fbpx

کتے کے کاٹے سے زخمی بچے کی ویڈیو سندھ میں وائرل، حقیقت کیا ہے؟

پاکستان کے سوشل میڈیا پر کتے کے کاٹنے کے شکار ایک بچے کی ویڈیو وائرل ہوگئی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک مریض ہسپتال کے بیڈ پر موجود ہے اور کتے کی طرح آوازوں نکال رہا ہے۔

بدھ کو جاری ہونے والی اس ویڈیو کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا کہ یہ صوبہ سندھ کے کسی علاقے کی ہے اور اسی بنیاد پر اسے واٹس ایپ گروپس، فیس بک اور ٹوئٹر پر شیئر کیا گیا۔

ویڈیو میں کیا ہے؟

ایک منٹ 22 سیکنڈ کی اس ویڈیو میں سات سے آٹھ سال کی عمر کا بچہ ہسپتال کے صاف ستھرے بستر پر لیٹا ہوا نظر آتا ہے۔

مردانہ آواز میں اس سے نام معلوم کیا جاتا ہے اور تھرمامیٹر سے جسم کا درجہ حرارت بھی چیک کیا جاتا ہے۔ ویڈیو کے دوران بچہ زبان باہر نکال کر ہونٹوں پر پھیرتا رہتا ہے اور کتے جیسی آوازوں نکالتا ہے۔

اس ویڈیو کی بنیاد پر سندھ کے محکمہ صحت اور صوبائی حکومت پر تنقید کی گئی کہ وہ بچوں کو بچانے میں ناکام ہوئی ہے اور ہسپتالوں میں ویکسین دستیاب نہیں۔.

ویڈیو کی حقیقت؟

محکمہ صحت کی جانب سے گذشتہ شام ایک وضاحتی بیان جاری کیا گیا ہے جس میں بتایا گیا کہ متعلقہ ویڈیو کی جانچ کے لیے اسے محکمہ صحت کے تمام ضلعی افسران کو بھیجا گیا ہے۔

انھوں نے وضاحت کی ہے کہ یہ ویڈیو کراچی یا سندھ کے کسی اور شہر کی نہیں کیونکہ اس قسم کے بستر اور اس پر موجود چادریں یہاں کہیں بھی زیرِ استعمال نہیں۔

محکمہ صحت کی اس وضاحت کی تحقیق کی گئی تو معلوم ہوا کہ یہ ویڈیو یوٹیوب پر موجود ہے۔ اسے 24 ستمبر کو انڈیا سے اپ لوڈ کیا گیا تھا۔

اس وقت یہ ویڈیو تیلگو سماچار، دی وائرل، ٹرو وائرل انڈیا، انٹر نیشنل ہومیوپیتھی کلینک اور دی وائرل درشن سمیت ایک درجن کے قریب انڈین یوٹیوب چینلز پر موجود ہے۔ بعض اکاؤنٹس نے تو اس ویڈیو کو ایڈٹ بھی کیا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ ویڈیو یوٹیوب سے پہلے ٹوئٹر پر عاشر اوم پرکاش کے اکاؤنٹ نے 23 ستمبر کو شیئر کی تھی۔

انڈیا کی اس ویڈیو کو اس لیے بھی فروغ حاصل ہوا کیونکہ 18 اکتوبر کو شکارپور کا ایک 10 سالہ بچہ کتے کے کاٹنے کی ویکسین کی عدم دستیابی کی وجہ سے ہلاک ہوگیا تھا۔

میر حسن نامی اس بچے کی بھی آخری وقت کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی۔ میر حسن کی ویڈیو وائرل ہونے پر پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلال بھٹو کو سوشل میڈیا پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

ویکیسن کی عدم دستیابی

پاکستان میں اینٹی ریبیز ویکسین انڈیا سے درآمد کی جاتی تھی تاہم انڈین حکومت نے مقامی ضروریات کے پیش نظر اس کی برآمد پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

صوبائی حکومت نے وفاق سے مطالبہ کیا ہے کہ صوبے کو مطلوبہ ویکسین فراہم کی جائیں۔

وزیر صحت سندھ کا کہنا ہے کہ ’حکومت چین کی جس کمپنی سے خریداری کرتی تھی وہ کمپنی بند ہو گئی ہے کیونکہ چین میں ریبیز کو کنٹرول کرلیا گیا ہے جبکہ انڈیا سے کشمیر کی صورتحال کی وجہ سے درآمد نہیں کر سکتے۔‘

فوکل پرسن جاوید احمد بھٹو کا کہنا ہے اس کی وجہ سے جو ویکسین 600 روپے میں ملتی تھی وہ اب 1200 روپے کی ہو گئی ہے۔

ویکسین کی مقامی تیاری

کتے کے کاٹنے کی ویکسین نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ میں بھی تیار کی جاتی ہے۔

ویکسین کی عدم دستیابی کا معاملہ سندھ ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے جہاں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ نے آگاہ کیا ہے کہ رواں سال کتے کے کاٹنے کی ویکسین کے 2 لاکھ ڈوز بنائے گئے۔

یہ ویکسین صوبوں کی جانب سے طلب کرنے پر تیار کی جاتی ہیں اور انھیں حاصل کرنے کے لیے پچاس فیصد ایڈوانس ادائیگی کرنی ہوتی ہے۔

ادارے کے مطابق سیکریٹری صحت کی درخواست پر حکومت سندھ کو بغیر ایڈاونس 2500 ڈوز فراہم کیے گئے ہیں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Translate »
Close
Close