامل اچانک اور یکسر تبدیل ہوگئے دریائے سندھ پتن منارہ اور رحیم یار خان سے اپنی گولائی ختم کرکے پندرہ بیس میل دور ہٹ گیا حتیٰ کہ سینکڑوں برس تک کوئی سلابی ریلا بھی نہ گذرا جس سے زمینی پانی کھار ا ہوگیا۔(یاد رہے کہ دریا کا غربی جانب کٹاﺅ یا رخ پھرنا ایک علیحدہ مکتبہ فکر ہے جبکہ تاریخ کے کچھ اور ماہرین یہ کہتے ہیں کہ یہ دریائے ہاکڑہ ہی تھا جو بعد ازاں بہنا بند ہوگیا اور دریائے سند ھ اپنے مقام پر رواں دواں ہے ) اس شہر کی تاریخ کا ذکر بہاولپور کے داﺅد پوترے حکمرانوں کی آمد کے ساتھ ملتا ہے 1751 ءمیں ایک قدیم ویرانہ (ٹھیڑ) پھل وڈا پر ایک نئے شہر کی بنیاد رکھی گئی اور اسے نوشہرہ کا نام دیا گیا۔ سٹیٹ گزٹئیر 1904 ءمیں اس کی تاریخ کی بابت یہ الفاظ درج ہیں:”سومرودور حکومت میں یہاں پھل اور اسکا بیٹا لاکھا حکمران رہے۔”ء1881میں اس شہر کا نام رحیم یار خان رکھا گیا۔ 1881ءمیں ریلوے حکام نے نواب آف بہاولپور سے درخواست کی کہ نوشہرہ نام کا شہر صوبہ سرحد میں بھی موجود ہے جو ریلوے حکام کے لیے مغالطہ کا سبب بنتا ہے۔ اس لیے اس کا نام تبدیل کیا جائے۔ نواب صادق محمد خان رابع نے اپنے بیٹے کے نام پر اس شہر کا نام تبدیل کرکے رحیم یار خان رکھ دیا۔ شہزادہ رحیم یار خان چار سال کی عمر میں آگ میں جھلس جانے سے فوت ہو گیا تھا۔رحیم یار خان شہر کو اہمیت 1928 ءمیں ملنا شروع ہوئی جب ستلج ویلی پراجیکٹ کے تحت پنجند ہیڈ ورکس تعمیر ہوا ۔ دوامی اور غیر دوامی انہار کا اجراءہوا۔1934ءمیں رحیم یار خان کو ضلعی ہیڈ کوارٹر بنایا گیا جبکہ اس سے قبل خانپور ضلعی ہیڈکوارٹر ہوتا تھا۔ رحیم یار خان بہاول پور ریاست کا حصہ تھا۔ قیام پاکستان کے وقت ریاست کا پاکستان سے الحاق ہوگیا اور 1956ءمیں ون یونٹ کے قیام کے وقت ریاست بہاولپور کو پاکستان میں ضم کردیا گیا اور یوں ضلع رحیم یار خان پنجاب کا ایک ضلع بن گیا۔ضلع رحیم یار خان کی کل آبادی 1998 ءکی مردم شماری کے مطابق 31,41,053 افراد پر مشتمل ہے جبکہ 2008ءتک آبادی میں اضافہ 31فیصد کی شرح سے(3.1فیصد سالانہ) ضلع کی کل آبادی 41,14,779 (اکتالیس لاکھ چودہ ہزار سات سو اناسی )ہے ۔ ضلع رحیم یار خان شمالی عرض بلد میں 40-27 ڈگری سے 16-29 ڈگری اور مشرقی طول بلد میں 45-60ڈگری سے 01-70ڈگری پر واقع ہے۔ رحیم یار خان سطح سمندر سے 88 میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔ ضلع کا کل رقبہ 11,880مربع کلومیٹر ہے ضلع کی شمال سے جنوب کی طرف لمبائی180 کلو میٹر اور چوڑائی مشرق سے مغرب کی طرف 165 کلو میٹر ہے اس میں چولستان کا غیر پیمودا رقبہ شامل نہیں ہے۔ضلع کے شمال میں مظفر گڑھ، مشرق میں بہاولپور، جنوب میں انڈیا کی ریاست جیسلمیر اور ضلع گھوٹکی (سندھ) اور مغرب میں ضلع راجن پور واقع ہے۔ رحیم یار خان ایک گرم ترین علاقہ ہے یہاں کا درجہ حرارت 52سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے اور سردیوں میں 3/4سنٹی گریڈ تک ہو جاتاہے۔ رحیم یار خان چار تحصیلوں پر مشتمل ضلع ہے۔ ان میں رحیم یار خان، صادق آباد، خان پور اور لیاقت پور کی تحصیلیں شامل ہےں۔ چاروں تحصیلوں کے ہیڈکوارٹرز ریلوے لائن اور قومی شاہراہوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ تمام جدید مواصلاتی سہولیات دستیاب ہیں اور ہر تحصیل ایک تاریخ رکھتی ہے۔رحیم یارخان کی آبادی میں شرح اضافہ 3.1%ہے ،اور رحیم یارخان میں چار تحصیلیں 139یونین کونسلوں پر مشتمل   ہیں رحیم یارخان میں شرح خواندگی% 33.09ہے جس میں مردوں کی شرح خواندگی% 43.04ہے جبکہ خواتین کی شرح خواندگی 21.82%ہے
