fbpx

کوٹسمابہ

ٹاون کمیٹی (کوٹ سمابہ)

کوٹ سمابہ کا شہر رحیم یار خان کے شمال مشرق میں شاہی روڈ پر تقریباً 25 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس کی بنیاد علی مراد خان پرجانی کے بیٹے سمابہ خان پرجانی نے 1754ءمیں رکھی تھی۔ شہر کے گرد ایک فصیل بھی تعمیر کی گئی تھی۔ جو بعد میں منہدم ہو گئی۔ واضح رہے کہ علی مراد خان پرجانی ترنڈہ علی مراد خان کے بانی اور وسیع سٹیٹ کے مالک تھے۔ سٹیٹ گزیٹیئر بہاولپور میں ہے کہ کوٹ سمابہ اور اس سے ملحقہ علاقہ سمابہ خان کے پوترے ، پوتے منوں خان پرجانی کو بطور جاگیر عطا ہوا تھا۔ جب اس نے نواب بہاول خان چہارم کے خلاف بغاوت کی تو اس سے یہ علاقہ چھین لیا گیا۔ 1906ءمیں کوٹ سمابہ کی آبادی 1269 نفوس بیان کی گئی ہے۔ جس کی اکثریت ہندووں پر مشتمل تھی۔ قیامِ پاکستان کے بعد ہندو بھارت نقل مکانی کرگئے توکچھ مہاجرین یہاں آکر آباد ہوگئے۔ 1979ءمیں اس شہر کو ٹاون کمیٹی کا درجہ دیا گیا۔ مین ریلوے لائن پر اسٹیشن بھی واقع ہے۔ 1998ءکی مردم شماری کے مطابق کوٹ سمابہ کی آبادی 20,332 افراد پر مشتمل ہے۔ جن میں 10,409 مرد اور 9,923 خواتین ہیں۔ 1981ءکی مردم شماری سے 1998ءتک سالانہ شرح اضافہ 5.04% ہے۔کیونکہ یہ قصبہ رحیم یار خان اور خان پور کے عین درمیان شاہی روڈ پر واقع ہے۔ لہٰذا گزشتہ سالوں میں یہاں نئی کالونیاں آباد ہوئی ہیں اور دیہات سے کافی لوگوں نے یہاں نقل مکانی کی ہے۔2008ءمیں اس کی آبادی 30579 ہوگئی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Translate »