fbpx

حضرت خواجہ غلام فرید

Khwaja Ghulam Farid
حضرت خواجہ غلام فریدؒ

           انیسویں صدی کے عظیم شاعر خواجہ غلام فرید 26 ذیقعد 1261ھ بمطابق 1845ء میں خان پور تحصیل کے قصبہ چاچڑاں میں پیدا ہوائے۔

Khwaja Ghulam Farid
Khwaja Ghulam Farid

آپ کے والد خواجہ خدا بخش المعروف خواجہ محبوب الہٰی نے آپ کا نام خورشید عالم رکھا۔ بعدازاں بابا فرید گنج شکر کی نسبت سے آپ کو غلام فرید کا نام دیا گیا اور یہی نام آپ کا اصلی نام بن گیا۔
پنجاب میں چشتی تعلیمات کے احیاء کا سہرا خواجہ نور محمد مہاروی کے سر ہے۔ ان کی جدوجہد سے پنجاب کے مغربی علاقے چشتی تعلیمات کے مراکز بن گئے۔ان مراکز میں تونسہ شریف اور مٹھن کوٹ انتہائی اہم مرکز تھے۔

مٹھن کوٹ کے مرکز کے نگران خواجہ محمد عاقل تھے۔ وہ خواجہ نور محمد مہاروی کے واجب الاحترام خلیفہ اور خواجہ غلام فرید کے جدامجد تھے۔

خواجہ محمد عاقل کا انتقال 1229ھ کو ہوا۔ ان کے صاحبزادے میاں احمد علی سجادہ نشین ہوئے۔ کچھ ہی عرصے بعد 1239ھ کو وہ انتقال کر گئے۔ اس کے بعد خواجہ خدا بخش جانشین ہوئے۔ اپنے بزرگوں کی طرح وہ بھی ظاہری اور باطنی علوم میں ماہر تھے۔

Khwaja Ghulam Farid
Khwaja Ghulam Farid

سکھوں کے عہد میں بھاول پور ریاست کا نواب انہیں مٹھن کوٹ سے اپنی ریاست میں لے آیا۔ یہاں خواجہ خدا بخش نے دریائے سندھ کے مشرقی کنارے پر قصبہ چاچڑاں میں رہائش اختیار کر لی۔ اس مرجع خلائق بزرگ کا انتقال 26 نومبر 1845ء کو ہوا۔ اس وقت خواجہ غلام فرید کی عمر آٹھ برس تھی۔

خواجہ خدا بخش محبوب الہٰی کی وفات کے بعد خواجہ غلام فرید کے بڑے بھائی خواجہ غلام فخرالدین گدی نشین ہوئے۔ انہوں نے اپنے چھوٹے بھائی کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دی۔

خواجہ غلام فرید کے لڑکپن کا ایک حصہ ڈیرہ نواب صاحب میں نواب بھاول پور صادق محمد خان عباسی کے محل میں بسر ہوا۔ عنفوان شباب میں ظاہری علوم کی تکمیل سے قبل ہی آپ نے اپنے بڑے بھائی خواجہ غلام فخرالدین کے ہاتھ پر بیعت کرلی۔

آپ نے سولہ برس کی عمر میں ظاہری تعلیم سے فراغت پائی اور پھر باطنی علوم کے حصول کے لیے ریاضتوں میں مصروف ہوگئے۔ اس عمل میں انہیں اپنے برادر  اور مرشد کی رہنمائی حاصل تھی۔

خواجہ غلام فرید اٹھائیس برس کے ہوئے ہی تھے کہ آپ کے برادر و مرشد کا انتقال ہو گیا اور آپ کو سلسلہ مشیخیت کی گدی پر بٹھا دیا گیا۔ آپ کی شخصیت نئی صورت سے عہدہ برآ ہونے کے لیے پوری طرح تیار نہیں تھی۔

سو آپ گوشہ نشینی کی طرف مائل ہو گئے۔ اسی دوران خواجہ صاحب حج بیت اللہ پر جاتے ہوئے بہت سے شہروں میں ٹھہرے اور لوگوں سے ملاقات کرتے رہے۔ ان شہروں میں ملتان، لاہور، جے پور اور اجمیر شریف کا نام آتا ہے۔

اجمیر شریف میں آپ کی دستار بندی بھی کی گئی۔  بھائی اور مرشد کی وفات کے کچھ عرصہ بعد آپ نے روہی کا رخ کیا اور کم و بیش اٹھارہ سال تک چولستان میں رہے۔

خواجہ غلام فرید کی شاعری پر مبنی دیوان فرید کی پہلی دفعہ اشاعت 1882ء میں ہوئی۔ 1901ء میں آپ کی وفات ہوئی۔

khawaja ghulam farid dewan e fareed
khawaja ghulam farid dewan e fareed

 سرائیکی زبان کے عظیم شاعر خواجہ فریدؒکی شاعری کا کینوس کائنات کے وسیع تر منظر میں پھیلے ہوئے ان گنت موضوعات کا منظر نامہ پیش کرتا ہے ۔

