پاکستان میں عمر رسیدہ خواجہ سراؤں کے لیے ریٹائرمنٹ ہوم

پاکستان میں تیسری صنف سے تعلق رکھنے والے افراد، جو عموماً خود کو خواجہ سرا کہتے ہیں، کی اکثریت کو اپنے ہی خاندان والے دھتکار دیتے ہیں اور بڑھاپے میں کوئی بھی ان کا سہارا نہیں بنتا۔ بلآخر ایک خواجہ سرا نے عمر رسیدہ خواجہ سرا افراد کی رہائش کے لیے ایک ریٹائرمنٹ ہوم بنایا ہے، جہاں وہ زندگی کے آخری ایام باعزت طریقے سے گزار سکتے ہیں۔

عمر رسیدہ خواجہ سرا اپنے آخری ایام کیسے گزارتے ہیں؟ یہ جاننے کے لیے بی بی سی کے مبین اظہر نے اِس ریٹائرمنٹ ہوم کا دورہ کیا۔

لاہور کی بادشاہی مسجد کے عقب میں ہیرا منڈی کا علاقہ ہے۔ یہاں آپ ہیرے تو نہیں خرید سکتے مگر سیکس کے لیے رقم دے سکتے ہیں اور خواجہ سراؤں کو ناچتا دیکھ سکتے ہیں۔ ظاہر ہے اس سب کے پیسے لگتے ہیں۔

یہ علاقہ ہمیشہ سے ہی اُن لوگوں کا گھر رہا ہے جنھیں سماج ٹھکرا دیتا ہے۔ ان میں سیکس ورکر اور خواجہ سرا شامل ہیں۔ یہاں جوانی کی ایک قیمت ہے اور عمر رسیدہ خواجہ سرا سیکس کے لیے کم پیسے مانگے ہیں۔ عمر زیادہ ہو جانے پر اُن کے لیے گھر چلانا مشکل ہو جاتا ہے۔

تقریباً 25 سال پہلے عاشی بٹ، جو پیار سے گرو عاشی کے نام سے جانی جاتی ہیں، لاہور کی معفلوں میں خاصی مقبول تھیں۔

ان کے کئی عاشق تھے اور وہ شہر بھر میں ہونے والی شادیوں اور نجی معفلوں میں ناچتے اور گاتے ہوئے نظر آتی تھیں۔ انھوں نے لاہور کی فلم انڈسٹری لولی ووڈ کی ایک فلم میں بھی کام کیا۔

لیکن جب وہ بڑھاپے میں پہنچیں تو یہ سب بدل گیا۔ آج وہ اپنی بلی چندہ کے ساتھ ایک بستر میں سوتی ہیں اور اپنے ماضی کو یاد کرتی ہیں۔

انھوں نے بتایا ‘اُن دنوں ہر رات کو معفل سجا کرتی تھی اور مجھے صرف رقص کرنے کے لیے منہ مانگے پیسے ملا کرتے تھے لیکن اب سب بدل گیا ہے۔’

وہ کہتی ہیں ‘میں اب بھی اچھے پیسے کما سکتی ہوں مگر اس کے لیے مجھے اپنے جوان طلبہ کو ساتھ لے جانا پڑتا ہے۔ اب وہ ناچتے ہیں کیونکہ میں تھک جاتی ہوں۔’

عاشی اب عمر رسیدہ ہو گئی ہیں اور پاکستان بھی بدل گیا ہے۔ سنہ 1990 کی دہائی کے بعد اب پاکستان اسلام کے حوالے سے مزید قدامت پرست ہو گیا ہے یعنی اب کم معفلیں ہوتی ہیں جہاں عاشی جا سکیں۔

پاکستان میں ہم جنس پرست یا ٹرانس افراد کے طور پر جانے جانا نسبتاً ایک نئی چیز ہے مگر خواجہ سراؤں کا ہمیشہ سے ہی منفرد اور مخصوص مقام رہا ہے۔

پاکستان بننے سے قبل مغلیہ دور میں خواجہ سرا شاہی عدالت میں مشیر کے فرائض سرانجام دیتے تھے۔

آج بھی کئی لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ خواجہ سراؤں کی دعا سے گھر میں شادی یا اولاد ہو سکتی ہے۔ ان کی موجودگی خوش قسمتی کی نشانی سمجھی جاتی ہے۔ لیکن ان کے ساتھ امتیازی سلوک بھی عام ہے۔

