fbpx

اخلاق سے گری ہوئی ویڈیو، جج نے کہا میں خودکشی کے بارے میں مجبور ہوگیا ہوں

پاکستان مسلم لیگ (ن) العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کو سزا سنانے والے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی مبینہ آڈیو، ویڈیو سامنے لے آئی، مبینہ آڈیو،ویڈیو میں احتساب عدالت کے جج ارشد ملک ایک شخص (ناصر بٹ) سے نواز شریف کو سنائی جانے والی سزا سے متعلق گفتگو کر تے ہوئے نظر آرہے ہیں، مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد شہباز شریف نے کہاہے کہ نواز شریف کو ٹرائل کورٹ سے سنائی گئی سزا اور نا انصافی کے خلاف نا قابل شواہد اور ناقابل تردید ثبوت سامنے آ گئے ہیں، مجھے امید واثق ہے کہ عدالت عظمیٰاور مقتدرادارے ایسے شخص جو ملک کا تین مرتبہ وزیر اعظم رہا اور ملک کی خدمت کی اسے ضرور انصاف دلائیں گے جبکہ مریم نواز نے الزام عائد کیا ہے کہ فیصلہ سنانے والے جج کو ان کی ایک ویڈیو دکھا کر بلیک میل کیا گیا،اس آڈیو، ویڈیو کے بعد نواز شریف کے خلاف مضحکہ خیز ریفرنسز اور سزا کے حقائق قوم کے سامنے آ گئے ہیں،اگر کوئی شرارت کی گئی تو میرے پاس اس سے زیادہ ثبوت موجود ہیں، مجھے معلوم ہے کہ میرے لئے خطرہ بڑھ گیا ہے۔ ہفتہ کو مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد شہباز شریف نے مریم نواز، شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال، پرویز رشید، رانا تنویر حسین اور دیگر کے ہمراہ ماڈل ٹاؤن سیکرٹریٹ میں ہنگامی پریس کانفرنس کی۔ پریس کانفرنس کا آغاز شہباز شریف نے کیا تاہم مبینہ آڈیو، ویڈیو کے حوالے سے تفصیلات مریم نواز نے میڈیا کے سامنے پیش کیں۔مریم نواز نے مبینہ آڈیو، ویڈیو کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ پانامہ سے شروع ہو کر اقامہ سے گزرتا ہوا سفر آج بھی جاری ہے۔ تین بار کا منتخب وزیر اعظم 70 سال کی عمر میں پابند سلاسل ہے اور اسے شرمناک الزامات کرپشن، منی لانڈرنگ جو میڈیا پر لگائے جاتے رہے پر سزا دی گئی، عدالت میں الزامات لگے او رنہ ثبوت سامنے آئے اور پھر سزا ہو گئی۔ ہماری تین نسلوں کو کھنگالا گیا لیکن کوئی ثبوت نہ ملا لیکن کمال ڈھٹائی اور ہٹ دھرمی سے مفروضوں سے انتقام پر مبنی فیصلے سنادئیے گئے۔ ہم نے چالیس سے پچاس سال کے ثبوت بھی مہیا کئے۔ نواز شریف یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ احتساب نہیں انتقام ہے سازش ہے ہر موقع پر عدالت میں پیش ہوئے، وزیر اعظم کی بیٹی کو بے گناہ عدالتوں میں گھسیٹا گیا اور اسے جیل میں ڈال دیا گیا۔ ہم نے جو ثبوت دئیے انہیں مانا ہی نہیں گیا کیونکہ اس کی وجہ سے یہ تھی کہ شروع میں ہی فیصلے کئے جا چکے تھے اور ہمارے ثبوتوں کو تسلیم ہی نہیں کیا گیا،ہمارے گواہیوں کو نہیں مانا گیا لیکن اللہ تعالیٰ کی تقدیر ہر تدبیر پر بھاری ہوتی ہے۔ نواز شریف اور شریف خاندان نے بار بار عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا، عدل کی زنجیر ہلائی لیکن ہر بار نئی سزا کی صورت میں سامنے آیا۔ نواز شریف نے معاملہ اللہ پر چھوڑ دیا اور اللہ کی مدد کے انتظار میں بیٹھ گئے۔ غیبی مدد آئی اور پاکستان کی 70سالہ تاریخ میں پہلی بار اس طرح کی مدد آئی ہے کہ اتارنے والے بھی حیران او رپریشان ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں یہ ویڈیو شیئر کرنے جارہی ہوں کہ اس سے ثابت ہو گیا کہ نواز شریف سے نا انصافی ہوئی اس میں فیصلہ کیا نہیں کیا گیا بلکہ کرایا گیا ہے فیصلہ سنا یا نہیں بلکہ سنوایا گیا اور یہ نا قابل تردید ثبوت ہیں اور انشا اللہ نواز شریف سر خرو ٹھہر ے گا اور پھر کسی کو رتی بھر بھی شک نہیں رہنا۔ ثابت ہو گیا کہ تین مرتبہ کے وزیر اعظم کوانتقام اور ظلم کا نشانہ بنایا اور بد نیتی، سازش،انتقام اور ٹھوس منصوبہ بندی کے نتیجے میں یہ فیصلے عمل میں آئے۔ انہوں نے بتایا کہ مسلم لیگ (ن) کے محبت کرنے والے ایک رکن نے یہ ویڈیا ئی ہے جس میں احتساب عدالت کے جج ارشد ملک ناصر بٹ سے گفتگو کر رہے ہیں۔ ارشد ملک نے العزیز ریفرنس میں نواز شریف کو سزا سنائی تھی۔ احتساب عدالت کے جج ارشد ملک اور ناصر بٹ کی آڈیو اور ویڈیو سکرین پر بھی دکھائی گئی جبکہ اس کی ٹرانسکرپشن بھی دکھائی جاتی رہی۔ مریم نواز نے بتایا کہ احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے ناصر بٹ جو ان کے انتہائی قریبی جاننے والے ہیں نے فیصلے کے بعد یہ کہنا شروع کر دیا تھاکہ فیصلے کے بعد میں پریشان ہوں اور مجھے میرا ضمیر ملامت کرتا ہے میں نے ظلم کیا ہے اور مجھے ڈراؤنے خواب آتے ہیں اور رات کو نیند نہیں آتی۔ میں نے ایک بے گناہ سے زیادتی کی ہے۔انہوں نے ناصر بٹ کو کہیں ملنے کیلئے کہا اور پھر جب وہ راستے میں تھے تو انہیں کال کر کے کہا کہ میرے گھر آجائیں او رانہیں سکواڈ کرنے کیلئے گاڑی بھجوائی۔انہوں نے کہا کہ میں آپ کو سارے نکات دینا چاہتا ہوں جس سے نواز شریف کے بے گناہی ثابت ہوتی ہے وہ کسی طرح پہنچا دیں تاکہ وہ عدالت تک پہنچ جائیں۔ ناصر بٹ نے کہا کہ میں قانونی معاملات نہیں جانتا اس لئے میں اپنا سٹینوبلا لیتا ہوں جو موٹر سائیکل پر وہاں آیا۔ مریم نواز نے آڈیو اور ویڈیو میں احتساب عدالت کے جج اور ناصر بٹ کے درمیان ہونے والی تمام گفتگو کے نکات سے میڈیا کو آگاہ کیا۔ مریم نواز کے مطابق احتساب عدالت کے جج نے کہا کہ نواز شریف کے خلاف کوئی الزام او رنہ ہی کوئی ثبوت ہے۔ احتساب عدالت کے جج نے کہا کہ ان کی فیملی کے اثاثوں اور کاروبار کا موازنہ نہیں کیا گیا بلکہ ایف بی آر کے ایف فارم کے ذریعے سارا حساب کر دیا گیا۔ کیس میں نواز شریف کے خاندانی کاروبار اور وسائل کو جانچا ہی نہیں گیا بلکہ کاروبار اور ذرائع آمدن کا پہلے ہی شمار کر لیا گیا۔ سعودی عرب کے کاروبار کے حوالے سے بھی انوسٹی گیشن آفیسر سعودی عرب گئے ہی نہیں، اس کیس میں کرپشن، کک بیکس، منی لانڈرنگ نہیں تھی او ریہ الزام تھا۔ انہوں نے کہا کہ گفتگو میں سنا جا چکا ہے کہ جج صاحب کہہ رہے ہیں کہ حسین پاکستان کا رہائشی نہیں ہے اور اس نے یہاں کوئی کاروبار کیا ہی نہیں اور وہ یہاں سے کوئی پیسہ نہیں لے کر گیا پھر منی لانڈرنگ کی حقیقت کیا ہے، پاکستان سے ایک روپیہ باہر منتقل نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقات میں سعودی عرب سے کوئی ثبوت نہیں لئے گئے اور پانامہ میں بھی جو فیصلہ آیا ہے وہ غلط ہے اور نواز شریف کووزیراعظم کے عہدے سے نا اہل کر دیا گیا۔