fbpx

رحیم یارخان میں مزمل کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا,مقدمہ درج

رحیم یار خان تھانہ اے ڈویژن کی حدود میںجامعہ قادریہ مسجد کے سامنے مزمل نامی شخص پر قادرخان اور ان کے ساتھ 15سے 20لڑکوں نے شدید تشدد کا نشانہ بنایا قادر خان نے کلپوں کے ساتھ وار کیا مزمل نامی شخص پر اور قاری شفیق ارحمن کے گھر کا تقدس پامال کرتے ھوئے مزل نامی شخص جب بھاگ کر مسجد میں داخل ھو کر بھی اس کو مارتےرھے


دفعہ 144کی دھجیاں پٹھان گروپ اور بازار والوں نے ھوا میں اڑا دی پنجاب حکومت نے لاک ڈاؤن تو کیا پر انتظامیہ اور ڈپٹی کمشنر رحیم یار خان اور ڈی پی او رحیم یار خان اور تھانہ اے ڈویژن کی انتظامیہ خاموش اور ان پر سوالیہ نشان جب تک انتظامیہ دفعہ 144کے تحت بازار بند نہیں کروائے گی اسی طرح لڑائی اور کرونا وائرس کا خطرہ بڑھتا رہے گا
شہریوں کی وزیراعلیٰ عثمان بزدار آر پی او بہاولپور اور وزیراعظم پاکستان سے اپیل ھے کے اگر لاک ڈاؤن پر آپ عملدرآمد نہیں کروا سکتے تو غریب آدمی کو اور چھوٹے بڑے تاجروں کو دوکانیں کھولنے کی اجازت دی جائے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Translate »
Close
Close