اکثر خواجہ سرا اپنا روزگار بھیک مانگ کر، سیکس سے یا رقص کر کے کماتے ہیں۔

پاکستان کے تقریباً پانچ لاکھ خواجہ سراؤں میں سے زیادہ تر اقرار کرتے ہیں کہ انھیں ان کے خاندان والے کبھی تسلیم نہیں کریں گے۔ لیکن طویل مدت میں اس کے برے اثرات ہو سکتے ہیں کیونکہ پاکستان میں یہ امید کی جاتی ہے کہ بچے عمر رسیدہ والدین کی خدمت کریں گے۔ تیسری صنف سے تعلق رکھنے والے افراد بچوں اور وسائل کے بغیر شاید اکیلے رہ جائیں۔

خواجہ سراؤں نے اپنا ہی ‘گرو چیلے’ کا نظام بنا رکھا ہے۔ ‘گرو’ ایک عمر رسیدہ تیسری جنس کا شخص ہوتا ہے جو ایک نوجوان خواجہ سرا کو گود لے لیتا ہے۔ لیکن کئی بار یہ نظام فیل ہو جاتا ہے اور برادری کے عمر رسیدہ افراد کسی کے سہارے کے بغیر اکیلے رہ جاتے ہیں۔

ایسا ہی ایک لمحہ تھا جب عاشی بٹ کو اس مسئلے کا اندازہ ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ کچھ سال پہلے ایک شخص نے ان سے کہا ‘آپ کی برادری میں سے ایک شخص مر چکا ہے اور ان کی لاش ہفتے سے مردہ خانے میں پڑی ہے۔ لیکن انھیں دفنایا نہیں گیا کیونکہ کوئی ان کی لاش لینے نہیں آیا۔ ان کا کوئی خاندان نہیں ہے۔’

عاشی بٹ نے بتایا کہ ان کے لیے یہ بہت دردناک بات تھی اور وہ اسے برداشت نہیں کر سکیں۔ ‘میں نے اس کے جنازے کا انتظام کیا اور یوں میرے ذہن میں ریٹائرمنٹ ہوم کا خیال آیا۔’

عاشی کا ریٹائرمنٹ ہوم آٹھ سال سے بن رہا ہے۔ اس سال فروری میں اس کا افتتاح ہوا اور اس میں 40 سال سے زیادہ عمر کے تیسری صنف کے لوگوں کے لیے رہائش، ادویات، کھانا، تفریح اور ورزش کی مشین دستیاب ہے۔

عاشی امید کرتی ہیں کہ بعد میں ایک میڈیکل سینٹر اور اضافی رہائش بھی اس بڑے پراجیکٹ کا حصہ بنے۔

شروعات میں عاشی نے اپنے کریئر میں رقص کر کے حاصل کیے گئے پیسوں سے اس پراجیکٹ کی فنڈنگ کی۔ حال ہی میں ریٹائرمنٹ ہوم کو خیراتی ادارے کی حیثیت دے دی گئی ہے اور پوری دنیا سے عطیات موصول ہو رہے ہیں۔

عمر رسیدہ خواجہ سراؤں کے حقوق کے لیے اور استحصال کے خلاف آواز بلند کرنے کے لیے عاشی نیشنل ٹیلی وژن پر نظر آئیں۔

ریٹائرمنٹ ہوم وقتی سکون کی سہولت بھی مہیا کرتا ہے۔

مدھو اپنی عمر کی پانچویں دہائی میں ہیں۔ انھوں نے اپنی عمر کا زیادہ تر حصہ بطور سیکس ورکر گزارا ہے۔ کام سے چھٹی لے کر وہ ہفتے کی چند راتیں ریٹائرمنٹ ہوم میں گزارتی ہیں۔ وہاں وہ لڈڈو کھیلتی ہیں اور برادری کے باقی لوگوں سے بات چیت کرتی ہیں۔

عمر گزرنے کے ساتھ ان کا گزارا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

وہ کہتی ہیں ‘میں ایک بار میں 500 سے 700 روپے لیا کرتی تھی۔ اب مجھے ایک بار میں بمشکل 100 روپے ملتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ میری عمر ہو گئی ہے اور رقم کے لیے میں کچھ بھی کروں گی۔ مجھے دن میں تین یا چار گاہک ہی ملتے ہیں۔ میں اتنے پیسوں میں مشکل سے مکان کا کرایہ دیتی ہوں۔ جب عمر 50 سے زیادہ ہو جاتی ہے تو آپ صرف اللہ کے نام پر بھیک ہی مانگ سکتے ہیں۔’

