صادق آباد ڈاکٹروں کی لاپر واہی کامران جابحق

تحریر : فرحان اقبال

اسلم ٹاؤن کا رہائشی نوجوان کامران  تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال صادق آباد میں ریسیکو 1122کی گاڑی میں لایاگیا جس کے بعد وہاں پر کچھ دیر بعد وہ وفات پاگیا‘ نوجوان کی وفات کسی صدمہ سے کم نہیں‘ اس موقع پر لواحقین اور دیگر افراد کی جانب سے یہ باتیں سامنے آئیں کہ مریض کو علاج نہیں کیا گیا اور اس میں تاخیر کی گئی‘ جبکہ ای سی جی آپریٹر بھی لڈو کی گیم کھیلنے کی تصاویر سامنے آئیں اور ویڈیو بھی جس کے بعد معاملہ کو میڈیا میں ہم نے اٹھایااور ایم ایس سے یہ بھی تقاضا کیا کہ ویڈیو جاری کی جائے تاکہ حقائق سامنے آئیں جس پر ایم ایس لیاقت چوہان نے مجھے دعو ت دی کہ خود آکر ہسپتال کا وزٹ کروں اور مووی دیکھوں اور بغیر کسی سائیڈ لئے حقائق سے عوام کو آگاہ کروں جس پر میں ہسپتال پہنچا ایم ایس لیاقت چوہان نے پہلے ہسپتال کے ان حصوں کا معائنہ کرایا جہاں جہاں کی تصاویر اور ویڈیو سامنے آئیں یا مریض کو لے جایا گیا اسکے بعد سی سی ٹی وی ویڈو دکھائی گئیں جس کے فوٹو کلپ تفصیل کے ساتھ آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں صادق آباد
اوپر والی تصویر میں ریسیکو اہلکار کامران کو ہسپتال کی ایمرجنسی میں منتقل کررہے ہیں اس تصویر میں وقت 3:58منٹ ہوئے ہیں اور تاریخ 31مارچ ہے 
اوپر والی تصویرمیں مریض کو ٹرٹیمنٹ والے روم لے جایا جارہا ہے اور لیڈی ڈاکٹر ریسیکو اہلکار بھی کمرے میں انٹر ہورہے ہیں 
اس پوسٹ کی تیسری تصویر میں ٹائم ہے چار بجکر کچھ سکینڈ ڈاکٹرز نے مریض کے ابتدائی معائنہ کے بعد اسے فوری ٹریٹمنٹ کیلئے ایمرجنسی روم میں شفٹ کرنے کا فیصلہ کیا اوراسے منتقل کیا جارہا ہے‘ لیڈی ڈاکٹر‘ ڈاکٹر اور ریسیکو کے جوان بھی ساتھ ہی مریض کے پیچھے پیچھے ایمرجنسی روم میں جارہے ہیں 
چار بجکر دو منٹ تک ایمرجنسی میں موجود نرس‘ وارڈ بوائے دونوں ڈاکٹرز‘ ریسیکو کے جوان مریض کے پاس موجود او ر علاج کا پراسس شروع ہوچکا تھا
چار بجکر چھ منٹ پر بھی مریض کی سیریس حالت کے پیش نظر سٹاف موجود ہے اوپر والی تصویر میں پیلی شرٹ میں ملبوس لڑکا مریض کے ساتھ آیا باقی تصویر میں نظر آنے والا تمام افراد کا تعلق ہسپتال کے عملہ سے ہے جو مریض کو مسلسل بچانے کی بھرپور کوششیں کررہے ہیں‘ ای سی جی مشین بھی ایمرجنسی روم میں لائی گئی ہے‘ ای سی جی مشین کا آپریٹر اس تصویر میں پیلی شرٹ والے ایٹنڈنٹ کے ساتھ کھڑا مریض کا بازو تھامے اسکو انجکشن لگوا رہا ہے 
ٹریٹمنٹ کا عمل بارہ سے پندرہ منٹ تک جاری رہا جس کے بعدڈاکٹرز اور سٹاف اپنے روٹین کے کام میں لگ گیا‘ جبکہ مریض نے بھی چند منٹ تک ایک سائیڈ پر ہی اپنی پوزیشن برقرار رکھی اس کے بعدا چانک سے کامران کے درد میں بے پناہ اضافہ ہوا اور اس نے بیڈ پر بڑی بے قراری سے کروٹیں‘ اور بیڈ کی ایک سایئڈ سے دوسری سائیڈ پر الٹ پلٹ ہوتا رہا جس سے اندازہ ہوا وہ کامران نے اپنی زندگی کے آخری لمحات انتہائی تکلیف اور درد سے گزارے‘ درد کی شدت میں اضافہ کے ساتھ ہی کامران کے ساتھ موجود افراد فوری طور پر ڈاکٹر ز کی جانب گئے مگر دو منٹ تک کوئی نہیں آیا‘ لڑکے پھر ڈاکٹر کو بلانے گئے پھر کوئی نہیں آیا‘ یہ ایک بار پھر گئے مگر پھر کوئی نہیں آیا اس دوران پندرہ سے بیس منٹ بیت گئے پھر ڈاکٹر آئے اور ای سی جی اور دیگر علاج کے لوازمات شروع کیے مگر میرے خیا ل سے تب تک بہت دیر ہوچکی تھی
کامران کی زندگی کی سانسیں تھم چکی تھیں‘ ای سی جی کی گئی شاید اس وقت آخری سانسیں چل رہی ہوں‘  
میرے حساب سے کامران کے مرض کی تشخیص میں شاید غلطی ہوئی‘ اگر صحیح تشخیص ہو بھی گئی تو ڈاکٹرز کو فوری طور پر جب لواحقین دوبار ہ بلانے گئے آنا چائیے تھا زندگی موت اللہ پاک کے ہاتھ میں ہے‘ جو ٹائم اور توجہ ڈاکٹر زنے مریض کے آتے وقت دی اگر وہی توجہ لواحقین کے دوبارہ بلانے پر دے دیتے توا نہیں بھی ملال نہ ہوتا 
ڈاکٹر ز کا کہنا ہے وہ اس وقت دیگر مریضوں کے علاج معالجہ میں مصروف تھے 
کامران کی موت ایک المیہ سے کم نہیں‘ ضرورت اس امر کی ہے کہ تحصیل ہسپتال میں کارڈیالوجی وارڈ کو فوری فنکشنل کیا جائے بلڈنگ موجود ہے سامان بھی تقریبا آچکا ہے اور عملہ تقرری باقی ہے جلد از جلد عملہ کی تقرری کی جانی چاہیے تاکہ کوئی اور کامران یوں تڑپ تڑپ کر اپنے ورثا کے سامنے جان نہ دے rahim yar kahn #

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Translate »