حالانکہ اس میں پراسیکیوشن کچھ ثابت نہیں کر سکی۔ لندن پراپرٹریز کے حوالے سے بھی کیس میں دوہرا معیار اپنایا گیا اور نواز شریف کے خلاف فیصلہ قانون سے متصادم تھا۔ جج صاحب کہہ رہے ہیں کہ یہ جائیداد نواز شریف کے پیسوں سے خریدی ہی نہیں گئی گئی اور اس کے شواہد ہی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جج صاحب نے کہا کہ ایک کیس میں جو نواز شریف کو سز اسنائی گئی ہے اور دوسرے کیس میں چھوڑ دیا گیا ہے۔مریم نواز نے کہا کہ جج صاحب کہتے ہیں کہ فیصلہ کیا ہوتا ہے وہ آواز نکلتی ہے جو وہ چاہتے ہیں۔ مریم نواز نے کہا کہ ناصر بٹ جج صاحب سے پوچھتے ہیں وہ آپ کو پیغام بھجواتے ہوں گے جس پر جج صاحب نے کہا کہ انہوں نے کسی جگہ آنے کا پیغام بھجوایا اور مجھے چائے پیش کی اور کہا کہ ہم آتے ہیں،اس دوران دو، چار منٹ کی ویڈیو چل کر بند ہو گئی۔ واپس آ کر کہتے ہیں آپ ٹھیک ہیں کوئی مسئلہ تو نہیں ہے خیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ جج صاحب کی ذاتی ویڈیو تھی، میں کسی کی ذاتی زندگی پر کوئی کیچڑ نہیں اچھالنا چاہتی کیونکہ یہ اخلاق سے گری ہوئی ویڈیو تھی، یہ اللہ تعالیٰ اور جج صاحب کا معاملہ ہے انہوں نے الزام عائد کیاکہ لیکن انہیں ان کی ویڈیو دکھا کر بلیک میل کیا گیا۔ جج صاحب حیران تھے کہ یہ ویڈیو کہاں سے لے آئے۔ ناصر صاحب نے کہا کہ یہ بات باہر کیسے نکل گئی جس پر انہوں نے کہا کہ یہ پانچ سے دس سال پرانی ویڈیو ہے اور اس میں بالکل وہی میٹریل ہے۔ مریم نواز نے کہا کہ جج صاحب کہتے ہیں کہ میرے پاس ایک ہی مسئلہ رہ جاتا تھا کہ میں خود کشی کر لوں۔ مجھے کہا گیا کہ آپ ”ایماندیاری سے فیصلہ کریں اور کسی کو فیور نہ دیں، ایمانداری سے“۔ مریم نواز نے کہا کہ جج صاحب کہتے ہیں کہ وہ خود کشی کے بارے میں مجبور ہو گئے۔ انہوں نے میڈیا نمائندوں کو کہا کہ یہ اوریجنل آڈیو،ویڈیو ہے اس میں ٹرانسپکرپشن دیدی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانامہ کا فیصلہ بشیر صاحب نے لکھا تھا جس میں نواز شریف اور مریم نواز کے خلاف کک بیک، کرپشن او رکمیشن کا کوئی الزام نہیں تھا لیکن ہم جیل میں چلے گئے۔انہوں نے کہا کہ پوری قوم جانتی ہے کہ کس طرح جے آئی ٹی بنی، ذوالفقار علی بھٹو کا قتل جوڈیشل مرڈر قرار دیا گیا تھا اور اس بنچ میں شامل فاضل جج نے گواہی تھی کہ ان پر دباؤ تھا لیکن آج جج نے اس وقت گواہی دیدی ہے جب ابھی فیصلے کی سیاہی بھی خشک نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ میں نے عوام سے وعدہ کیا تھاکہ نواز شریف کو مرسی نہیں بننے دوں گی نہ صرف ایک وزیر اعظم بلکہ تمام وزرائے اعظم کو ان ہتھکنڈوں کی بھینٹ نہیں چڑھنے دو ں گی۔ انہوں نے کہا کہ مجھے پتہ ہے کہامجھے بہت خطرہ ہے،میں صرف نواز شریف نہیں بلکہ پاکستان کی 70سالہ تاریخ میں جتنے وزرائے اعظم آئے ہیں جوسازش کی بھینٹ چڑھے سب کا مقدمہ لڑ رہی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے کرپشن کی ہے ان کا معاملہ عدالت پر چھوڑ دیں لیکن ججز کو ان کی ویڈیوز  دکھا کر کرائے گئے فیصلوں کو قانون کا نام نہیں دیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ وہ جج جو خود کشی کرنے پر مجبور ہو جائے،22کروڑ عوام کو معلوم ہو گیا ہے کہ دیواروں کے پیچھے کیا ہوتا ہے۔ میں نواز شریف کے بیانیے کے بارے میں سوچتی تھی یہ تاریخ میں کب درست ثابت ہوگا لیکن مجھے اندازہ نہیں تھاکہ اللہ تعالیٰ اتنی جلدی سرخرو کر دے گا۔ 70 سال کے بعد ثبوت ملا ہے ملک میں منتخب نمائندوں کو کس کس طرح تار تار کیا جاتا ہے۔ نواز شریف کا قصور یہ ہے کہ انہوں نے عوام کا نمائندہ بننے کو ترجیح دی، کسی جج کی بد اعمالیوں کی سزا دوسرا کوئی کیوں بھگتے۔ انہوں نے کہا کہ کہ اس وجہ سے کسی کو جیل میں ڈال دیا جائے کہ منصف کی کمزوریاں کسی اور کے ہاتھ میں تھیں۔ اکیلے نواز شریف کا نہیں بلکہ پاکستان او راس کے 22کروڑ عوام کا نقصان ہوا ہے ا سکا ازالہ کون کرے گا۔ پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ عوام کی رائے قو ت کے ساتھ واپس آتی ہے۔  انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو مودی کا یار اور غدار کہا گیا،مذہب کے فتوے لگائے گئے لیکن آج وہ کہاں ہیں جنہوں نے فتوے لگائے،آپ کی حکومت آئی تو انہیں بند کر دیا گیا۔ سچے مسلمان پر الزامات لگاتے ہوئے شرم،حیاء نہیں آتی۔ ہمارے دور میں واجپائی او رمودی چل کر پاکستان آیا اور تمہارا فون سننا گوارہ نہیں کرتا۔ عمران خان تمہاری اوقات سب جانتے ہیں۔نواز شریف کو کوٹ لکھپت سے باہر نکالیں اور دیکھیں کس طرح خلق خدا کی کا سیلاب آئے گا۔ پاکستان مسلم لیگ کے خلاف زہریلا پراپیگنڈا کیا گیا، نواز شر یوکو ایک منٹ کے لئے جیل سے نکالوں تمہیں لگ پتہ جائے گا،نواز شریف حق اور سچ کی طاقت او رحوصلہ کے ساتھ کھڑآ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کہ آج تم پانچویں سے چھٹے شخص کو نواشریف سے ملنے نہیں دیتے کیوں کہ تمہاری ٹانگیں کانپتی ہیں، اب پتہ چلا ہے کہ سلیکٹڈ وزیر اعظم کا راستہ روکنا کیوں ضروری ہے۔ عمران خان زعم میں کہتا ہے کہ ادارے اس کے پیچھے کھڑے ہیں لیکن حکومت کہیں کھڑی نظر نہیں آتی، بہتر ہوتا کہ ادارے اپنی اپنی جگہ کھڑے ہوتے،سازشی اورنالائق عناصر نے ملک کا یہ حال کر دیا ہے۔ آپ کے لئے بساط بچھائی گئی،آپ کے لئے کھیل رچایا گیا، 2013ء میں پی ٹی آئی کس طرح بنائی گئی لیکن اس کے باوجود نواز شریف جیت گیا اس کے بعد ھرنوں کے محرکات سے بھی سب آگاہ ہیں۔ آ پ کہتے ہو مجھے سلیکٹڈ کیوں کہتے ہو آپ سلیکٹڈ ہو تو آپ کو کہا جاتا ہے،

تاریخ آپ کو مہرے سے سلیکٹڈ کے طور پر سازشی کے طور یاد رکھے گی،آپ کو ان القابات سے یاد رکھا جائے گا۔ ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچانے والوں کا جب بھی نام آ ئے گا اس میں عمران خان کانام بھی آئے گا۔ مشرف نے دس سال میں ملک کا یہ حال کیا تم نے دس ماہ میں یہ حال کر دیا، لوگوں سے عزت زور زبردستی نہیں ہوتی، آج کے بعد سلیکٹڈ وزیر اعظم اپنی نا لائقی اورنا اہلی کو کرپشن کے لبادے میں چھپانے کی کوشش نہ کرنا، عوام تمہار گریبان پکڑیں گے، اب تمہاری کرپشن والی بات نہیں چلے گی۔ تم کہتے ہو کہ نواز شریف امپائر کو ساتھ ملا کر کھیلتا ہے لیکن پوری دنیا نے دیکھ لیا کہ کون امپائر کے ساتھ مل کر کھیلتا رہا۔  اگر کسی نے شرارت کی تو میرے پاس  بڑے ثبوت موجود ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Translate »