زندگی کے معاملات کا کوئی زاویہ ایسا نہیں جس کا احاطہ ان کی شاعری میں نہ کیا گیا ہو ۔ اس حوالے سے خواجہ فریدؒ کے ہاں فکری اعتبار سے ایسا تنوع موجود ہے جو ان کے علاوہ کسی دوسرے شاعر کے ہاں دکھائی نہیں دیتا ۔خواجہ فریدؒ کی کافیوں کا مطالعہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ان کے ہاں لفظ و معنی کا ایک اور ہی جہاں آباد ہے ۔ اس تنا ظر میں انہوں نے جو علامتی اور استعاراتی نظام تخلیق کیا  ہے اس کی اساس انکے اپنے وسیب پر ہے اور اس وسیب کا پورا عکس ان کے  اسلوب و بیان کی توانائی اور رعنائی کے ساتھ ابھرا ہے

خواجہ غلام فرید عرس
خواجہ غلام فرید عرس

خواجہ غلام فرید کو دنیا شیخ و پیر سے زیادہ ایک باکمال شاعر کے طور پر جانتی ہے۔ ان کے نظریات اور خیالات کی حقیقی جھلک بھی شاعری میں ہی ملتی ہے۔ ان کی شاعری کے معنی و تجزیہ سے پہلے ان کی زندگی کے حالات اور ان کے اردگرد پھیلے ہوئے سیاسی و سماجی حالات کی جانکاری انتہائی ضروری ہے۔

خواجہ غلام فرید کی شاعری میں  پوری طاقت سے بہتا ہوا دھارا بابا فرید گنج شکر اور ان کے بعد آنے والے شاعروں کے خیالات کا ہے۔ ہر جوش و جودی نظریات کے اس دھارے میں ظاہری عبادات اور شرعی احکامات کی تعمیل سے زیادہ انسانی برابری، پیار اور آپسی امن پر زور دیا جاتا تھا۔ وہ شریعت سے زیادہ طریقت کی طرف مائل تھے۔

خواجہ غلام فرید
خواجہ غلام فرید

خواجہ غلام فرید کی زندگی برطانوی سامراج کے دور میں بسر ہوئی۔ اسی سامراجی تسلط کے دور میں معروف شاعر میاں محمد بخش اور علامہ اقبال کی زندگی بھی بسرہوئی۔ مجموعی طور پر یہ دور وجودی خیالات سے انحراف کا دور تھا۔

خواجہ غلام فرید اسی دور میں دانشور اور شاعر تھے۔ جو وجودی خیالات کا اظہار کررہے تھے۔ ابنِ عربی اور منصورملاج ان کے ہیرو تھے۔ وہ ظاہری عقائد و عبادات سے انحراف کرتے ہوئے ملتے ہیں۔ عشق اور پیار کا ان کی شاعری میں بھرپور اظہار موجود ہے۔
دوسری طرف خواجہ صاحب اعلیٰ طبقہ سے تعلق رکھتے تھے اور ریاست بھاول پور کے حاکم طبقہ سے آپ کے قریبی تعلقات تھے۔ ایک  شاعر ہوتے ہوئے بھی آپ نے پیری کی گدی کو قبول کیا تھا۔

نو

گدی نشین
گدی نشین

اب نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی تھی گویا آپ حاکمِ اعلیٰ سے بھی برتر حیثیت رکھتے تھے۔  خواجہ صاحب  برطانوی  سامراجی تسلط کے خلاف تھے۔ ۔ اسی لئے  اپنے مرید صادق محمد خان عباسی کو اپنی شاعری کے ذریعے نصیحت فرمائی کہ
                            اپنی جھوک کوں آپ وسا 
                                 پٹ انگریزی ٹھانے                                                

ساتھ ہی ان کی شاعری میں دکھ، بے بسی اور وچھوڑے کے گہرے تاثرات ملتے ہیں۔  خواجہ صاحب کی شاعری میں بے حد موسیقیت پائی جاتی ہے۔ بیسویں صدی کے بڑے گلوکاروں نے آپ کی شاعری کو سب سے زیادہ گایا ہے اور اب تک گاتے چلے جارہے ہیں۔

خواجہ فریدؒ نے سات زبانوں میں شاعری کی ہے مگر سب سے زیادہ پذیرائی انکے سرائیکی کلام کو ملی ہے ۔ حضرت خواجہ فرید کے پائے کا شاعر سوسال بعد بھی سرائیکی وسیب میں پیدا نہیں ہوا ۔

 Khwaja Ghulam Farid

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Translate »
Close
Close