لالہ محمود , محمود سٹیڈیم اور جمالدین والے کے مخدوم

ہندل نامہ

لالہ محمود , محمود سٹیڈیم اور جمالدین والے کے مخدوم

گزشتہ دنوں جمالدین والی کے مخدوم زادے نے پنجاب اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے محمود سٹیڈیم کی جگہ کو اپنے خاندان کی جانب سے تحفہ/عطیہ قرار دیا تھا تب میں نے ایک آرٹیکل لکھا جس پر کافی دوستوں نے لالہ محمود اور محمود سٹیڈیم کے بارے میں مزید معلومات کا تقاضہ کیا
تو پیش خدمت ہیں تھوڑی مزید معلومات اور ساتھ ہی ساتھ تمام صحافی برادری اور سول سوسائیٹی سے ایک اپیل بھی
زیر نظر تصویر لالہ محمود کاہلوں کی ہے جو 1940 کی دہائی میں بدوملہی سیالکوٹ سے رحیم یار خان آئے اور ہندوؤں سے محمود سٹیڈیم اور جیل والی جگہ پر ایک مربع اراضی خریدی
لالہ محمود کا خاندان آج بھی 111 چک مشرقی (جیل والی) میں مقیم ہے
لالہ محمود نے اپنی الاٹ شدہ جگہ کا فوری قبضہ حاصل کر لیا اور پاکستان بننے کے بھی چند سال یہاں کاشتکاری بھی کرتے رہے
محمود سٹیڈیم کرکٹ گراؤنڈ اور جم وغیرہ والا حصہ اور فٹبال و ہاکی گراؤنڈ والا کچھ حصہ لالہ محمود کی ملکیت تھا جو انہوں نے سٹیڈیم کیلئے عطیہ کیا اور اسی بنا پر محمود سٹیڈیم کا نام ان کے نام سے منسوب کیا گیا
فٹ بال گراؤنڈ اور ہاکی گراؤنڈ ہسپتال روڈ کے ساتھ والا حصہ جو کہ انہی ہندوؤں کی ملکیت تھا اور پاکستان بننے کے بعد مرحوم صمدانی خان ایڈوکیٹ کو انکی ہوشیار پور انڈیا میں موجود اراضی کے بدل میں کلیم الاٹ ہوئی تھی جس کا قبضہ وہ حکومت سے حاصل نہ کر سکے اور بعد ازاں ان کی فیملی نے قبضہ کیلئے کیس کیا جو ماتحت عدالتوں سے انکے حق میں مارکیٹ پرائس ادا کرنے کے حکم سے ایوارڈ ہوا اور آج بھی ان کا کیس شاید سپریم کورٹ میں چل رہا ہے کیونکہ اس دوران اس جگہ پر سٹیڈیم اور جیل بن چکی تھی
جیل کی بقیہ جگہ بھی لالہ محمود کی ملکیت تھی اور آج بھی جیل کی اطراف میں شیشم و دیگر قدیم درخت بھی لالہ محمود ہی کے ہاتھوں کے لگے ہوئے ہیں اور یہ جگہ لالہ محمود سے حکومت نے جیل کیلئے Acquire کی تھی
سٹیڈیم کی مشرقی جانب جہاں ڈسٹرکٹ ہسپتال جو آج کا شیخ زید ہسپتال ہے اور پرانے ہسپتال کا کچھ حصہ , وہ ساری جگہ درانی خاندان کی ملکیت تھی جو حکومت نے ہسپتال بنانے کیلئے درانی خاندان سے Acquire کی تھی
ان تمام معلومات کی تصدیق کیلئے ریونیو ریکارڈ گواہ ہے کوئی بھی شہری ان حقائق کی تصدیق کر سکتا ہے
غرض یہ کہ محمود سٹیڈیم اور اس کے اطراف میں پاکستان بننے کے بعد اور پہلے جمالدین والی کے مخدوم خاندان کا ایک مرلہ زمین بھی کبھی نہیں رہی تو انہوں نے سٹیڈیم کیلئے جگہ عطیہ کہاں سے کرنی تھی
اب آخر میں صحافی برادری , سول سوسائٹی و اہلیان رحیم یار خان سے اپیل ہے کہ غیور قومیں کبھی اپنے محسنوں کو بھولا نہیں کرتیں
جس عظیم انسان کی عطیہ کی ہوئی جگہ پر ہماری کئی نسلیں مستفید ہوتی رہیں اور جہاں اپنے شہر کا نام روشن کرنے والے کرکٹر , فٹبالر , ہاکی کے کھلاڑی , پہلوان , باڈی بلڈر , بیڈمنٹن اور کراٹے تائیکوانڈو کے کھلاڑی تیار ہوتے رہے , اپنے اس محسن لالہ محمود کے نام کو زندہ رکھا جائے
چونکہ اب اس جگہ پر میڈیکل کالج بن چکا ہے تو کیوں نا اس میڈیکل کالج کے کسی بلاک یا وارڈ کا نام لالہ محمود مرحوم کے نام پر رکھ کر اپنے شہر کے اس محسن کے نام کو تاریخ میں زندہ رکھا جائے
نہیں تو کل کو کوئی اور مخدوم , چوہدری یا لغاری مزاری اسی طرح کے دعوے کرتا رہے گا کہ یہ جگہ ہم نے عطیہ تھی
اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Translate »
Close
Close