ہیڈ پنجند پر پنجاب کے پانچ دریا ملتے ہیں ہیڈ پنجند سے ایک ہی دریا ،دریائے پنجند یا   دریائے چناب 20کلو میٹر کا فاصلہ طے کرنےکے بعد ضلع رحیم یارخان کی حدو د میں داخل ہوتا ہے یہ دریاشمالاًجنوباًبہتاہوا رحیم یارخان کے تاریخی قصبہ چاچڑاں سے شمال مغرب کی طرف تقریباً15/10کلو میٹر پر دریائے سند ھ کے ساتھ مل جاتاہے ۔پھر یہی دریادریائے سند ھ بن کر رحیم یارخان کے مغرب میں تحصیل صادق آباد کے ایک قصبہ ماچھکا کی حدود تک بہتا ہے اور پھر صوبہ سند ھ کی حدو د میں داخل ہو تا ہے ۔
  ضلع رحیم یارخان ہر انداز میں ایک زرخیز علاقہ ہے یہاں پاکستان کی نمایاں شخصیات نے جنم لیا ہے ان میں خواجہ غلام فریدرحمتہ اللہ علیہ  ہیں جن کی شاعری سرائیکی زبان میں ایک مقتد رحیثیت رکھتی ہے ۔ضلع رحیم یارخان کی ایک بہت بڑی آبادی انہیں ملک الشعر ءمانتی ہے ۔انکے علاوہ پاکستان کی متعد د سیاسی شخصیات کا تعلق بھی اسی علاقے سے ہے ۔

 ضلع میں ریلوے کا نظام 1881ءمیں قائم کیا گیا ۔90ءکی دہائی میں فضائی سفر شیخ زیدبن سلطان کی وجہ سے حاصل ہوا۔صحت کی بہتر ین سہو لتوں کے ساتھ ایک ہسپتال اور میڈیکل کالج بھی ہزہائی نس شیخ زائد بن سلطان النہیان کی ذاتی دلچسپی کے باعث قائم کیا گیا ہے ۔پولیس کا محکمہ کرنل منچن نے 1867ءمیں متعارف کرایا ۔اس وقت پوری ریاست میں تین کوتوال ہوتے تھے جن میں سے ایک خانپور میں ہوتا تھا ۔1866ءتک خانپور میں جیل تھی جو سیلاب کی نذر ہوگئی 1949ءمیں پھر رحیم یارخان میں جیل بنائی گئی ۔

ضلع رحیم یارخان تہذیبی اور معاشرتی اعتبار سے منفرد اور غیرمعمولی حیثیت کا حامل ہے اس کے صحرا ﺅں میں جہاں ہزاروں سالوں کے تہذیبی راز دفن ہیں وہاں یہ زندگی کے جدید ترین اور غالب رجحانات کا مرکز بھی ہے ۔گویا ضلع رحیم یارخان میں انسان کے قدیم دور سے جدید دور تک معاشرتی ،تہذیبی اور ثقافتی سفر کے ارتقائی عمل کا مشاہدہ بھی کیا جاسکتا ہے ۔یہاں ایک طرف توعظیم صحرائے چولستان کے ٹیلوں میں زندگی کا فطری اور قدرتی انداز اور رنگ موجود ہے جبکہ دوسری جانب زندگی جدید ترین شعور اور انداز کے تحت جلوہ گرہے موہنجوداڑو اور ہڑ پہ سے بھی قدیم تہذیب کے مد فن دریائے ہاکڑہ کے ساتھ ساتھ قدیم آبادی کی تہذیبی میراث ہیں ۔سندھ کے قرب کی وجہ سے لسانی وثقافتی اشتراک ہے ۔پاکستان کے مختلف صوبوں اور شہروں سے آبادکاروں کی آمد سے قبائلی ،پوٹھوہاری ،پنجابی اور قیام پاکستان کے بعد مہاجرین کی آمد بشمول پنجابی اور اہل زبان (اردو)کے معاشرتی وثقافتی اور تہذیبی عوامل کے تال میل نے ضلع رحیم یارخان کو منی پاکستان کا درجہ دیدیا ہے ۔ان تمام معاشرتی گروہوں نے اپنی انفرادیت بھی برقرار رکھی ،تغیرپذیری اور باہمی ا ثر پذیری سے انکی خوبصورتی میں اضافہ بھی ہوا ۔ضلع رحیم یارخان میں3 62.6 فیصد لوگ سرائیکی زبان بولنے والے ہیں نئے آبادکاروں میں ارائیں ،جٹ ،راجپوت اور گجروں کی کثرت ہے جو پنجاب کے مشرقی اور مغربی اضلاع سے یہاں آکر آباد ہوئے ہیں ۔قدیم مقامی آبادکاروں میں جوئیہ ،وٹو ،داﺅ دپوترا ،بلوچ سید اور پٹھان شامل ہیں ۔چولستان میں بوہڑ ،لاڑ بھیل ،ڈاہر اور ککر آباد ہیں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Translate »
Close
Close