جب مدھو نے پہلی بار خواجہ سرا ہونے کا اعتراف کیا تو انھیں ان کے بھائیوں نے بہت مارا پیٹا۔ انھیں خاندان کی طرف سے لعن طعن کا سامنا کرنا پڑا۔

وہ اپنی والدہ سے رابطے میں ہیں لیکن انھوں نے اپنی والدہ کو کبھی اپنا ذریعہ معاش نہیں بتایا۔

ان کا کہنا ہے ‘ماں کو لگتا ہے کہ میں معفلوں میں رقص کرتی ہوں۔ میں نے انھیں اپنے دوسرے پیشے کے بارے میں نہیں بتایا۔ میں شرمندہ ہوں۔ میں انھیں کبھی نہیں بتا سکتی۔’

خرم ایک خواجہ سرا ہیں جو خود کو ایک مرد کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ وہ گزشتہ پانچ سال سے نماز کی ٹوپی زیب تن کرتے ہیں اور انھوں نے داڑھی رکھی ہوئی ہے۔ اس سے پہلے ان کا نام صائمہ تھا اور وہ خواتین کے کپڑے پہنتے تھے مگر انھوں نے خواجہ سرا کی شناخت اس لیے چھوڑ دی تاکہ ان کا خاندان انھیں قبول کر سکے۔

انھوں نے اپنی ذاتی تصاویر کا آرکائیو اس خوف سے ختم کر دیا کہ کہیں کوئی واٹس ایپ پر ان کے خاندان کو صائمہ کی تصویر نہ بھیج دے۔

اب وہ اپنا وقت ریٹائرمنٹ ہوم میں اور خواجہ سرا افراد کے لیے کپڑے سی کر گزارتے ہیں۔ وہ کپڑے جو اب وہ خود کو پہننے کی اجازت نہیں دیتے۔

خرم کہتے ہیں ‘میں لمبے بال اور عورت کی طرح چلنے کو مِس کرتا ہوں۔ میری بھنویں اور کان ابھی بھی چھدے ہوئے ہیں لیکن بد قسمتی سے اب میں اس طرح نہیں رہ سکتا۔ آپ کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہاں ہمارے پاس اس قسم کی آزادی نہیں ہے۔ پاکستان میں آپ کے رہن سہن کو لے کر بہت سے پابندیاں ہوتی ہیں۔’

خرم نے اپنی طرزِ زندگی بدلنے کا فیصلہ سنہ2013 میں کیا جب ان کا ایچ آئی وی ٹیسٹ کا نتیجہ مثبت آیا۔

خواجہ سرا افراد کے ایچ آئی وی پازیٹو ہونے کے امکانات عام لوگوں سے 50 فیصد زیادہ ہیں۔ مانا جاتا ہے کہ برادری کے تقریباً پانچ فیصد افراد ایچ آئی پازیٹیو ہیں۔

اس کے ساتھ مزید رسوائی ہی ملتی۔ خرم کا کہنا ہے ‘میں خواتین کے کپڑے پہن کر ہسپتال نہیں جا سکتا تھا۔ مجھے زیادہ شرمندگی ہوتی۔’

وہ یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ ان کا ایچ آئی وی پازیٹیو ہونا غلط راستے پر چلنے کا نتیجہ ہے۔

وہ کہتے ہیں ‘میں نے اس وقت جو کچھ کیا، میں امید کرتا ہوں کہ اللہ مجھے معاف کر دے گا۔ آپ اپنے والدین کو ناخوش کر کے اچھی زندگی نہیں گزار سکتے۔

خرم مزید کہتے ہیں ‘محبت کی خواہش ہمیشہ رہتی ہے۔ میرے روپ یا رویے کے ذریعے سے اکثراوقات سائمہ باہر آتی رہتی ہے۔ لیکن میں اپنے خاندان کو خوش کرنا چاہتا ہوں اس لیے میں نے اپنی خواہشات کو دبا دیا ہے۔ آج میں خرم ہوں۔’

عاشی کا ریٹائرمنٹ ہوم خرم، مدھو اور ان جیسے دیگر افراد کو ایک ساتھ نجی وقت گزارنے کی اجازت دیتا ہے اور یہاں انھیں قبول کیا جاتا ہے۔ خوراک اور رہائش تو آغاز ہے مگر تیسری صنف کے لوگوں کا اپنی مرضی سے رہنا اور اہم محسوس کرنا واقعی انقلابی ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Translate »
Close
Close